بازارِ زر کے آلات اور سرگرمیاں

بازار زر کے سودے

  • بازار زر کے سودے ایک ایسا آلہ ہے جسے اسٹیٹ بینک بینکاری نظام میں رقوم داخل کرنے یا اضافی رقوم واپس نکالنےکے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ عمل اہل تمسکات کی خرید و فروخت کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ بازار زر کے سودے کرنے کا فیصلہ مارکیٹ میں سیالیت کی صورتحال کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے تجزیے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
  • عملی طور پر، بازار زر کے سودے کے معاملے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکوں اور پرائمری ڈیلروں کو اہل ضمانت کے بدلے فنڈز فراہم کرتا ہے تاکہ نظام میں موجود سیالیت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ اہل سیکیورٹیز میں ایم ٹی بیز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اجارہ صکوک شامل ہیں۔اسی طرح جب مالی سیالیت کو کم کرنا مقصود ہو تو اسٹیٹ بینک حکومت کی سیکوریٹیز(تمسکات ) بینکوں کو فروخت کرکے اس کے بدلے فنڈز حاصل کرتا ہے تاکہ نظام سے اضافی سیالیت کو نکالا جا سکے۔
  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان نظام میں سیالیت کا انتظام کرنے کے لیے پانچ قسم کے بازار زر کے سودے انجام دیتا ہے۔
سیریل نمبر بازار زر کے سودے کی قسم مقصد اہل شرکا اہل ضمانت
1 معکوس ریپو خریداری (ادخال) بازار کی قلیل مدتی پوزیشن کو سنبھالنا (بازار کو سیالیت کی فراہمی) جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز مارکیٹ میں قابل فروخت تمسکات (ایم ٹی بی، پی آئی بی)
2 ریپو کی فروخت (انجذاب) بازار کی طویل مدتی پوزیشن کا انتظام کرنا (مارکیٹ سے فاضل مالی سیالیت نکالنا) جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز اسٹیٹ بینک کی تحویل میں حکومتی تمسکات
3 شریعت سے ہم آہنگ مضاربہ پر مبنی بازار زر کے سودے (ادخال) بازار کی قلیل مدتی پوزیشن کو سنبھالنا اسلامی بینک اور اسلامی بینکاری کی برانچیں حکومت پاکستان کے اجارہ صکوک، حکومت پاکستان بیع مؤجل، جی آئی ایس (سی ڈی سی)
4 یکمشت فروخت/خریداری طویل مدتی سیالیت کا اتنظام جدولی بینک، ترقیاتی مالی ادارے اور پرائمری ڈٰیلرز مارکیٹ میں قابل فروخت تمسکات (ایم ٹی بی، پی آئی بی)
5 اسٹیٹ بینک بازار کی طویل مدتی پوزیشن کا انتظام اسلامی بینک اور اسلامی بینکاری کی برانچیں حکومت پاکستان اجارہ صکوک
  • بازار زر کے روایتی سودوں کے حوالے سے اسٹیٹ بینک پر میعاد کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں۔ تاہم اسٹیٹ بینک عام طور پر قلیل مدتی بازار زر کے سودے انجام دیتا ہے (یعنی 7 تا 14 دن)۔

OMO عمل کا بہاؤ

dia-1.jpg

اسلامی بازار زر کے سودے

شریعت کے مطابق مضاربہ کی بنیاد پر بازار زر کے سودے /اخالات

شریعت کے مطابق بازار زر کے سودے انجام دینے کے لیے اسلامی بینکاری اداروں کو سیالیت فراہم کرنے کے لیے مضاربہ فنانسنگ کے طریقے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لین دین کے ڈھانچے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان چونکہ فنڈز فراہم کرتا ہے اس لیے وہ ربُّ المال بنتا ہے جبکہ اسلامی بینکاری ادارہ مضارب کے طور پر کام کرتا ہے۔ روایتی بازار زر کے سودوں کی طرح، اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں سیالیت کی صورتحال کے جائزے کی بنیاد پر شریعت سے ہم آہنگ بازار زر کے سودوں کے ذریعے ادخالات کرتا ہے۔ یہ عمل مسابقتی بولی کے متعدد قیمتوں والے طریقہ کار کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے اور ان کی میعادوں کا اسٹیٹ بینک وقتاً فوقتاً اعلان کرتا ہے۔ یہ تمام لین دین ضمانت کے بدلے کیا جاتا ہے۔جب مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے متوقع منافع کی شرح طے ہو جاتی ہے تو اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز کی متعلقہ اسلامی بینکاری ادارہ اعلیٰ معیار کے اثاثوں کے ایک پول میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس لین دین کے آغاز پر اسٹیٹ بینک اور اسلامی بینکاری ادارہ منافع کی تقسیم کے تناسب (Profit-Sharing Ratio) پر باہمی اتفاق کر لیتے ہیں۔

مزید تفصیلات کے لیےشریعت سے ہم آہنگ مضاربہ پر مبنی بازار زر کے سودوں ، ادخالات کے بارے میں متعلقہ سرکلر ملاحظہ فرمائے جو درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:

بیع مؤجل

  • پس منظر: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اکتوبر 2014 میں بازار زر کے سودوں کے ذریعے حکومتِ پاکستان اجارہ صکوک (جی آئی ایس) کی یکمشت خرید و فروخت کا ایک طریقہ کار متعارف کروایا۔ یہ خرید و فروخت یا تو مؤخر ادائیگی ( بیعِ مؤجل)پر یا فوری ادائیگی کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔ان بازار زر کے سودوں کے تحت اسٹیٹ بینک ،حکومتِ پاکستان کے اجارہ صکو ک (جی آئی ایس) کو بیعِ مؤجل کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ ایک سال کی مدت تک خرید سکتا ہے، جبکہ فوری ادائیگی کی بنیاد پر مسابقتی بولی کے نیلامی کے عمل کے ذریعے جی آئی ایس فروخت بھی کر سکتا ہے۔یہ بازار زر کے سودے اسٹیٹ بینک کو ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ اسلامی بینکاری اداروں کے پاس موجود اضافی سیالیت منظم کر سکتا ہے اور زری پالیسی کی ترسیل کی اثرانگیزی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
  • بیع مؤجل ٹرانزیکشن کا طریقۂ کار:
    • بیعِ مؤجل ٹرانزیکشن کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان اسلامی بینکاری اداروںکو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت میں موجود حکومتِ پاکستان کے اجارہ سکوک (جی آئی ایس) کو مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک کو فروخت کرنے کے لیے اپنی قیمتوں کی پیشکش (quotes) جمع کروائیں۔
    • اسٹیٹ بینک موصول شدہ پیشکشوں کا جائزہ لیتا ہے اور قاطع شرح سود کی بنیاد پر شرکاکی پیشکشیں قبول کرتا ہے۔
    • کامیاب بولی دہندگان اپنے پاس موجود جی آئی ایس کو ڈیل کی تاریخ پر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیتے ہیں (جو عموماً نیلامی کی تاریخ ہی ہوتی ہے)۔ یہ بات اہم ہے کہ اس مرحلے پر اسٹیٹ بینک کامیاب بولی دہندگان کو کوئی نقد رقم ادا نہیں کرتا۔ اس کے بجائے اسٹیٹ بینک صرف یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مؤخر ادائیگی کی قیمت اسلامی بینکاری اداروں کو چکتائی کی تاریخ پر ادا کرے گا (یعنی تقریباً ایک سال بعد)۔

عام بیع مؤجل ٹرانزیکشن کی گراف پر عکاسی

شرح سود کوریڈور

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2009 میں شبینہ بازار زر ریپو ریٹ کے شرح سود کوریڈورمتعارف کروایا۔ اس کا مقصد زری پالیسی کے نفاذ میں زیادہ شفافیت پیدا کرنا اور مختصر مدتی سود کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا تھا۔

اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ: بینک دولت پاکستان اپنے زری پالیسی فیصلوں کا اظہار ٹارگٹ پالیسی ریٹ کی صورت میں کرتا ہے، جو واضح طور پر اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی مؤقف کو ظاہر کرتا ہے تاکہ قیمتوں کے استحکام کے بنیادی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بازار زر کی بہ وزن دار اوسط شبینہ ریپو ریٹ کو اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ ریٹ کے قریب رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک سیالیت کا انتظام کرنے کے مختلف آلات استعمال کرتا ہے، جن میں بنیادی طور پربازار زر کے سودے اور حکومتی تمسکات کی براہِ راست خرید و فروخت شامل ہیں۔

  • اسٹینڈنگ سہولتیں: اسٹینڈنگ سہولتوں کا مقصد قلیل مدتی سود کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کم کرنا ہے، جس کے لیے شبینہ بنیاد پر سیالیت فراہم یا جذب کی جاتی ہے۔ یہ سہولتیں بنیادی طور پر بینکوں کی مخصوص سیالیت کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہیں کیونکہ اسٹینڈنگ سہولتیں اہل فریقوں کو ان کی اپنی ضرورت کے مطابق فراہم کی جاتی ہیں۔ان میں ایس بی پی معکوس ریپو (سیلنگ) اور ایس بی پی ریپو(فلور) کی سہولت شامل ہوتی ہے۔ اس وقت سیلنگ ریٹ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس زیادہ جبکہ فلور ریٹ پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس کم ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر انٹرسٹ ریٹ کوریڈور 200 بیسس پوائنٹس بنتا ہے۔
    • ایس بی پی ریورس ریپو (سیلنگ) شرح: جب نظام میں سیالیت کی کمی ہوتی ہے تو جدولی بینک، پرائمری ڈیلرز اور ترقیاتی مالی ادارے اہل ضمانت ، یعنی قابلِ تجارت حکومتی تمسکات (ایم ٹی بی، پی ایف ایل) کے عیوض اپنی سیالیت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو سہولت کو شبینہ بنیاد پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس وقت سیلنگ ریٹ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس زیادہ ہے۔
    • شریعت کے مطابق اسٹینڈنگ سیلنگ سہولت: یہ اسلامی بینکوں اور اسلامی بینکاری برانچوں کے لیے شبینہ مضاربہ پر مبنی فنانسنگ کی سہولت ہے، جو روایتی بینکوں کے لیے موجود اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو (سیلنگ) سہولت کے مطابق کام کرتی ہے۔ اس کے تحت اسٹیٹ بینک اہل ضمانت (حکومتِ پاکستان اجارہ صکوک)،حکومتِ پاکستان بیعِ مؤجل، جی آئی ایس (سی ڈی سی) ) فراہم کرتا ہے، اس متوقع منافع کی شرح پر جو اسٹیٹ بینک کے سیلنگ ریٹ کے برابر ہوتی ہے۔
    • ایس بی پی ریپو(فلور) ریٹ: جب نظام میں اضافی سیالیت موجود ہو تو جدولی بینک اور پرائمری ڈیلرز اسٹیٹ بینک کی ریپو سہولت استعمال کر کے اپنے اضافی فنڈز اسٹیٹ بینک کے پاس شبینہ بنیاد پر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بدلے انہیں اسٹیٹ بینک کے پاس موجود حکومتی تمسکات بطور ضمانت فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وقت فلور ریٹ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس کم ہے۔ فی الحال یہ سہولت صرف روایتی مارکیٹ کے لیے دستیاب ہے۔
    • اسٹیٹ بینک کے شرح سو د کوریڈور تصویری شکل میں درج ذیل میں دی گئی ہے:
شرح سود کوریڈور میں تاریخی پیش رفت

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2009 میں شرح سود کوریڈور متعارف کروایا جس کے دو بنیادی مقاصد تھے زری پالیسی کے نفاذ میں زیادہ شفافیت پیدا کرنا اور قلیل مدتی سود کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنا۔

  • ’’شرح سود کوریڈور‘‘کے نفاذ کے بعد شبینہ بازار زر ریپو ریٹ کے اتار چڑھاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
  • اسٹیٹ بینک کے شرح سود کوریڈور کے ڈھانچے میں مئی 2015 میں درج ذیل نظرثانی کی گئی:
    • زری پالیسی کی ترسیلی میکانیت کو مزید مضبوط بنانا
    • اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی کے آپریشنل فریم ورک کو بہترین بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرنا
  • بازار زر کے شبینہ ریپو ریٹ کے لیے ایک نیا پالیسی ریٹ ’’ایس بی پی ٹارگٹ ریٹ‘‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ یہ ریٹ شرح سود کوریڈور کے اندر موجود ایس بی پی معکوس ریپو ریٹ (سیلنگ ریٹ) اور ایس بی پی ریپو ریٹ (فلور ریٹ) کے درمیان مقرر کی گئی۔یہ شبینہ ریپو ریٹ ٹارگٹ ایک واحد پالیسی ریٹ ہے جو واضح طور پر اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔
  • اسٹیٹ بینک کا مقصد بازار زر کی بہ وزن اوسط شبینہ ریپو ریٹ کو ایس بی پی ٹارگٹ ریٹ کے قریب رکھنا ہے، تاکہ اسٹیٹ بینک کا زری پالیسی مؤقف واضح طور پر نافذ کیا جا سکے۔
    18مارچ 2020 کو اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا کہ شرح سود کوریڈور کو پالیسی ریٹ کے گرد متوازن رکھا جائے گا۔

مطلوبہ نقد محفوظ

  • ڈی ایف آئیز کو اپنے طلبی اور میعادی واجبات کا ایک فیصد نقد محفوظ برقرار رکھنا لازم ہے۔
  • بینکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ایک سال سے کم مدت کے طلبی اور میعادی واجبات کا 5 فیصد بطور مطلوبہ نقد محفوظ برقرار رکھیں۔مزید برآں، روایتی بینکوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے طلبی اور میعادی واجبات کے 19 فیصد تک لازمی شرحِ سیالیت کو برقرار رکھیں، جبکہ اسلامی بینکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبی اور میعادی واجبات کے 14 فیصد تک لازمی شرح سیالیت کی سطح برقرار رکھیں، جبکہ بیرونی کرنسی ڈپازٹس پر 15 فیصد خصوصی نقد ذخائر برقرار رکھیں۔
  • مطلوبہ نقد محفوظ (سی آر آر) ، طلبی اور میعادی واجبات کے لیے قابل اطلاق ڈی ٹی ایل جمعہ کو اختتام کاروبار تک(زربنیاد کی دیکھ بھال کی مدت کا پہلا دن) مطلوبہ نقد محفوظ کا تعین کرنے کے لیے مدنظر رکھا گیا ہے۔
  • یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مطلوبہ یا زائد ذخائر پر کوئی منافع/ادائیگی نہیں کرتا۔