پاکستان میں اسلامی بینکاری کے قیام کی بنیادیں دراصل ملک کے 1947 میں آزاد ہونے سے منسلک ہیں۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے پیش کردہ وژن میں اسلامی مالی اصولوں کی اہمیت کو واضح طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔ انہوں نے 1948 ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ ’’ایسے بینکاری طریقے وضع کیے جائیں جو اسلامی معاشرتی اور معاشی تصورات سے ہم آہنگ ہوں۔‘‘انہوں نے یہ تصور بھی پیش کیا کہ پاکستا ن دنیا کے سامنے ایک ایسا معاشی نظام پیش کرے جو انسانوں کی حقیقی مساوات اور سماجی انصاف کے اسلامی تصور پر مبنی ہو۔”
ابتدائی دور میں اسلامی مالیات پر تحقیق ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ممتاز ماہرینِ معاشیات اور شریعہ اسکالرز نے شروع کی۔ 1950ء کی دہائی میںاسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شعبۂ تحقیق میں اسلامی معاشیات ڈویژن قائم کیا گیا، جسے اسلامی معاشی نظام پر تحقیق کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
اس بنیادی وژن کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل ، جو ایک آئینی ادارہ ہے، کو 1963 میں یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پاکستان کی معیشت میں اسلامی معاشی اصولوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرے۔ طویل غور و خوض کے بعد 1969 میں اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو مشورہ دیا کہ سود پر مبنی قرضہ دینا ربا (سود) کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید بحث و مباحثے کے نتیجے میں کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سود کو ہر شکل میں ممنوع قرار دیا گیا اور سفارش کی گئی کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے جو سودی نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے میں معاونت کرے۔
معیشت کی سطح پر ربا کے خاتمے کی کوششیں 1970 ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئیں اور 1980 کی دہائی میں کئی اہم اور عملی اقدامات کیے گئے۔ بہت سے پہلوؤں سے دیکھا جائے تو اس وقت یہ اسلامی مالیات کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ماڈل تھا، جو دنیا میں رائج دیگر ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے1980 ءمیں 15 رکنی کمیٹی کے تعاون سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے اقدامات بیان کیے گئے تھے۔ اس کے بعد متعدد قوانین میں ترامیم کی گئیں اور نئے قوانین نافذ کیے گئے تاکہ معیشت کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو مہمیز دی جا سکے، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔مزید برآں، 1980 ءمیں مضاربہ کمپنیز اورمضاربہ(اجرا اور کنٹرول) آرڈیننس کے نفاذ کے بعد مضاربہ کمپنیوں کے لیے ایک باقاعدہ ضوابطی فریم ورک متعارف کرایا گیا، جبکہ 1981ءمیں مضاربہ قواعد اور محتاطیہ ضوابط بھی جاری کیے گئے۔اسٹیٹ بینک نے بینکاری نظام کے لیے 1984 میں بی سی ڈی سرکلر نمبر 13 جاری کیا جس کا عنوان ’’بینکاری نظام سے ربا کا خاتمہ‘‘ تھا، جس میں بینکاری نظام کو اسلامی طریقۂ مالیات پر منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات بیان کیے گئے تھے۔1985 ء میں حکومت نے اس مقصد کا تعین کیا کہ تمام شعبوں — جن میں حکومتی ادارے، سرکاری کارپوریشنز اور نجی کمپنیاں شامل ہیں — کو سود سے پاک مالی نظام پر منتقل کیا جائے۔
تاہم 1980 کی دہائی کے آخر تک اسلامی بینکاری کے نفاذ کے حوالے سے مختلف خدشات اور شکایات سامنے آئیں۔ وفاقی شرعی عدالت نے 14 نومبر 1991 کو ایک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستان میں موجود بینکاری اور مالی طریقہ کار اور متعدد مالیاتی قوانین سود پر مبنی ہیں۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ 30 جون 1992ء تک پاکستان کی معیشت اور مالی شعبے سے سود کے خاتمے کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے۔
بعد ازاں حکومت اور مالی اداروں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی۔ اپیل کا عمل 1999 تک جاری رہا اور 23 دسمبر 1999 کو سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سفارش کی کہ موجودہ سودی نظام کو 30 جون 2001 تک ختم کر دیا جائے۔
اگرچہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے اقدامات شروع کیے، تاہم مقررہ مدت تک اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا اور اس میں 30 جون 2002 تک توسیع کی درخواست کی گئی۔ اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے واضح رہنما اصولوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مرحلہ وار اور تدریجی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سود کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ اسی کے نتیجے میں 2001میں اسلامی بینکاری کو دوبارہ متعارف کرایا گیا، جو روایتی بینکاری کے ساتھ ایک متوازی نظام کے طور پر کام کرنے لگا۔
اس سمت میں ایک ابتدائی قدم کے طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اسلامی بینکاری کے شعبے کی ترقی اور مضبوطی کو فروغ دینے کے لیے ایک مخصوص شعبۂ اسلامی بینکاری قائم کیا۔ 2001 میں اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری سے متعلق ایک خصوصی پالیسی جاری کی جس میں اسلامی بینکوں کے قیام کے لیے تفصیلی معیار اور شرائط بیان کی گئیں۔ 2002میں بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 میں ترمیم کی گئی جس کے تحت کمرشل بینکوں کو شریعت کے مطابق آپریشنز کے لیے ذیلی ادارے قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس نئے فریم ورک کے تحت ملک میں اسلامی بینکاری اداروں کے تین ماڈلز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی:
2002 میں میزان بینک لمیٹڈ ملک کا پہلا مکمل طور پر فعال اسلامی بینک بن گیا۔ اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری اداروں کے لیے شریعہ کمپلائنس فریم ورک بھی متعارف کروایا جس میں درج ذیل تقاضے شامل تھے:
پاکستان میں اسلامی بینکاری کے آغاز کے بعد سے، اسٹیٹ بینک نے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے، جس میں شریعت کے اصول شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے یہ ضابطے وقتاً فوقتاً سرکلرز اور سرکلر لیٹرز کے ذریعے جاری کیے ہیں۔ شریعہ گورننس فریم ورک (SGF) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ڈھانچہ وضع کرتا ہے کہ اسلامی بینکنگ ادارے (IBIs) شرعی اصولوں کے مطابق کام کریں۔ تفصیلات کے لیے، یہاں کلک کریں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شریعت سے متعلق امور پر ماہرانہ رائے اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے 2003 میں اپنا شریعہ بورڈ قائم کیا۔ بعد ازاں شریعہ بورڈ کا نام تبدیل کر کے شریعہ ایڈوائزری کمیٹی رکھ دیا گیا۔
یہ اعلیٰ سطح کا یہ ادارہ ایسے ارکان پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں شریعت کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹنگ، قانون، معاشیات/بینکاری اور فنانس کے شعبوں میں متنوع مہارت حاصل ہوتی ہے، اور جو اسلامی مالیات اور اس کے عملی طریقوں کا اچھا علم رکھتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شماریاتی مطبوعات میں پاکستان کے اسلامی بینکاری کے شعبے سے متعلق ڈیٹا بھی شامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئی ایف ایس بی کے اسلامی مالیات کے محتاطیہ اور ساختی اظہاریوں( پی ایس آئی ایف آئیز) کے پروجیکٹ میں بھی تعاون کرتا ہے۔ یہ ایک عالمی اقدام ہے جس کا مقصد کلی فراستی تجزیے کو آسان بنانا اور اسلامی مالی خدمات کی صنعت کے ڈھانچے اور ترقی کی صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ پی ایس آئی ایف آئیز کا ڈیٹا درج ذیل لنک پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں اسلامی بینکاری کی معلومات، رویوں اور رائج طریقوں پر سروے (کے اے پی) 2014ء میں منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں اسلامی بینکاری کی طلب کا اندازہ لگانا تھا: کارپوریٹ اورخردہ صارفین اور طلب و رسد میں فرق کی نشاندہی۔ یہ ایک ملک گیر سروے تھا، جس میں 9000 گھرانوں (بینک و بینکاری خدمات سے محروم) اور 1000 کارپوریٹ اداروں کو شامل کیا گیا۔