بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کی کریڈٹ ریٹنگ

بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کی کریڈٹ ریٹنگ

اسٹیٹ بینک مالی منڈیوں میں شفافیت اور مارکیٹ شرکا کی جانب سے مناسب خود احتسابی اور نظم و ضبط کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں رہا ہے۔ متعلقہ فریقوں اور مارکیٹ شرکا کے مفاد میں اظہار کو زیادہ موثر بنانے کے لیے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کو 30 جون 2001 ءسے اپنی کریڈٹ ریٹنگ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔اس اقدام کا مقصد مارکیٹ شرکا اور اسٹیک ہولڈرز کو باخبر فیصلہ سازی کے لیے ایک اضافی پیمانہ فراہم کرنا، صحت مند مسابقت کو فروغ دینا، اور مالی اداروں کو اپنی مالی حالت بہتر بنانے کی ترغیب دلانا تھا۔ یہ فیصلہ بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

چنانچہ ،بینک اور ڈی ایف آئیز اسٹیٹ بینک کے منظور شدہ پینل میں شامل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں سے مسلسل اپنی کریڈٹ ریٹنگ حاصل کرتے ہیں، یعنی ہر مالی سال کے اختتام کے بعد چھ ماہ کے اندر ان کی ریٹنگ سال بہ سال اپ ڈیٹ کی جاتی ہے۔ بیشتر بینکوں اور ڈی ایف آئیز نے اپنی کریڈٹ ریٹنگز پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کر دی ہیں، جبکہ ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے فائدے کے لیے ان ریٹنگز کو مرتب بھی کیا گیا ہے۔

کریڈٹ ریٹنگ ایک آزادانہ رائے ہوتی ہے جو پیشہ ور ادارے یعنی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں جاری کرتی ہیں۔ یہ کسی ادارے کی اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے اور مختلف مقداری اور وصفی عوامل کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ ریٹنگز متعلقہ ریٹنگ ایجنسیوں کی آرا کی نمائندگی کرتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ اسٹیٹ بینک کے مؤقف کی عکاسی کریں۔ مزید برآں، یہ آرا سرمایہ کاری کے مشورےہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ سمجھا جانا چاہیے۔

ڈائریکٹر
شعبہ بینکاری پالیسی و ضوابط
اسٹیٹ بینک آف پاکستان

لوڈ ہو رہا ہے…
لوڈ ہو رہا ہے…