اسٹیٹ بینک ملک میں بینک نوٹوں کا اجرا کرنے والا واحد ادارہ ہے اور ملک بھر میں معیاری بینک نوٹوں کی مناسب فراہمی اس کے کلیدی اسٹریٹجک مقاصد میں شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے آلودہ اور ناقابلِ استعمال بینک نوٹ جمع کرتا ہے اور انہیں نئے بینک نوٹوں سے تبدیل کرتا ہے۔ دیگر مرکزی بینکوں کی طرح، اسٹیٹ بینک وقتاً فوقتاً بینک نوٹوں کی نئی سیریز جاری کرتا ہے اور پچھلی سیریز کو وفاقی حکومت کی منظوری سے بند کر دیتا ہے۔ مزید برآں، بینک نوٹوں کی بندش کی منظوری وفاقی کابینہ کی طرف سے اسٹیٹ بینک بورڈ کی سفارشات کے مطابق اسٹیٹ بینک ایکٹ، 1956ء کے سیکشن 25(2) کے تحت دی جاتی ہے۔
نئی سیریز کے بینک نوٹ جاری کرنا اور پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کو بند کرنا مرکزی بینکوں کو نقلی بینک نوٹوں کی روک تھام کرنے اور زیرِ گردش بینک نوٹوں کی سالمیت کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بینک نوٹوں کی موجودہ سیریز 2005ء سے 2008ء کے دوران جاری کی گئی اور پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹ آہستہ آہستہ گردش سے خارج کیے گئے۔ لہٰذا، وفاقی حکومت نے 10، 50، 100 اور 1000 روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بینک نوٹ یکم دسمبر 2016ء سے قانونی ادائیگی کے طور پر بند ہو گئے۔
10، 50، 100 اور 1000 روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹ 31 دسمبر 2022ء تک ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر سے تبدیل کیے جا سکتے تھے۔
یہ نوٹ ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر سے تبدیل کیے جا سکتے ہیں جو کراچی, لاہور, پشاور, کوئٹہ, اسلام آباد, راولپنڈی, فیصل آباد, ملتان, گوجرانوالہ, حیدرآباد, سیالکوٹ, سکھر, بہاولپور, مظفرآباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اگست 2015ء میں بینکوں کے لیے انتظامِ کرنسی کی حکمتِ عملی جاری کی، جس کے مقاصد درج ذیل ہیں:
اس حکمتِ عملی کے تحت تمام بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ملک بھر میں اپنی کرنسی آپریشنز کو خودکار بنائیں اور اپنی برانچوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے عوام کو صرف مشین سے تصدیق شدہ بینک نوٹ ہی جاری کریں۔ بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ نقدی کی پراسیسنگ کے تمام مراحل کی نگرانی کے لیے ہائی ریزولوشن کیمروں کے ذریعے مکمل کوریج یقینی بنائیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کم از کم 60 دن تک محفوظ رکھیں۔ کسی بھی تنازع کی صورت میں اس فوٹیج کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بینک نوٹوں کی تصدیقی مشینوں کے ذریعے پراسیسنگ، سی سی ٹی وی ریکارڈ کا تحفظ اور معیاری پیکنگ کا مقصد یہ ہے کہ بینکوں کی جانب سے کوئی جعلی بینک نوٹ جاری نہ ہو اور اگر کسی صورت میں جعلی بینک نوٹ بینکاری نظام میں داخل ہو جائے تو بینک اسے شناخت کر کے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسٹیٹ بینک کی کیش مانیٹرنگ ٹیمیں بھی بینکوں کی برانچوں اور اے ٹی ایم کا اچانک دورہ کرتی ہیں تاکہ انتظامِ کرنسی کی حکمتِ عملی کی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ جو بینک ان ہدایات کی تعمیل نہیں کرتے، ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔