مالی خدمات کی دستیابی اور تسلسل

مالی خدمات کی دستیابی اور تسلسل

کورونا وائر س (COVID-19) کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کے لیےہم نے مالی نظام کے ذریعے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں، اس سلسلے میں بینکوں کے عملے اور صارفین میں آگاہی بڑھائی ہے، اور تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ بینک صارفین کو مالی خدمات بلاتعطل فراہم ہوں۔

اسٹیٹ بینک بینکاری صنعت کے ساتھ مستقل رابطے میں ہےتاکہ مسائل اور دشواریوں کو سمجھا جا سکے اور اسی کے مطابق پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ اس جذبے کے تحت اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور مائکرو فنانس بینکوں کا احاطہ کرنے والے ایک فوری سروے کا انعقاد کیا۔ سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ بینکاری صنعت نے کورونا وائر س کے مضر اثرات کو محدود کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ ممکنہ بدترین حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری کے اعتبار سے بینکاری صنعت کے مختلف اداروں کے مابین فرق موجود ہے۔

بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں /مائکرو فنانس بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائر س کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات کریں تاکہ مالی خدمات بلاتعطل جا ری رکھی جا سکیں:

  • بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں /مائکرو فنانس بینکوں کے عملے اور صارفین میں کورونا وائر س کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے،
  • عالمی ادارہ صحت ، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کی جاری کردہ رہنما ہدایات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملازمین کے تحفظ اور صحت اور جائے کار کی صفائی کو یقینی بنایا جائے،
  • احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، جیسے رقم گننے والی مشینوں کا استعمال بڑھانا ، فراہمی کے متبادل ذرائع (اے ڈی سیز) استعمال کرنے کے لیے صارفین کی حوصلہ افزائی، وغیرہ تاکہ کرنسی نوٹ اور دیگر مالی آلات کو چھونے کا امکان کم سے کم ہوجائے۔ مزید یہ کہ اے ڈی سیز (مثلاً اے ٹی ایم، آن لائن بینکاری، کال سینٹر وغیرہ کے ذریعے لین دین) کے ذریعے بلا رکاوٹ مالی خدمات فراہم کرنے کے لیے جامع انتظامات کرنا؛
  • موجودہ صورتِ حال میں کاروباری تسلسل کے منصوبوں (بی سی پیز) کا ازسرِ نو جائزہ لینا اور ان کے مؤثر نفاذ کے لیے افرادی و دیگر وسائل مختص کرنے سمیت موزوں اصلاحی منصوبے تیار کرنا؛
  • • اثر کا تجزیہ کرنا تاکہ کاروبار اور آپریشنز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اور اہم خطرے والے شعبوں جیسے کریڈٹ ، سرمایہ منڈی اور زرِمبادلہ کے اکتشاف کے لیے نگرانی کے اقدامات کو بڑھایا جاسکے، اور
  • • ادائیگی و تصفیے کے نظام کے کلیدی شراکت داروں ، جیسے این آئی ایف ٹی (نفٹ)، ون لنک، این سی سی پی ایل، اور سی ڈی سی سے رابطہ رکھنا تاکہ ان کی خدمات مسلسل دستیاب رکھی جاسکیں۔

مذکورہ ہدایات پر عمل درآمد اور دیگر ضروری اقدامات کے لیے، بینکوں / ایم ایف بیز / ڈی ایف آئیز کو ایک سینئر سطح کی کمیٹی تشکیل دینے ہدایت کی جاتی ہے تاکہ کووڈ -19 سے پیدا شدہ خطرات کے ضمن میں ٹھوس اور مناسب رد عمل یقینی بنایا جاسکے ۔

اے ٹی ایم کی مسلسل دستیابی

بینک اے ٹی ایم کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنائیں گے اور ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے فعال رکھیں گے۔ بینکوں کے کال سینٹرز اور ہیلپ لائنز کو بھی ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے فعال رہنا چاہیے اور شکایات کا بروقت ازالہ کیا جانا چاہیے۔

بینکاری کے اہم وظائف اور نظام دستیاب رہیں گے

بینکاری خدمات کی فراہمی کےلیے درکار تمام ضروری وظائف اور سسٹم بشمول ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم (آر ٹی جی ایس) لاک ڈاؤن کے دوران بھی حسبِ معمول دستیاب رہیں گے۔ بڑے پیمانے پر برانچوں کی بندش سے آپریٹو برانچوں میں بھیڑجمع ہوسکتی ہے ، جو اس بیماری کے پھیلاؤ کے خلاف کوششوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ تاہم، بینک ان برانچوں کو بند کرسکتے ہیں جہاں اسٹاف وائرس سے متاثر ہوجائے اور جس کے لیے ضروری انسانی وسائل دستیاب نہ ہوں۔ لاک ڈاؤن کے دوران صارفین کی برانچوں میں آمد کی بنیاد پر چند روز میں دوبارہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

بینکوں اور اسٹیٹ بینک میں کم سے کم اسٹاف

اسٹیٹ بینک نے 24 مارچ 2020ء سے یہ انتظام نافذ کیا ہے جس کے تحت اس کے دفاتر میں کم سے کم اسٹاف اہم وظائف کی انجام دہی کے لیے موجود ہوگا جبکہ بقیہ اسٹاف کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بینک بھی اپنی برانچوں اور ہیڈ / ریجنل دفاتر میں یہ انتظامات کرسکتے ہیں۔ مزید برآں، اگر بینک اپنے صارفین کو بہتر طور پر سہولتیں فراہم کرنا چاہیں تو اپنے برانچ آپریشنز صبح دس بجے سے شروع کرسکتے ہیں۔

سرکلرز :

بایو میٹرک توثیق (بی ایم وی) کی جگہ نادرا کا Verisys

31 دسمبر 2020 ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بایومیٹرک توثیق یعنی بی ایم وی کی جگہ نادرا Verisys کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی مدت 30 جون 2021ء تک بڑھا دی جس میں دیگر توثیق بھی شامل ہے۔ قبل ازیں آخری تاریخ 31 دسمبر 2020ء تھی تاہم، مدت کے ختم ہونے کے بعد، مائکرو فنانس بینک نئے شیڈول کے تحت بالترتیب 31 جولائی 2021 ء اور 30 ستمبر 2021 ءکو ان صارفین کے لیے جو درمیانی اور معمول کی ترجیحات کے حامل ہیں، بایومیٹرک توثیق دوبارہ نافذ کریں گے ۔ ان بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الیکٹرانک اکاؤنٹ کھولنے کے فارم/ دیگر فارم متعارف کرائیں اور ان کے لیے سی ایف ٹی/ اے ایم ایل ضوابط کے تحت مطلوبہ معلومات کو الیکٹرانک طور پر حاصل کر کے ریکارڈ پر رکھیں۔

سرکلر:

چیک کلیئرنگ آسان اور تیز تر

کورونا وائرس کے پس منظر میں فرد سے فرد کا میل جول کم کرنے اور صارفین کو خدمات میں آسانی فراہم کرنے کے لیے بینکوں اور ایم ایف بیز کو ڈائریکٹ چیک ڈپازٹ کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے تحت وصول کنندہ کراس چیک کو اداکنندہ/وصول کنندہ بینک میں براہِ راست جمع کرا سکتا ہے، بجائے ان بینکوں کی برانچوں کے، جیسا کہ موجودہ طریقہ کار ہے۔ اس طرح سےاداکنندہ/وصول کنندہ بینکوں کی جانب سے بین البینک رقوم کی منتقلی کی فعالیت کے تحت آر ٹی جی ایس کے ذریعے رقوم کی منتقلی ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، بینک / ایم ایف بیز اپنے صارفین کی درخواست پر ان کے رجسٹرڈ ایڈریس سے چیک وصول کرنے کا انتظام بھی کرسکتے ہیں یا صارفین اپنے بینکوں کی منتخب برانچوں میں نصب ڈراپ باکس میں اپنا چیک ڈال سکتے ہیں۔

مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں، بینکوں کے کارپوریٹ/ ترجیحی صارفین ان کے اکاؤنٹ سے رقوم وصول کنندگان کے بینک میں منتقل کرنے کے لیے استفادہ کنندہ (beneficiary) کی متعلقہ تفصیلات کے ساتھ اسکین شدہ چیک اپنے رجسٹرڈ ای میلز کے ذریعے یا اپنے بینکوں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ تاہم ، اپنے صارفین کو یہ خدمات پیش کرتے ہوئے بینکوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں کے مطابق خطرے میں کمی کے اضافی اقدامات نافذ کریں۔ بینک / ایم ایف بیز کلیئرنگ ہاؤس (نفٹ) اور بینکوں کے مابین متفقہ ایس او پی کے مطابق امیج بیسڈ کلیئرنگ (آئی بی سی) فعالیت کے ذریعے اپنے چیک کلیئر کرنے کے لیے این آئی ایف ٹی کے ساتھ بھی انتظامات کرسکتے ہیں۔

بینک سائبر سیکورٹی کے مزید مضبوط اقدامات اپنائیں گے

مالی اداروں کے صرف مجاز استعمال کنندگان ہی کو داخلی آئی ٹی وسائل تک رسائی حاصل ہوگی۔ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی سائبر سیکورٹی پالیسیاں جاسوسی، رکاوٹ، اور تحریف کے خطرات سے نمٹ سکتی ہیں۔ بینکوں کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ سائبر سیکورٹی واقعات سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے مخصوص سائبر تھریٹ انٹیلی جنس یونٹ (سی ٹی آئی-یو) اور ہنگامی رسپانس ٹیمیں (ای آر ٹیز) تشکیل دیں۔ وہ مشکوک / کام سے متعلق موضوع ، منسلکات (اٹیچ منٹس) ، یا ہائپر لنک، بالخصوص وہ جو کووڈ-19 کے حالیہ رجحان سے متعلق ہیں، کی حامل ای میلوں کی ہینڈلنگ میں بھی احتیاط برتیں گے ۔

ہیلپ لائن کی دستیابی اور ذاتی معلومات کے حصول کے لیے کال کرنے والے دھوکے بازوں سے انتباہ

ہم نے ان صارفین کی سہولت کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں جنھیں کورونا وائرس کی صورتِ حال کے تناظر میں غیرمعمولی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اگر انھیں بینکوں کی جانب سے مناسب جواب نہ ملے تو وہ اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن 021-111-727-273 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

بینک ملازمین اور صارفین کے تحفظ ، جائے کار کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت، حکومتِ پاکستان، اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے دی گئی رہنما ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔ اگر بینک ملازمین اور صارفین کو اس ضمن میں اب بھی مشکلات درپیش ہوں یا سیفٹی کے لیے انتظامات پر تشویش ہو تو وہ ای میل [email protected] پر میل بھیج کر ہمارے علم میں لا سکتے ہیں۔

مزیدبرآں، عوام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں دھوکے بازوں کی جانب سے کسی آنے والی کال یا میسج پر اپنے بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈز کے بارے میں ذاتی یا اکاؤنٹ کی معلومات ظاہر نہ کریں۔ ایسی کالز یا میسج کی تفصیلات سے اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن 021-111-727-273 پر آگاہ کیجیے یا [email protected] پر ای میل بھیجیے۔

تفصیل ڈاؤن لوڈ
تفصیلات کے لیے PDF icon