مشن
پاکستان کی جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تکنیکی طور پر جدید مالیاتی نظام کے ساتھ قیمت اور مالی استحکام کو برقرار رکھیں۔
بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کے تحت قائم کردہ ایک کارپوریٹ ادارہ ہے، جو اسے بطور مرکزی بینک کام کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ایس بی پی ایکٹ 1956ء (ترمیم شدہ 28 جنوری 2022ء) کے تحت بینک کا بنیادی مقصد ملک میں قیمتوں کے استحکام کا حصول اور انھیں برقرار رکھنا ہے۔ بینک کے بنیادی مقصد کو متاثر کیے بغیر، بینک پاکستان کے مالی نظام کے استحکام میں بھی حصہ ڈالے گا۔ مذکورہ مقاصد کے علاوہ، بینک حکومت کی عمومی اقتصادی پالیسیوں کی معاونت کرے گا تاکہ پاکستان کے پیداواری وسائل کی تیار اور بھرپور استعمال میں مدد ملے۔
مشن
پاکستان کی جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے تکنیکی طور پر جدید مالیاتی نظام کے ساتھ قیمت اور مالی استحکام کو برقرار رکھیں۔
وژن
قابل بھروسہ، متحرک اور خودمختار مرکزی بینک، ایک اعلیٰ صلاحیت کی ٹیم کے ساتھ، پاکستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
بینک دولت پاکستان آرڈر 1948ء کے تحت بینک کو یہ فرائض سونپے گئے کہ وہ " بینک نوٹ کے اجرا کو منضبط کرے اور پاکستان میں زری استحکام کے حصول کے لیے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھے، نیز عمومی طور پر ملک کے مفاد میں اس کی کرنسی اور قرضوں کا نظام چلائے "۔
12 مئی 1948ء کو بینک دولت پاکستان آرڈر کے نفاذ اور پاکستان (مانیٹری سسٹم اور ریزرو بینک) آرڈر، 1947ء کے ترمیمی آرڈر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ، 1956ء کی شکل میں ایک جامع قانون سازی کے لیے بنیاد فراہم کی، جس سے بینک کی سرگرمیوں کا دائرہ خاصا بڑھ گیا۔
اگرچہ آئین پاکستان میں اسٹیٹ بینک سے متعلق مخصوص دفعات موجود ہیں، تاہم اسٹیٹ بینک بنیادی طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ، 1956ء (ترمیم شدہ 28 جنوری 2022ء) کے مطابق تفویض کردہ اختیارات استعمال کرتا ہے۔
ایس بی پی ایکٹ:
اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے وظائف درج ذیل سے منضبط اور متعین ہوتے ہیں:
بینک کی بنیادی ذمہ داریوں کو ایس بی پی ایکٹ کے سیکشن 4(c) میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:
زری پالیسی کمیٹی دس ارکان پر مشتمل ہوگی: گورنر (چیئرپرسن)، اسٹیٹ بینک کے تین سینئر ایگزیکٹوز جن کو گورنر نامزد کریں گے ، بورڈ کے تین ارکان جن کو بورڈ نامزد کرے گا ،اور تین بیرونی ارکان جن کا تقرر بورڈ کی سفارش پر وفاقی حکومت کرے گی۔
زری پالیسی کمیٹی کے اختیارات اور وظائف اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ، 1956ء (ترمیم شدہ 28 جنوری 2022ء(میں یوں بیان کیے گئے ہیں:
بینک کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے زری پالیسی کمیٹی درج ذیل کام کرے گی :
ایس بی پی ایکٹ، 1956ء (ترمیم شدہ)کے تحت مجلسِ عاملہ (ایگزیکٹوکمیٹی) ان افراد پر مشتمل ہوگی: گورنر، ڈپٹی گورنرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، اور ضرورت ہو تو دیگر سینئر حکام۔ مجلسِ عاملہ کے فیصلوں پر ووٹ دینے کا حق گورنر اور ڈپٹی گورنرز کو ہوگا۔ فیصلہ کُن ووٹ گورنر کاہوگا۔ مزید برآں، مجلسِ عاملہ کو بینک کے بنیادی وظائف سے متعلق پالیسیاں تشکیل دینے کے اختیار کے ساتھ ساتھ انتظامی امور سے متعلق پالیسیاں بنانے کا بھی اختیار ہوگا، ماسوائے اُن امور کے جو زری پالیسی کمیٹی، یا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، اور بورڈ کی طرف سے بینک کے امور انجام دیتے ہیں۔ گورنر کو صدرِ پاکستان پانچ سال کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ اس مدت میں ایک بار توسیع کی جا سکتی ہے۔ گورنر کی معاونت تین ڈپٹی گورنر کرتے ہیں جنہیں وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے۔ ڈپٹی گورنر کی مدت پانچ سال ہے۔ اس مدت میں ایک بار توسیع کی جا سکتی ہے۔ گورنر اور ڈپٹی گورنرز کے علاوہ بینک کی انتظامی ہیئت میں ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹرز شامل ہیں جو اپنے متعلقہ شعبوں کی نگرانی کرتے ہیں۔