مالی شمولیت

مالی شمولیت کے بارے میں

پائیدار ترقی اور جامع ترقی کے حصول کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی فریم ورک میں مالی شمولیت سب سے آگے رہی ہے۔ یہ SBP ایکٹ 1956 (جیسا کہ 28 جنوری 2022 تک ترمیم شدہ) کے سیکشن 4(C) کے تحت SBP کے کلیدی مینڈیٹ میں شامل ہے۔ یہ SBP کی سٹریٹجک ترجیحات میں بھی شامل ہے جیسا کہ SBP ویژن 2028 میں بیان کیا گیا ہے۔

اس میں بینکنگ خدمات تک رسائی کو فروغ دینا، صنفی مرکزی دھارے میں شامل کرنا، ہاؤسنگ فنانس، ایس ایم ای فنانس، زرعی قرضہ، پائیدار مالیات اور دیگر ترجیحی شعبے شامل ہیں۔

مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی

اسٹیٹ بینک نے متعدد قومی حکمت عملیوں کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ سفر مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی 2015-20ء سے شروع ہوا، جس نے رسمی مالی خدمات تک رسائی بڑھانے کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی 2018-23ء کا نفاذ ہوا، جس سے ڈجیٹل فنانس کو مضبوطی ملی، رسائی کے مقامات میں اضافہ ہوا، اور خواتین، ایس ایم ایز، اور دیہی آبادیوں کے لیے ہدفی اقدامات متعارف ہوئے۔

اب اسٹیٹ بینک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی 2024-28ء نافذ کر رہا ہے، جو ایک تازہ اور مستقبل بین حکمت عملی ہے، جس میں ڈجیٹل مالی شمولیت، خواتین کی مالی خودمختاری، جدید مالی حل، اور ذمہ دارانہ مالیات کو ترجیح دی گئی ہے۔ موجودہ حکمت عملی مارکیٹ کی ابھرتی ہوئی ضروریات کی عکاسی کرتی ہے اور زیادہ جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور، مضبوط مالی ایکم سسٹم بنانے پر زور دیتی ہے۔ ان حکمت عملیوں کو درج ذیل لنکس کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔

مارکیٹ کی ترقی کے اقدامات

اسٹیٹ بینک ساختی رکاوٹوں کے سدباب اور مارکیٹ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا کر ایک مضبوط، جدید اور جامع مالی نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسٹیٹ بینک، ہدفی پالیسی مداخلتوں اور ’ڈجیٹل پبلک گڈز‘ کے ذریعے، مالی شعبے میں رسائی بڑھانے، کارکردگی میں اضافے اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ اقدامات بحیثیتِ مجموعی مالی شمولیت بڑھانے، خاص طور پر کم خدمات کے حامل طبقات کے لیے، اور صنعت کو وسیع تر اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل اپنانے میں مدد دیتے ہیں۔

آسان موبائل اکاؤنٹ (AMA)

آسان موبائل اکاؤنٹ (AMA) اسکیم ڈجیٹل رسائی کا ایک نمایاں اقدام ہے، جس کے تحت اکاؤنٹ نہ رکھنے والے افراد سادہ اور بغیر انٹرنیٹ کے حامل موبائل کے ذریعے بآسانی اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ تمام شریک بینکوں اور موبائل نیٹ ورک آپریٹرز میں انٹرآپریبل اکاؤنٹ کھولنا ممکن بناکر، آسان موبائل اکاؤنٹ نے ڈجیٹل رسائی پوائنٹس کو بڑی حد تک بڑھا دیا اور کم آمدنی اور دور دراز آبادیوں کا باقاعدہ مالی نظام میں داخلہ آسان بنادیا۔ مزید تفصیلات کے لیے براہِ کرم اس لنک کو ملاحظہ کیجیے:

زرخیز- ای پورٹل

زرخیز ای پورٹل ایک مرکزی ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے، جو کاشت کاروں اور مالی اداروں کے لیے شفاف اور حقیقی وقت میں قرضہ اسکیموں، ڈیٹا اور وسائل تک شفاف رسائی فراہم کر کے زرعی مالکاری کو جدید بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ پورٹل معلومات کے بہاؤ میں بہتری اور اس عمل کو آسان کر کے، خطرے کی تشخیص کو مضبوط بناتا ہے، قرضوں کو جلا بخشتا ہے، اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد دیتا ہے—جس سے بالآخر دیہی علاقوں کی مالی شمولیت اور زرعی پیداواریت بڑھا جاتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے براہِ کرم اس لنک کو ملاحظہ کیجیے:

پائیدار مالیات

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، جہاں غیرمعمولی طوفانی بارشیں، برفانی تودوں کا پگھلنا، دریائی سیلاب اور اچانک گرمی کی لہروں جیسی موسمیاتی شدت آ رہی ہیں۔ ان واقعات کے باعث ذریعۂ معاش، فصلوں، انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ توانائی اور غذائی تحفظ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی اثرات کے ردعمل میں،اسٹیٹ بینک نے "موسمیاتی تبدیلی" کو ایس بی پی وژن 2028ء کے چار جامع موضوعات میں شامل کیا ہے اور مالی شعبے کے موسمیاتی خطرات کے لحاظ سے کمزور زمروں پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اسٹیٹ بینک مالیات تک بہتر رسائی، بہتر انفراسٹرکچر اور پائیدار مالیات کے فروغ کے ذریعے، شعبے کی مضبوط میں معاونت کے لیے کوشاں ہے—خاص طور پر غذا اور آبی تحفظ کےچیلنج سے نمٹنے کے لیے۔ اسٹیٹ بینک مالی شعبے کے متعلقہ فریقوں کو موسمیاتی تقاضوں اور چیلنجز کو سنبھالنے، موسمیاتی خطرات کم کرنے کے لیے ضوابطی اور نگراں فریم ورک کو مضبوط کرنے، اور معیشت کو ماحول دوست بنانے کے لیے وسائل کو زیادہ پائیدار اور متحرک کرنے کے لیے فعال پالیسی اقدامات کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

مکاناتی قرضے

مکانات کے سستے قرضوں کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ پاکستان نے ’میرا گھر- میرا آشیانہ‘ کے نام سے اسکیم متعارف کرائی ہے جس کی خصوصیات مارک اپ زرِ اعانت اور خطرے میں شراکت داری ہیں۔

ترغیبی اسکیمیں

اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں تک رسائی بڑھا کر جامع، پائیدار اور وسیع اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی غرض سے مختلف نوعیت کی ترغیبی اسکیمیں پیش کرتا ہے۔ یہ اسکیمیں ایس ایم ای، مکاناتی مالکاری، پائیدار اور ماحول دوست قرضوں، اور برآمداتی شعبوں کے لیے خصوصی قرضوں میں معاونت کرتی ہیں۔ اس معاونت میں رعایتی قرض کی سہولت، خطرے میں شراکت اور زیرِ ہدف پالیسی اقدامات شامل ہیں۔ زیرِ نظر ویب پیج اسٹیٹ بینک کی ترغیبی اسکیموں سے متعلق اہم سرکلرز اور ہدایات کا مرکزی ذخیرہ ہے۔ یہ ویب پیج اسٹیک ہولڈرز کو مطلوبہ رہنمائی دینے کے علاوہ متعلقہ پالیسی کی تفصیلات کو سمجھنے اور ضوابطی فریم ورک سے آگاہی میں آسانی فراہم کرتا ہے۔

مالی خواندگی

اسٹیٹ بینک مالی خواندگی کو مالی شمولیت کے بنیادی محرک کے طور پر فروغ دیتا ہے۔ اسٹیٹ بینک ملک گیر آگاہی مہمات، اسکول پر مبنی پروگراموں، ڈجیٹل لرننگ ٹولز، اور اسٹیک ہولڈر کی شراکت داریوں کے ذریعے، انفرادی اشخاص — خاص طور پر خواتین، نوجوانوں، اور کم آمدنی والے گروپس کو— کو معلومات اور اعتماد فراہم کرنے کے لیے کاوشیں کرتا ہے تاکہ انہیں رسمی مالی خدمات تک رسائی، باخبر مالی فیصلے کرنے اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی خدمات کو ذمہ داری سے استعمال کرنے مدد مل سکے۔

اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں مالی خواندگی کی پہلی حکمت عملی بعنوان مالی خواندگی کا قومی روڈ میپ 2025-29 کا آغاز کیا، جو پاکستان بھر میں مالی خواندگی اور صارفین کی استعداد کو بڑھانے کے لیے ایک جامع فریم ورک ہے۔ اس میں ترجیحی اقدامات اور تعاون کے طریقہ کار کا احاطہ پیش کیا گیا ہے تاکہ مالی خواندگی کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے اور ملک بھر میں باخبر اور ذمہ دارانہ مالی رویے کو فروغ دیا جا سکے۔ مالی خواندگی کا قومی روڈ میپ درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:

مخصوص پروگراموں/اقدامات کے لیے، براہِ کرم نیچے ذیل میں درج لنکس ملاحظہ کیجیے:

شراکت داری اور تعاون

اسٹیٹ بینک بین الاقوامی مالی اداروں کی مالی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کے تحت دوطرفہ اور کثیر فریقی بندوبست کے ذریعے جدید حل تشکیل اور نافذ کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک جیسے ادارے نے مالی شمولیت کو فروغ دینے، مارکیٹ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے مزاحم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ان شراکت داریوں کے ذریعے، ڈجیٹل ادائیگی کے ایکوسسٹم کو وسعت دی، قرضہ ضمانت اسکیمیں تشکیل دی گئیں، ادارہ جاتی مضبوطی، اور موسمیاتی اسمارٹ زرعی فنانسنگ آزمائشی طور پر شروع کی۔ بنیادی پروگرامز جیسے ایشیائی ترقیاتی بینک کے مائیکروفنانس شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام اور دیہی مالکاری شعبہ ترقی پروگرام نے مائیکروفنانس اداروں، دیہی علاقوں کی مالی استعداد، خطرے میں تخفیف اور ڈپازٹس کے تحفظ کو توانا کیا۔ اس کے بعد کی اقدامات ، مالی خدمات تک رسائی میں بہتری کے پروگرام اور عالمی بینک کا FIIP شامل ہیں، سے سیالیت ، مالی خواندگی، اور ادارہ جاتی استعداد میں مزید بہتر آئی۔ حالیہ پروگرامز جیسے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ویمن انکلوسیو فنانس پروگرام اور ورلڈ بینک کے کلائمیٹ رسک فنڈ کی وساطت سے صنفی حساسیت اور موسمیاتی موافق قرضے متعارف کرائے گئے۔ بحیثیتِ مجموعی، یہ اقدامات پاکستان کی ایک مضبوط، جامع اور پائیدار مالی نظام کی طرف منتقلی میں معاون ہیں۔ ان پروگراموں کی تفصیلات درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں: