زری پالیسی فیصلہ سازی کا عمل

لوڈ ہو رہا ہے…

زری پالیسی کا فیصلہ ساز ادارہ

اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی ایک قانونی ادارہ ہے جو ایس بی پی ایکٹ کی دفعہ 9 ڈی اور 9 ای کے تحت بنائی گئی ہے اور یہی زری پالیسی کی تشکیل کی ذمہ دار ہے۔ یہ دس ارکان پر مشتمل ہے:

  • گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (چیئرپرسن)
  • اسٹیٹ بینک کے تین سینئر ایگزیکٹو، گورنر کے نامزد کردہ
  • اسٹیٹ بینک بورڈ کے تین ارکان، بورڈ کے نامزد کردہ
  • تین بیرونی ارکان، اسٹیٹ بینک بورڈ کی سفارش پر وفاقی حکومت کے مقرر کردہ

زری پالیسی کمیٹی زری پالیسی موقف طے کرنے کی ذمہ دار اور مکمل بااختیار ادارہ ہے۔ ایس بی پی ایکٹ 1956ء کی دفعہ 9 ای میں (28 جنوری 2022ء تک ترمیم شدہ) زری پالیسی کمیٹی کے جو اختیارات اور وظائف طے کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں:

  • پاکستان میں وساطتی زری اہداف، کلیدی شرحِ سود اور زرمبادلہ ذخائر (reserves) کی رسد سے متعلق زری پالیسی کے مناسب فیصلے کرے گی اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضوابط بنائے گی،
  • زری پالیسی بیان اور زری پالیسی کے دیگر اقدامات منظور اور جاری کرے گی،
  • قانون کی طرف سے عائد کیے گئے دیگر وظائف بھی انجام دے گی، اور
  • اس ایکٹ کے تحت اپنے وظائف پر عمل درآمد کی راہ میں آنے والی دیگر ضمنی سرگرمیاں بھی انجام دے گی۔

زری پالیسی کمیٹی کے ارکان

ممبران کو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

ممبران دیکھیں

لوڈ ہو رہا ہے…
زری پالیسی کی ترسیل میں لگنے والا وقت

واضح رہے کہ زری پالیسی معیشت پر فوری اثر نہیں ڈالتی۔ اگرچہ قلیل مدت کی شرحیں جیسے شبینہ ریپو ریٹ فوراً بدل سکتی ہیں، لیکن مہنگائی پر مکمل اثرات ظاہر ہونے میں اکثر 6 سے 8 سہ ماہیاں (ایک سے دو سال) لگ جاتی ہیں، کیونکہ گھرانے اور کاروبار سود کی شرحوں میں ردوبدل کے مطابق بتدریج خود کو ڈھالتے ہیں۔