| سیریل نمبر | بازار زر کے سودے کی قسم | مقصد | اہل شرکا | اہل ضمانت |
|---|---|---|---|---|
| 1 | معکوس ریپو خریداری (ادخال) | بازار کی قلیل مدتی پوزیشن کو سنبھالنا (بازار کو سیالیت کی فراہمی) | جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز | مارکیٹ میں قابل فروخت تمسکات (ایم ٹی بی، پی آئی بی) |
| 2 | ریپو کی فروخت (انجذاب) | بازار کی طویل مدتی پوزیشن کا انتظام کرنا (مارکیٹ سے فاضل مالی سیالیت نکالنا) | جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز | اسٹیٹ بینک کی تحویل میں حکومتی تمسکات |
| 3 | شریعت سے ہم آہنگ مضاربہ پر مبنی بازار زر کے سودے (ادخال) | بازار کی قلیل مدتی پوزیشن کو سنبھالنا | اسلامی بینک اور اسلامی بینکاری کی برانچیں | حکومت پاکستان کے اجارہ صکوک، حکومت پاکستان بیع مؤجل، جی آئی ایس (سی ڈی سی) |
| 4 | یکمشت فروخت/خریداری | طویل مدتی سیالیت کا اتنظام | جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز | مارکیٹ میں قابل فروخت تمسکات (ایم ٹی بی، پی آئی بی) |
| 5 | اسٹیٹ بینک | بازار کی طویل مدتی پوزیشن کا انتظام | اسلامی بینک اور اسلامی بینکاری کی برانچیں | حکومت پاکستان اجارہ صکوک |
شریعت کے مطابق بازار زر کے سودے انجام دینے کے لیے اسلامی بینکاری اداروں کو سیالیت فراہم کرنے کے لیے مضاربہ فنانسنگ کے طریقے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لین دین کے ڈھانچے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان چونکہ فنڈز فراہم کرتا ہے اس لیے وہ ربُّ المال بنتا ہے جبکہ اسلامی بینکاری ادارہ مضارب کے طور پر کام کرتا ہے۔ روایتی بازار زر کے سودوں کی طرح، اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں سیالیت کی صورتحال کے جائزے کی بنیاد پر شریعت سے ہم آہنگ بازار زر کے سودوں کے ذریعے ادخالات کرتا ہے۔ یہ عمل مسابقتی بولی کے متعدد قیمتوں والے طریقہ کار کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے اور ان کی میعادوں کا اسٹیٹ بینک وقتاً فوقتاً اعلان کرتا ہے۔ یہ تمام لین دین ضمانت کے بدلے کیا جاتا ہے۔جب مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے متوقع منافع کی شرح طے ہو جاتی ہے تو اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز کی متعلقہ اسلامی بینکاری ادارہ اعلیٰ معیار کے اثاثوں کے ایک پول میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس لین دین کے آغاز پر اسٹیٹ بینک اور اسلامی بینکاری ادارہ منافع کی تقسیم کے تناسب (Profit-Sharing Ratio) پر باہمی اتفاق کر لیتے ہیں۔
مزید تفصیلات کے لیےشریعت سے ہم آہنگ مضاربہ پر مبنی بازار زر کے سودوں ، ادخالات کے بارے میں متعلقہ سرکلر ملاحظہ فرمائے جو درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2009 میں شبینہ بازار زر ریپو ریٹ کے شرح سود کوریڈورمتعارف کروایا۔ اس کا مقصد زری پالیسی کے نفاذ میں زیادہ شفافیت پیدا کرنا اور مختصر مدتی سود کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا تھا۔
اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ: بینک دولت پاکستان اپنے زری پالیسی فیصلوں کا اظہار ٹارگٹ پالیسی ریٹ کی صورت میں کرتا ہے، جو واضح طور پر اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی مؤقف کو ظاہر کرتا ہے تاکہ قیمتوں کے استحکام کے بنیادی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بازار زر کی بہ وزن دار اوسط شبینہ ریپو ریٹ کو اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ ریٹ کے قریب رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک سیالیت کا انتظام کرنے کے مختلف آلات استعمال کرتا ہے، جن میں بنیادی طور پربازار زر کے سودے اور حکومتی تمسکات کی براہِ راست خرید و فروخت شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2009 میں شرح سود کوریڈور متعارف کروایا جس کے دو بنیادی مقاصد تھے زری پالیسی کے نفاذ میں زیادہ شفافیت پیدا کرنا اور قلیل مدتی سود کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا۔