ایس بی پی ایکٹ 1956ء (جنوری 2022ء میں ترمیم شدہ) کی سیکشن 4C(j) کے تحت تشکیل پانے والے اسٹیٹ بینک کے میکرو پروڈنشیل پالیسی ورک (ایم پی پی ایف) میں مجموعی فراستی پالیسی کے مقاصد، ادارہ جاتی فریم ورک، پالیسی آلات کے ساتھ جانچ کا طریقہ کار اور ابلاغ کی حکمت عملی دی گئی ہے۔ اس کا مقصد اسٹیٹ بینک کے پاس مالی استحکام کو جانچنے کے طریقہ کار اور دستیاب آلات کو سمجھنے میں فریقوں کی اعانت کرنا ہے، جنہیں مختلف منظرناموں میں خصوصی طور پر بینکاری کے شعبے اور عمومی طور پر مالی شعبے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نظامیاتی خطرات کو محدود رکھنے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی ضابطہ کاری میں شامل مالی اداروں کی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کے اثرات سمیت خطرے کے اہم عوامل اور معاشی حالات کے مقابلے میں کمزوریوں اور مضبوطی کو جانچنے کے لیے دباؤ کی جانچ کا ایک جامع فریم ورک نافذ کیا ہے۔ اس فریم ورک میں اوپر نیچے اور نیچے اوپر کے طرز فکر کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اوپر نیچے دباؤ کی جانچ کے تحت اسٹیٹ بینک سہ ماہی بنیادوں پر واحد عامل حساسیت کا تجزیہ، کثیر عوامل حساسیت کا تجزیہ اور کلی دباؤ کی جانچ یا منظرنامے کا تجزیہ کرتا ہے۔ حساسیت کے تجزیے کے نتائج کے خلاصے کو ہر سہ ماہی کے کوارٹرلی کمپینڈیم میں دیا جاتا ہے اور کلی دباؤ کی جانچ کے مجموعی نتائج کو مالی استحکام کے جائزے اور پارلیمنٹ کو گورنر کی رپورٹ میں شائع کیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی ضابطہ کاری میں شامل اداروں یعنی بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں، اسلامی بینکوں، اسلامی بینکوں کی برانچوں اور مائیکرو فنانس ینکوں کے لیے ’’دباؤ کی جانچ کے اہنما اصول‘‘ بھی جاری کیے ہیں، جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سہ ماہی بنیادوں پر واحد عامل حساسیت کے تجزیے کی مشق انجام دیں۔ مزید برآں، نمونہ ڈی ایس آئی بیز کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر کلی دباؤ کی جانچ انجام دیں اور اس کے نتائج اپنے کفایت سرمایہ کے اندرونی جائزوں اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کریں۔
اسٹیٹ بینک کی دباؤ کی جانچ کے رہنما اصولوں کی تفصیلات درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:
مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کلی فراستی نگرانی پالیسی میں مختلف پالیسیوں کے ساتھ جامع اشتراک کیا جاتا ہے جن میں زری پالیسی، جزوی فراستی پالیسی، مالیاتی پالیسی وغیرہ شامل ہیں۔ مزید برآں، اہم نظامیاتی خطرات کے تجربات اور اس کے متعلق خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے جامع اشتراک کے ساتھ ایسی معاون پالیسیوں اور آلات کی ضرورت ہے جن کی مدد سے ایسے خطرات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے اندرونی اور بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کثیر جہتی تعاون کے انتظامات کیے گئے ہیں ، جنہیں ذیل میں دیا گیا ہے:
مالی استحکام کے معاملات کی نگرانی، شناخت کیے گئے نظامیاتی خطرات کو زائل کرنے کے فیصلے کرنے اور مختلف شعبوں میں اشتراک میں سہولت دینے اور بینکاری نظام کی مضبوطی کو بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے پاس سینئر سطح کے اشتراک کا طریقہ کار موجود ہے۔
مشترکہ ٹاسک فورس دیوپیکر مالی اداروں سے متعلق امور پر دو ضابطہ کاروں (ایس بی پی اور ایس ای سی پی) کے درمیان اشتراک کے لیے فوکل پوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد پاکستان کے مالی شعبے میں دیوپیکر مالی اداروں کے اتحاد سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی اوران سے نمٹنا ہے۔ دونوں ضابطہ کار ٹریگرپوائنٹس کا تبادلہ کرتے ہیں جو دیوپیکرمالی ادارے کی مجموعی صحت، ممکنہ ضوابطی بطراج، کے لحاظ سے پیشگی انتباہی نظام کے طور پر کام کرتے ہیں، جس میں سرمائے کا کثیر استعمال، گروپ کے اندر مشکوک لین دین، مالی اداروں اور نظامیاتی خطرات کے حوالے سے گروپ کی سطح پر اینٹی منی لانڈرنگ/ سی ایف ٹی/ سی پی ایف پر عملدرآمد کے معاملات شامل ہیں۔
قومی مالی استحکام کونسل کا قیام 14 مئی 2020ء کو وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کے درمیان سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا۔ اس بندوبست کے تحت وزارت خزانہ اور محصولات اس کونسل کے چیئرمین ہیں، جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی کو اس کے ارکان کی حیثیت حاصل ہے۔ قومی مالی استحکام کونسل کا مقصد پاکستان میں مالی نظام کے استحکام کو فروغ دینا اور اداروں کے مابین اشتراک کو بڑھانا ہے تا کہ نظامیاتی خطرات پر مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں، خصوصاً ایسے خطرات جن کے پوری مالی مارکیٹ اور مالی استحکام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک مختلف عالمی مالی اصلاحات کے نفاذ کے لیے فعال کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مرکزی بینک مختلف سرحد پار نگرانوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مالی استحکام کے لیے تعاون کرتا ہے، جن میں آئی ایم ایف، عالمی بینک، بی آئی ایس، بی سی بی ایس، اے ایف آئی ایف ایس بی، ایف ایس بی علاقائی مشاورتی گروپ برائے ایشیا (آر سی جی ایشیا) شامل ہیں۔اسٹیٹ بینک کے حکام ایف ایس بی آر سی جی ایشیا کے اجلاسوں اور بی سی بی ایس اور اے ایف آئیز کے ورکنگ گروپس میں شرکت کے ذریعے بین الاقوامی فورموں پر کردار ادا کر رہے ہیں اور دیگر ممالک کے مرکزی بینکوں کے حکام کی استعداد بڑھانے کے لیے اجلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک مالی شعبے کے مالی استحکام کو جانچنے کے متعلق ایف ایس بی اور آئی ایم ایف کے سرویز پر فیڈبینک بھی فراہم کرتا ہے۔