زری پالیسی

زری پالیسی کے بارے میں

کسی ملک میں زر یعنی پیسے کی رسد اور سود کی شرحوں کے انتظام کو زری پالیسی کہا جاتا ہے۔ یہ کام ملک کا مرکزی بینک مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کرتا ہے۔ مرکزی بینک سود کی شرحوں کے ذریعے زر کی "لاگت" میں ردوبدل کرتا ہے، تاکہ قرض کو سستا کر کے سست رو معیشت میں تیزی لائی جائے، یا پھر ضرورت سے زیادہ تیز رفتار معیشت میں قرض کو مہنگا کر کے اسے معتدل بنایا جائے۔

زری پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں قیمتوں میں استحکام لانا اور اسے برقرار رکھنا ہے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ کاروباری ادارے اور صارفین مستقبل میں بچت، خرچ اور سرمایہ کاری کے فیصلے آسانی کے ساتھ کر سکیں۔

اسٹیٹ بینک کی پالیسی شرح

11.50% سالانہ

اسٹیٹ بینک کا شبینہ ریورس ریپو ریٹ (بالائی سطح)

12.50% سالانہ

اسٹیٹ بینک کا شبینہ ریپو ریٹ (زیریں سطح)

10.50% سالانہ

پاکستان میں زری پالیسی سازی

پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنیادی مقصد (جنوری 2022ء تک ترمیم شدہ ایس بی پی ایکٹ 1956ء کی دفعہ 4 (ب) کے تحت) ’’... ملکی قیمتوں میں استحکام کا حصول اور انھیں برقرار رکھنا‘‘ ہے۔ ایس بی پی ایکٹ 1956ء کی دفعہ 2 کے تحت قیمتوں کے استحکام سے مراد یہ ہے کہ مہنگائی کو پست اور برقرار رکھا جائے، اور وسط مدت میں حکومت کے مہنگائی کے ہدف کو پورا کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ مہنگائی کو وسط مدت میں 5 سے 7 فیصد تک رکھا جائے۔

اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کو ملک کی زری پالیسی طے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسٹیٹ بینک مختلف آلات استعمال کرکے زری پالیسی پر عمل کرتا ہے، پالیسی ریٹ ان میں سے مرکزی آلہ ہے۔ پالیسی ریٹ کے ذریعے اسٹیٹ بینک بازارِ زر کے شبینہ ریپو ریٹ کو ہدف بناتا ہے۔ شرح سود کی راہداری یا کوریڈور بنانے والی اسٹیٹ بینک کی قائمہ یا مستقل سہولیات کی شرحیں پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس نیچے (زیریں یا ریورس ریپو) اور اوپر (بالائی یا ریپو) مقرر کی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ زری پالیسی معیشت پر فوری اثر نہیں ڈالتی۔ اگرچہ قلیل مدت کی شرحیں جیسے شبینہ ریپو ریٹ فوراً بدل سکتی ہیں، لیکن مہنگائی پر مکمل اثرات ظاہر ہونے میں اکثر 6 سے 8 سہ ماہیاں (ایک سے دو سال) لگ جاتی ہیں، کیونکہ گھرانے اور کاروبار سود کی شرحوں میں ردوبدل کے مطابق بتدریج خود کو ڈھالتے ہیں۔

جب زری پالیسی کمیٹی پالیسی ریٹ مقرر کر دیتی ہے، تو اسٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ آپریشنز کرتا ہے اور دیگر میکرو طریقے استعمال کرتا ہے، جیسے بینکوں کے لیے نقدِ محفوظ کی ضروریات، تاکہ زر کی رسد کو منظم کیا جا سکے۔ ان میں سے ہر آلہ یا طریقہ اُس شرحِ سود پر اثر ڈالتا ہے جس شرح پر کاروباری ادارے اور افراد قرض لیتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ عمل بالآخر معاشی سرگرمی کو متاثر کرتا ہے۔

زری پالیسی کمیٹی کے اجلاسوں اور ابلاغ کا پیشگی کیلنڈر

زری پالیسی کی تشکیل کا عمل زیادہ قابلِ بھروسہ اور شفاف بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے مالی سال 27ء کے لیے زری پالیسی کمیٹی کے اجلاسوں اور ابلاغ کا پیشگی سالانہ کیلنڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ اگلے بارہ مہینوں کے لیے زری پالیسی بیانات، تجزیاتی بریفنگ، زری پالیسی رپورٹوں اور دیگر منسلک اجرائیوں کی تاریخیں درج ذیل ہیں:

زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی تاریخ زری پالیسی بیان اور اطلاعاتی کمپینڈیم تجزیاتی بریفنگ ایم پی سی کے بعد پریس کانفرنس ایم پی سی کی روداد- اجرا کی تاریخ زری پالیسی رپورٹ
27 جولائی 26ء 27 جولائی 26ء 28 جولائی 26ء 27 جولائی 26ء 21 اگست 26ء 10 اگست 26ء
14 ستمبر 26ء 14 ستمبر 26ء 15 ستمبر 26ء 09 اکتو بر 26ء
26 اکتوبر 26ء 26 اکتوبر 26ء 27 اکتوبر 26ء 26 اکتوبر 26ء 20 نومبر 26ء
14 دسمبر 26ء 14 دسمبر 26ء 15 دسمبر 26ء 08 جنوری 27ء
25 جنوری 27ء 25 جنوری 27ء 26 جنوری 27ء 25 جنوری 27ء 19 فروری 27ء 08 فروری 27ء
08 مارچ 27ء 08 مارچ 27ء 09 مارچ 27ء 02 اپریل 27ء
26 اپریل 27ء 26 اپریل 27ء 27 اپریل 27ء 26 اپریل 27ء 21 مئی 27ء
17 جون 27ء 17 جون 27ء 18 جون 27ء 12 جولائی 27ء

نوٹ:

  1. زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی کسی تاریخ پر کوئی غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہوئی تو نئی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔
  2. زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی روداد اجلاس کے بعد چوتھے ہفتے میں شائع ہوگی۔

تفصیلات کے لیے:

زری پالیسی کا دائرہ کار اور اہداف

زری پالیسی کا مینڈیٹ اور اہداف

بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) کے مقاصد کا تعین اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 (جنوری 2022 ءتک ترمیم شدہ ) کی دفعہ 4B میں کیا گیا ہے ، جس کے مطابق:

  • بینک کا بنیادی مقصد ملکی قیمتوں کے استحکام کا حصول اور اسے برقرار رکھنا ہوگا۔
  • بینک کے بنیادی مقصد کو متاثر کیے بغیر، بینک پاکستان کے مالی نظام کے استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔
  • ذیلی دفعات (1) اور (2) کے تحت ، بینک حکومت کی عمومی اقتصادی پالیسیوں میں اعانت کرے گا ، تاکہ ترقی اور پاکستان کے پیداواری وسائل کے بھرپور استعمال میں اپنا کردار کر سکے

    1.1
     قیمتوں کے استحکام کی تعریف

قیمتوں کے استحکام سے مراد حکومت کے وسط مدتی مہنگائی کے ہدف کے مطابق کم اور مستحکم مہنگائی برقرار رکھناہے(اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956ء کی سیکشن 2، جنوری 2022 ءتک ترمیم شدہ)۔

1.2 زری پالیسی کے آلات

اسٹیٹ بینک آف پاکستان زری پالیسی تشکیل دینے کے لیے مختلف آلات استعمال کرتا ہے، جن میں پالیسی ریٹ بنیادی آلہ ہے۔ اس ریٹ کے ذریعے اسٹیٹ بینک شبینہ بازار زر ریپو ریٹ کو ہدف بناتا ہے، جو زری پالیسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ پالیسی ریٹ کا تعین شرحِ سود کوریڈور سے کیا جاتا ہے، جو اسٹیٹ بینک کی قائمہ سہولتوں سے منسلک ہوتا ہے ، یعنی معکوس ریپو (بالائی حد ) اور ریپو (نچلی سطح) ۔ پالیسی ریٹ کے علاوہ، بینک بازار زر کے سودوں کے ذریعے سیالیت کا انتطام کرتا ہے، اور ریزرو تقاضوں جیسے دیگر کلی فراستی آلات بھی استعمال کرتا ہے تا کہ زر کی رسد کو قابو میں رکھا جا سکے۔ یہ تمام آلات شرحِ سود اور اقتصادی سرگرمیوں پر اثر انداز ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لوڈ ہو رہا ہے…