ایس بی پی تحقیقی بلیٹن

تعارف

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریسرچ بلیٹن معاشیات کے شعبے(کیٹیگری "Z") میں شامل ہے ۔ اس کا مقصد معاشی شعبے میں اعلیٰ معیار کی تحقیق شائع کرنا ہے، خاص طور پرزری اور شرح مبادلہ کے معاشیات اور پالیسی کے حوالے سے مسائل، جن میں بینکاری اور فنانس سے متعلق معاملات۔ ایس بی پی تحقیقی بلیٹن ایک ڈبل بلائنڈ پیئر ریویوڈ - اکادمی جائزے کا ایسا طریقہ جس میں مصنفین اور جائزہ نگار ایک دوسرے سے لاعلم رہتے ہیں - (کم از کم ایک بین الاقوامی جائزہ نگار کے ذریعے) معاشی تحقیق کا جریدہ ہے۔ ریسرچ بلیٹن اپنے 'رائے' سیکشن میں خصوصی تبصرے صرف دعوت پر شائع کرتا ہے اور اس کے پاس 'کتابی جائزے' پر بھی ایک سیکشن ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر انڈیکس اور ایبسٹریکٹ شدہ (تحقیق میں معلومات کے حصول اور انتظام کا ایک طریقہ)ہے۔ ریسرچ بلیٹن EconLit' میں انڈیکس کیا گیا ہے، جو عالمی معاشی لٹریچر پر امریکن اکنامک ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک جامع وسیلہ ہے۔ ایس بی پی ریسرچ بلیٹن کو عالمی ڈیٹا بیس آف ریسرچ پیپرز آف اکنامکس (RePEc) میں بھی شامل کرتا ہے۔ تحقیقی بلیٹن کے مشاورتی بورڈ میں عالمی شہرت یافتہ ممتاز ماہرین معاشیات اور محققین شامل ہیں۔ ایڈیٹوریل بورڈ بلیٹن کے مجموعی انتظام کا ذمہ دار ہے، جس میں اسٹیٹ بینک کے ماہرین معاشیات شامل ہیں۔

دائرہ کار اور مشن

ریسرچ بلیٹن کا مقصد تحقیق کو معاشیات کے شعبے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر علمی اور پالیسی حلقوں میں علمی مباحثوں میں زیر بحث موضوعات تک وسعت دینا ہے۔

ادارتی بورڈ

ادارتی بورڈ
ایڈیٹر وقاص احمد
ایسوسی ایٹ ایڈیٹرز ذوالفقار حیدر،عبداللہ طاہر

مشاورتی بورڈ

بلیٹن کو درج ذیل ممتاز اسکالرز کی مشاورت حاصل ہے:

مشاورتی بورڈ
بیری آئچن گرین یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے
ابھیجیت بنرجی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
ٹموتھی جے۔ بیسلی لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس
انجم نسیم ادارہ ترقیاتی اور اقتصادی متبادل پاکستان(IDEAS)
قاضی مسعود احمد انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن
عمران شریف چوہدری بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی
راشد امجد لاہور اسکول آف اکنامکس

انڈیکسنگ اور ایبسٹریکٹنگ ایجنسیاں

انڈیکسنگ اور ایبسٹریکٹنگ ایجنسیاں
ایکان لٹ https://www.aeaweb.org/econlit/journal_list.php%23R#S
ریپیک https://ideas.repec.org/s/sbp/journl.html
BIS https://www.bis.org/cbhub/list/series/sid_81/index.htm

مصنفین کے لیے ہدایات/رہنما خطوط

ایس بی پی تحقیقی بلیٹن میں مصنفین کے لیے ارسالی ہدایات

  • مصنفین کا نام مسودے پر درج نہیں ہونا چاہیے۔
  • مضمون کا عنوان، مصنف کا نام ،ای میل اور ادارہ جاتی وابستگی کے اندراج کا حامل ایک کورنگ لیٹر منسلک کریں۔
  • تقریباً 100 الفاظ کا خلاصہ، JEL کی درجہ بندی اور کلیدی الفاظ شامل کرنا لازم ہے۔

    [JEL کوڈ(ز) کی معلومات اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کریں: www.aeaweb.org.]

  • متن میں دوسطری خَلا ہونا چاہیے، چاروں اطراف سےایک انچ کا مارجن ہونا چاہیے (A4 پیپر سائز کے مطابق)۔
  • ٹائمز نیو رومن فونٹ اسٹائل جس کا فونٹ سائز 11 ہو استعمال کرنا چاہیے۔
  • متن کے آخر میں حروف تہجی کے حساب سے آنے والے حوالہ جات کی فہرست۔ کچھ مثالیں:

    احمد، ای۔ اور ایس۔ علی (1999)۔ "ایکسچینج ریٹ اور مہنگائی کی حرکیات۔" پاکستان ڈیولپمنٹ ریویو، 38، 3: 235-251۔

    گرین، ڈبلیو۔ (1993). اکنومیٹرک تجزیہ۔ تیسرا ایڈیشن۔ نیو جرسی: پرینٹس ہال۔

    حق، این۔ ال اور پی۔ مونٹیئل (1999). "ترقی پذیر ممالک میں طویل مدتی حقیقی شرح مبادلہ میں تبدیلیاں۔" ایل۔ ہنکل اور پی۔ مونٹیئل (مدیران) میں۔ زر مبادلہ کی شرح کی عدم مطابقت: ترقی پذیر ممالک کے لیے تصورات اور پیمائشیں۔ واشنگٹن، ڈی سی: ورلڈ بینک۔ (صفحہ 381-404)

    رائن ہارٹ، سی۔ اور کے۔ روگوف (2002). ایکسچینج ریٹ ارینجمنٹس کی جدید تاریخ: AReinterpretation۔ این بی ای آر ورکنگ پیپر 8963۔ میساچوسٹس: نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ۔
  • متن میں حوالہ جات درج ذیل ہیں: اس حوالے سے اہم کام کروگمین (1979) اب بھی ہے ... احمد اور علی (1999) جو دلیل دیتے ہیں کہ ... دیکھیں: گرین (1993)، گجراتی (1995) کے جائزے کے لیے ... کئی مصنفین [پرسن اور ٹیبیلینی (1990)،

    الیسینا اور ڈرازن (1991) وغیرہ] نے ...
  • جب دو سے زیادہ مصنفین کا حوالہ ہو تو "وغیرہ" استعمال کریں۔
  • مساوات یا فارمولوں کو انتہائی دائیں جانب نمبر دینا ضروری ہے جیسے (1)، (2)، (3)، ... لگاتار آتا رہا۔ ان میں استعمال ہونے والے متغیرات/کریکٹرز کو واضح طور پر متعین کرنا ضروری ہے۔ جب مساوات یا فارمولوں کا حوالہ دیا جائے تو ہمیشہ "مساوات (1)" کے طور پر حوالہ دیں۔
  • مسودے کے آخر میں جداول اور اعداد و شمار تیار کریں (حوالہ جات کے بعد)۔ مرکزی متن میں یہ بتائیں کہ جداول اور اشکال کہاں شامل کرنا ہے۔
  • سائز 3" کی جداول تیار کریں۔ زیادہ سجاوٹ نہ کریں۔ کسی بھی کالم یا سطرکو خالی نہ چھوڑیں۔ کوئی رنگ نہیں۔ عنوان دیں، مثال کے طور پر:

    جدول 1۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی، 1960-2004 (ملین روپے)
  • اشکال (سائز 3" کے) کو معلومات سے زیادہ نہ ڈالیں اور زیادہ سجاوٹ سے گریز کریں، مناسب لیبل لگائیں۔ کوئی رنگ نہیں۔ ترچھے (اٹیلک)حروف استعمال نہ کریں۔ عنوان دیں، مثال کے طور پر: شکل 1۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ، 1960-2004 (فیصدی سالانہ )
  • ریگریشن تجزیہ کی صورت میں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال ہونے والے کسی بھی مخصوص سافٹ ویئر کا ڈیٹا اور تفصیلات ضرورت کے مطابق دستیاب ہوں۔
  • گرافز/اشکال میں استعمال ہونے والا ڈیٹا الگ الگ ایکسل فارمیٹ میں بھیجا جانا چاہیے۔
  • • مقالہ 25 صفحات سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، حوالہ جات اور ضمیموں کو چھوڑ کر۔

مقالوں کی طلب

اسٹیٹ بینک آف پاکستان تحقیقی بلیٹن

اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2005ء سے باقاعدگی سے تحقیقی بلیٹن شائع کر رہا ہے۔ اس کا مقصد معاشیات کے مختلف شعبوں میں جدید ترین تحقیق شائع کرنا ہے، جس میں بینکاری اور مالیات سمیت زری اور شرح مبادلہ کی معاشیات اور پالیسیاں بھی شامل ہیں ۔ اس میں تحقیق کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر علمی اور پالیسی حلقوں میں زیر ِبحث موضوعات تک وسعت دی جاتی ہے۔

ایس بی پی تحقیقی بلیٹن ایک ڈبل بلائنڈ پیئر ریویوڈ - اکادمی جائزے کا ایسا طریقہ جس میں مصنفین اور جائزہ نگار ایک دوسرے سے لاعلم رہتے ہیں - (کم از کم ایک بین الاقوامی جائزہ نگار کے ذریعے) معاشی تحقیق کا جریدہ ہے۔یہ بین الاقوامی سطح پر انڈیکس اور ایبسٹریکٹ شدہ (تحقیق میں معلومات کے حصول اور انتظام کا ایک طریقہ)ہے۔ ریسرچ بلیٹن EconLit' میں انڈیکس کیا گیا ہے، جو عالمی معاشی لٹریچر پر امریکن اکنامک ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک جامع وسیلہ ہے۔ ایس بی پی ریسرچ بلیٹن کو عالمی ڈیٹا بیس آف ریسرچ پیپرز آف اکنامکس (RePEc) میں بھی شامل کرتا ہے۔اس کی کتابی نقول ملکی/بین الاقوامی تعلیمی اداروں، مرکزی بینکوں اور مرکزی لائبریریوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس وقت،ایس بی پی تحقیقی بلیٹن ہائر ایجوکیشن کمیشن، حکومت پاکستان کی منظوری کے لیے زیر غور ہے۔

آپ کو اپنے تحقیقی مقالہ جمع کروانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ ایک مختصر نوٹ یا کتاب کا جائزہ بھی جمع کرایا جا سکتا ہے۔ ریسرچ بلیٹن میں جمع کرایا گیا تحقیقی کام کہیں اور جمع نہیں کرایا جائے گا۔

مصنفین کے لیے رہنماخطوط Instructions/Guidelines for the Authors پر دستیاب ہیں۔

مصنفین کو Review and Publication Policy بھی پڑھنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔
ریسرچ بلیٹن آن لائن SBP ویب سائٹ پر جاری کیا جاتا ہے: ریسرچ بلیٹن

بلیٹن کے پرنٹ شدہ ورژن کی ایک مفت کاپی بھی ہر معاون مصنف کو بھیجی جاتی ہے۔

رواں سال کے شمارے کے لیے ایس بی پی ریسرچ بلیٹن کے لیے تحقیقی کام جمع کروانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے۔

اس تاریخ کے بعد جمع کرایا گیا کوئی بھی مقالہ اگلے سال کے شمارے کے لیے زیر غور آئے گا۔

ایڈیٹوریل بورڈ، ایس بی پی ریسرچ بلیٹن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کراچی۔

جائزہ اور اشاعتی پالیسی

  1. ایس بی پی ریسرچ بلیٹن ہر سال ایک بار شائع ہوتا ہے۔ تاہم، ایڈوائزری/ایڈیٹوریل بورڈ کی ضروریات اور فیصلوں کے مطابق، خصوصی یا کانفرنس شمارے شائع کیے جا سکتے ہیں۔
  2. ایک نوٹس کے ذریعے جمع کروانے کی آخری تاریخ کا اعلان ایس بی پی ریسرچ بلیٹن ویب سائٹ پر کیا جاتا ہے۔
  3. مقررہ تاریخ میں جمع کرائے گئے مقالے ایڈیٹوریل بورڈ میٹنگ میں بیرونی بلائنڈ ریویو کے لیے منتخب جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر مسترد کیے گئے مسودات کے مصنفین کو حسبِ طریقہ مطلع کیا جاتا ہے۔
  4. منتخب مسودات دو ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے جائزہ نگاروں کو بلائنڈ ریویو کے لیے بھیجے جاتے ہیں؛ جن میں ایک بین الاقوامی جائزہ نگار جو ترجیحاً صنعتی/تعلیمی طور پر ترقی یافتہ ملک سے ہو۔
  5. مصنفین کو بلائنڈ ریویو کے بعد نظرثانی مکمل کرنے کے لیے معقول وقت دیا جاتا ہے۔
  6. نظرثانی کے بعد مسود ے کو جائزہ نگاروں کے تبصروں/تجاویز کے مطابق اشاعت کے لیے قبول کیا جاتا ہے۔
  7. ایس بی پی تحقیقی بلیٹن میں مقالے کی اشاعت کے لیے یہ امر لازمی ہے کہ اسےجائزہ نگاروں کی جانب سے تجویز کیا گیا ہو۔

اپنی تحقیق جمع کروائیں

اپنا تحقیقی کام جمع کروانے کے لیے براہ کرم متعلقہ آئیکن پر کلک کریں:

ہم سے رابطہ کریں

ایڈیٹر،

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریسرچ بلیٹن،

آٹھویں منزل، ریسرچ ڈیپارٹمنٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی، 74000، پاکستان

ای میل: [email protected]
99221299فیکس: +92-021-99221299
99221537دفتر: +92-021-99221537

SBP RB کے بارے میں رائے کے لیے براہ کرم ای میل کریں
[email protected]