مالی استحکام

مالی استحکام کے بارے میں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالی شعبے کے استحکام کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک مرکزی بینک، بینکاری نظام کے نگران اور مالی تصفیہ اتھارٹی کے طور پر، اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے مالی نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرے۔ نتیجتاً، ایک مضبوط اور مستحکم مالی نظام زری اور قیمتوں کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے، جو شمولیتی اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے، اسٹیٹ بینک نے نگرانی کے چھوٹے محتاطیہ آلات (جو انفرادی اداروں کی مضبوطی پر توجہ دیتے ہیں) اور بڑے پیمانے پر محتاطیہ پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے، جس کا ہدف پورے نظام میں موجود خطرات کا پیشگی جائزہ لینا اور انہیں کم کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا شعبہ مالی استحکام بڑے پیمانے کے محتاطیہ پالیسی فریم ورک کی تشکیل اور اس کے نفاذ میں معاونت کا ذمہ دار ہے۔ یہ شعبہ مالی استحکام کا جامع جائزہ لیتا، اہم نظامیاتی خطرات کا اندازہ لگاتا، اور ان خطرات سے نمٹنے کےلیے زیرِ ضابطہ مالی اداروں کی مضبوطی کی جانچ کرتا ہے۔ یہ متعلقہ پالیسی سفارشات بھی تیار کرتا ہے۔ بحران کے لیے تیار رہے کے افعال کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کے اندر اور باہر بڑے پیمانے کے مختلف محتاطیہ پالیسی اقدامات کے لیے رابطہ کاری بھی کرتا ہے۔

مالی استحکام اس حالت کی عکاسی کرتا ہے جس میں مالی نظام - مالی ثالث، مالی منڈیاں، اور مالی منڈی انفراسٹرکچر - منظم اور قابل بھروسہ انداز سے بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان فنڈز کے ہموار بہاؤ میں مدد دیتا ہو۔ مالی شعبہ اس وقت مستحکم سمجھا جاتا ہے جب مالی ادارے عموماً یہ خصوصیات رکھتے ہوں:

  • مالی ثالثی کے عمل کو مؤثر طریقے سے انجام دینا اور مالی طور پر اس حد تک مستحکم ہونا کہ اپنے واجبات کی منظم انداز سے ادائیگی کر سکیں
  • اپنے خطرات کی مؤثر شناخت، انتظام اور لاگت طے کرنا؛ اور
  • شدید معاشی دھچکے کو برداشت کرنے کی سکت ہونا۔

مالی نظام کا استحکام اس کے لیے اہم ہے:

لوڈ ہو رہا ہے…

اچھی طرح سے کام کرنے والی معیشت میں مالی نظام کی اہمیت کے پیش نظر، مالی نظام کے استحکام کو یقینی بنانا دنیا بھر کے مرکزی بینکوں اور ضوابطی اتھارٹیز کی اہم ذمہ داری بن کر ابھری ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ ضرروی ہے کہ مرکزی بینک اُن کمزوریوں کی پیشگی نشاندہی اور انہیں دور کریں جو وقت کے ساتھ ساتھ اداروں میں پیدا ہو سکتی ہیں، تاکہ مالی اداروں کی اصابت کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے اور معیشت کے دیگر حصوں کے لیے اِن خطرات اور رکاوٹوں کو محدود کیا جا سکے۔

SBP ایکٹ کا دیباچہ اور سیکشن4B واضح طور پر پاکستان کے مالی نظام کے استحکام کو اسٹیٹ بینک کے کلیدی مقاصد میں سے ایک قرار دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں قیمتیں مستحکم رکھنا بنیادی ہدف بیان گردانتا ہے۔ مزید یہ کہ، ایکٹ کا سیکشن 4C(j)، دوسروں کے ساتھ ساتھ، اسٹیٹ بینک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وپ وہ اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے کے محتاطیہ آلات استعمال کرسکیں، اور اس کے لیے اسٹیٹ بینک نے بڑے پیمانے کا محتاطیہ پالیسی فارم ورک بھی تشکیل دیا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا اسٹریٹجک پلان 2023-28ء مالی استحکام کے فریم ورک کی مضبوطی کو ایک کلیدی ہدف بنانے پر بھی زور دیتا ہے۔

مالی نظام کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بالعموم، اور بینکاری شعبے کے لیے بالخصوص، اسٹیٹ بینک میں ایک وسیع نظام قائم کیا گیا ہے، جو درج ذیل پر مشتمل ہے:

  • ضوابطی معیارات اور ضوابطی معیارات اور رہنما خطوط، کم از کم محتاطیہ تقاضوں کا تعین اور تناسب کے اصول کے تحت ضوابطی اداروں کی طرف سے لاگو کی جانے والی بہترین روایات کا تعین کرنا؛
  • • خطرے پر مبنی نگرانی فریم ورک جو زیرِ ضابطہ اداروں کی کارکردگی اور اضابت کی پیشگی نگرانی کرتا ہے اور نگرانی کے حوالے سے بھی خدشات کو ابتدائی مرحلے میں دور کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرتا ہے۔ مزید برآں، اس نظام کو اضافی حفاظتی حصار یعنی قرض خواہ کا آخری سہارا(lender of the last resrot) سے تقویت ملتی ہے،یا ہنگامی سیالیتی امداد کی سہولت اور ڈپازٹ پروٹیکشن سسٹم، نیز بینک حل اور بحران کے انتظام کا طریقہ کار؛
  • ضوابطی اور نگرانی کے نظام کو بڑے پیمانے پر محتاطیہ پالیسی فریم ورک سے مکمل کیا جاتا ہے جو نظامی خطرات کا جائزہ لیتا ہے (جو دونوں وقتی پہلوؤں یعنی کاروباری سائیکلز کی حرکیات کے ساتھ ساتھ مجموعی سطح پر کراس سیکشنل اور ساخت پہلوؤں سے متعلق ہیں)۔ اس جائزے کے نتائج ان خطرات کو کم کرنے کے لیے ضوابطی معیارات میں شامل ہوتے ہیں۔ شعبہ مالی استحکام بینکاری اور مالی شعبے کی بڑے پیمانے پر محتاطیہ نگرانی انجام دیتا ہے اور بڑے پیمانے پر محتاطیہ نگرانی کے مختلف اقدامات پر رابطہ کاری کرتا ہے۔

پاکستان کے مالی نظام کی ساخت

پاکستان کا مالی شعبہ بنیادی طور پر بینکاری اداروں، ترقیاتی مالی اداروں (DFIs)، مائیکروفنانس بینکوں (MFBs)، نان بینک مالی اداروں (NBFIs)، بیمہ فرموں، مالی منڈیوں، اور مالی منڈی انفراسٹرکچرز پر مشتمل ہے۔ مالی اداروں کی نگرانی اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے سپرد ہے۔ تفصیلی ساخت ذیل میں درج ہے۔

پاکستان کے مالی شعبے میں بڑا حصہ بینکوں کا ہے، جو مالی شعبے کی اساس سرمایہ میں سب سے زیادہ حصے کی بنیاد پر ہے، نیز، بینک ثالثی کے عمل اور ملکی نظامِ ادائیگی دونوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا، ملک کے مجموعی مالی اور معاشی استحکام پر بینکاری شعبے کی مضبوطی کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جون 2024ء کے اختتام پر مالی شعبے کے اثاثوں کے اجزائے ترکیبی

ماخذات: ایس بی پی ایس ای سی پی اور قومی بچت کا مرکزی ڈائریکٹوریٹ

مالی استحکام کے جائزے

مطبوعات: میعادی جائزے، رپورٹس اور سروے

اسٹیٹ بینک نظامیاتی نقائص اور مالی شعبے اور حقیقی معیشت کو دھچکوں کی منتقلی کے ذرائع کا جائزہ لیتا ہے۔ پالیسی فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، ان جائزوں کے بارے میں مختلف مطبوعات اور ڈیٹا کمپینڈیم کے ذریعے مارکیٹ کو بھی مطلع کیا جاتا ہے، جس کی تفصیل ذیل میں بیان کی گئی ہے:

  • مالی استحکام کا جائزہ
    • مالی استحکام کا جائزہ (FSR) مالی استحکام کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی اہم مطبوعہ ہے جسے ایس بی پی ایکٹ 1956ء (جنوری 2022ء میں ترمیم شدہ) کے سیکشن39 کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے ۔ اس جائزے میں پاکستان کے مالی شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں بینکاری شعبہ، مائیکروفنانس بینک (MFBs)، نان بینک مالی ادارے (NBFIs)، شعبۂ بیمہ، مالی منڈیاں، اور مالی منڈی انفراسٹرکچرز شامل ہیں۔ اس میں معاشی ماحول کا مختصر جائزہ بھی فراہم کیا جاتا ہے جس میں مالی شعبہ غیر مالی کارپوریٹ شعبے (بینک قرضوں کا بڑا صارف) کو آپریٹ کرتا اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے اور مالی استحکام پر اثر انداز ہونے والے اہم ابھرتے ہوئے مسائل اور نظامیاتی خطرات کا احاطہ کرتا ہے۔
  • بینکاری شعبے کی کارکردگی کا ششماہی جائزہ
    • اسٹیٹ بینک جنوری تا جون کی مدت کے لیے بینکاری شعبے کی کارکردگی کا ششماہی جائزہ (MYPR) شائع کرتا ہے، جس میں بینکاری شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کے ساتھ ساتھ کیلنڈر سال کی بقیہ مدت کے منظرنامے کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس کا تازہ ترین شمارہ ذیل میں دستیاب ہے۔
  • نظامیاتی خطرے کا سروے
    • اسٹیٹ بینک دو سال میں ایک مرتبہ (جنوری اور جولائی) میں نظامیاتی خطرے سروے منعقد کرتا ہے تاکہ مارکیٹ کے شرکا اور ماہرین کی مالی نظام کے استحکام پر اثرانداز ہونے والے مختلف موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات پر رائے کا اندازہ لگایا جاسکے۔ ان سرویز کے نتائج مالی استحکام کے سالانہ جائزے اور بینکاری شعبے کی کارکردگی کے ششماہی جائزے میں شائع کیے جاتے ہیں۔
  • گورنر کی سالانہ رپورٹ
    ایس بی پی ایکٹ،1956ء کے سیکشن 39 کے تحت گورنر کی پارلیمنٹ کو سالانہ رپورٹ ایک اور قانونی رپورٹ ہے۔ جس میں اسٹیٹ بینک کے مقاصد کے حصول، زری پالیسی کے عمل، معیشت کی حالت اور مالی نظام کا احاطہ کرتا ہے۔ شعبہ مالی استحکام مالی شعبے کی حالت اور اسٹیٹ بینک کے زیرِ ضابطہ مالی اداروں، مالی منڈیوں اور مالی منڈی انفراسٹرکچرز کے استحکام کی حالت سے متعلق ابواب فراہم کرتا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ یہاں دستیاب ہے
  • اعدادوشمار کا سہ ماہی کمپینڈیم اور مالی اصابت کے اظہاریے
    مختلف اندرونی اور بیرونی اسٹیک ہولڈرز کی معلومات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے رہنما خطوط کے مطابق بینکاری شعبے، ترقیاتی مالیاتی اداروں ، مائیکروفنانس بینکوں، دیگر مالی اداروں، غیر مالی کارپوریشنز وغیرہ کے مالی اصابت کے اظہاریے اور اہم اعدادوشمار مرتب اور شائع کرتا ہے۔