ڈجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا

ڈجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا

ہم نے آن لائن رقوم کی منتقلی کی خدمات استعمال کرنے والے صارفین کے لیے تمام چارجز ختم کردیے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے صارفین بین البینک رقوم کے لین دین کسی لاگت کے بغیر انجام دے سکتے ہیں۔ اس سے بینکوں کی برانچوں پر جا کر لین دین کو محدود کرکے کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

رقوم کی منتقلی پر چارجز ختم کردیے گئے ہیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ڈجیٹل ذرائع کے ذریعے لین دین کو فروغ دینے کے لیے، آن لائن بینکنگ چینلز کے ذریعے کی جانے والی تمام بین البینک (Inter-bank) اورانٹرا بینک(Intra-bank) فنڈ ٹرانسفرز پر عائد تمام ٹرانزیکشن فیسز معاف کر دی ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے مثال قائم کرتے ہوئے اپنے زیرِ انتظام RTGS سسٹم کے ذریعے انجام پانے والی تمام صارفین کی منتقلیوں پر بھی چارجز ختم کر دیے ہیں۔

مزید برآں، صارفین کو آن لائن بینکنگ چینلز کے استعمال میں آسانی فراہم کرنے کے لیے، اسٹیٹ بینک نے PSD سرکلر نمبر 09 برائے 2018ء کے تحت انٹرنیٹ اور موبائل بینکنگ کو فعال کرنے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی شرط کو تاحکم ثانی معطل کر دیا، تاہم درج ذیل امور کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے:

  • مناسب اقدامات کےذریعے صارف کی تصدیق اور توثیق
  • صارفین کے ٹرانزیکشنز کا تحفظ اور سکیورٹی

اسٹیٹ بینک نے بینکوں، مائکرو فنانس بینکوں (MFBs)، پیمنٹ سروس آپریٹرز (PSOs) اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (PSPs) کو ہدایت دی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل انتظامات کیے جائیں:

  • تمام چالان/انوائس پر مبنی ادائیگیوں (جیسے تعلیمی فیس) کی ڈجیٹل وصولی کو ممکن بنایا جائے
  • قرضوں کی واپسی کی سہولت آن لائن/ڈجیٹل چینلز کے ذریعے فراہم کی جائے

کاغذ پر مبنی کلیئرنگ آپریشنز میں سہولت

وبا کے دوران بینکاری شعبے کو صارفین کی مالی ضروریات پوری کرنے میں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ عملی اوقات میں کمی اور بعض برانچز کی بندش تھی۔ ان اقدامات کے باعث کاغذی وثیقہ جات (Paper Based Instruments) کی پروسیسنگ کی تعداد میں کمی اور دورانیے میں اضافہ ہوا۔ اس صورت حال میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے ڈائریکٹ چیک ڈپازٹ کی سہولت متعارف کرائی، جس نے چیک کلیئرنگ کے پورے عمل کو ازسرِ نو منظم کیا۔

یہ سہولت نہ صرف پروسیسنگ کے وقت کو کم کرنے کا باعث بنی بلکہ صارفین کو اسٹیٹ بینک کے زیرِ انتظام RTGS کے ذریعے فوری فنڈ ٹرانسفر کی سہولت استعمال کرنے کا موقع بھی فراہم کیا ۔ اس سہولت کے تحت صارفین کو اپنے اکاؤنٹ رکھنے والی برانچ جانے کے بجائے، ادائیگی کرنے والے بینک کی کسی بھی برانچ میں کراس چیک جمع کروانے کی اجازت دی گئی، تاکہ فوری طور پر ان کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جا سکے۔

ان ہدایات کے تحت اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ صارفین کو درج ذیل سہولیات فراہم کریں، تاکہ کاغذی وثیقہ جات کی پروسیسنگ بغیر برانچ گئے ممکن ہو سکے:

  • گھر کی دہلیز سے چیک وصولی کی سہولت
  • ڈراپ باکس کے ذریعے چیک جمع کرانے کی سہولت
  • ترجیحی/کارپوریٹ صارفین کے لیے چیک کی اسکین شدہ تصویر کے ذریعے کلیئرنگ
  • امیج بیسڈ کلیئرنگ (IBC) کی سہولت