صارفین کی سہولت کا پورٹل
مزید دیکھیں
ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن (ایس بی پی – بی ایس سی) کو جنوری 2002ء میں ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپورپشن آرڈیننس 2001ء کے تحت اسٹیٹ بینک کے کُلی ملکیتی ذیلی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔
ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن مرکزی بینک کے آپریشنل بازو کے طور پر کرنسی کے انتظام، زرمبادلہ کے آپریشنز اور زرمبادلہ کی ایجوڈیکیشن کرتا ہے؛ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اسٹیٹ بینک کی ضابطہ کاری میں شامل مالی اداروں کو بینکاری خدمات فراہم کرتا ہے، اسٹیٹ بینک کے ترقیاتی مالی گروپ کی معاونت کے تحت ترقیاتی مالی سرگرمیوں کا انعقاد، برآمدات کی نومالکاری اسکیموں پر عملدرآمد کرتا، اور ایجنسی وظائف سے عہدہ برا ہوتا ہے جیسے قومی انعامی بانڈز کی خریدوفروخت بشمول انعامی رقم کی قرعہ اندازی، قومی بچت اسکیموں کی خریدو فروخت یا بینک دولت پاکستان کی جانب سے تفویض کردہ کوئی اور کام کرتا ہے۔
ایس بی پی بی ایس سی آرڈیننس 2001ء کی شق (1) 7 کے مطابق، ایس بی پی بی ایس سی کے معاملات اور کاروبار کی عمومی نگرانی، رہنمائی اور انتظام نیز اس کے آپریشنز کے لحاظ سے مجموعی پالیسی سازی کا اختیار بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے پاس ہے جو تمام اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے وہ تمام امور سرانجام دیتے ہیں جو ایس بی پی بی ایس سی کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ اپنے وظائف کی انجام دہی کرتے ہوئے بورڈ اسٹیٹ بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ احکامات اور ہدایات کی تعمیل کو یقینی بناتا ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) ایس بی پی بی ایس سی کے منتظمِ اعلیٰ ہیں اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے بینک کے معاملات کنٹرول کرتے ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر کو کاروبار چلانے اور بینک کے امور کے انتظام کا اختیار حاصل ہے سوائے ان معاملات کے جو، بالخصوص بورڈ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ ڈائریکٹرز اور چیف منیجرز کی ایک جماعت منیجنگ ڈائریکٹر کی معاونت کرتی ہے، جیسا کہ درج بالا تنظیمی نقشے میں ظاہر کیا گیا ہے۔
یکم جولائی 2025ء
فیلڈ دفاتر عموماً ذیل کی بینکاری خدمات فراہم کرتے ہیں:
مزید براں، نوٹوں/ کرنسی کے اجرا سے متعلق امور کے مناسب و مؤثر انتظام کے لیے بینک کے کرنسی کے اجرا کے چار سرکل دفاتر موجود ہیں۔
:دفاتر کا مقام اور ان کی جغرافیائی حدود حسبِ ذیل ہیں
| # | کرنسی کے اجرا کے سرکل دفاتر | ہر سرکل کی جغرافیائی حدود |
|---|---|---|
| 1 | کراچی | صوبہ سندھ |
| 2 | لاہور | صوبہ پنجاب بشمول آزاد جموں و کشمیر حکومت |
| 3 | پشاور | صوبہ خیبر پختونخوا اور حکومتِ گلگت بلتستان |
| 4 | کوئٹہ | صوبہ بلوچستان |