ادائیگیاں

ٹریلین روپے کی ادائیگیوں کو حقیقی وقت (Real Time) میں مکمل کرنے والے قومی انفراسٹرکچر سے لے کر لوگوں کے روزمرہ استعمال میں موجود ڈجیٹل والٹس، کارڈز اور ایجنٹس تک، پاکستان کا نظامِ ادائیگی ایک مربوط ماحولیاتی نظام (ایکوسسٹم) ہے جسے اسٹیٹ بینک نے محفوظ، مؤثر اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے لیے تشکیل دیا اور منظم کیا ہے۔

ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر

وہ بنیادی قومی نظام جو پسِ پردہ رقوم کی منتقلی اور تصفیے (Settlement) کو ممکن بناتے ہیں، جن میں بین البینک بڑی مالیت کی رقوم کی منتقلی سے لے کر پورے ملک میں فوری ریٹیل ادائیگیاں شامل ہیں۔

پاکستان ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ میکانزم پلس (پرزم پلس)

آئی ایس او 20022
جدید انتظامِ سیالیت (Advanced Liquidity Management)
جدید قطار بندی (Advanced Queuing)
الگ تھلگ ساخت (Decoupled Architecture)

یہ نظام بازارِ زر کی سرگرمیوں کے لیے سینٹرل سیکیورٹیز ڈپازٹری (CSD) پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے، جس میں حکومتی سیکیورٹیز کی نیلامی، ثانوی مارکیٹ کے لین دین، کولیٹرل کا انتظام اور بازارِ زر کے سودے شامل ہیں۔

راست

پاکستان کا پہلا فوری ادائیگیوں کا نظام

راست افراد، کاروباری اداروں اور حکومتی اداروں کے درمیان مکمل ڈجیٹل ادائیگیوں کو فوری طور پر ممکن بناتا ہے۔ پاکستان کا یہ تیز رفتار ادائیگیوں کا نظام کم مالیت کی ریٹیل ادائیگیوں کو ریئل ٹائم (Real Time) میں مکمل کرتا ہے، جبکہ مالی شعبے کے تمام شراکت داروں، بشمول کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں، سرکاری اداروں اور فن ٹیک اداروں (جیسے ای ایم آئیز اور پی ایس پیز) کو کم لاگت اور ہر ایک کے لیے قابلِ رسائی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ادائیگیوں کا ایکوسسٹم

وہ لائسنس یافتہ ادارے جو ڈجیٹل ادائیگیوں کو جاری، منتقل اور مکمل کرتے ہیں۔ یہ ادارے اپنے متعلقہ ضوابطی نظام کے تحت اسٹیٹ بینک کی جانب سے مجاز اور زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔

کمرشل اور مائیکرو فنانس بینک
الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز

ڈجیٹل بینک

مکمل طور پر ڈجیٹل بینک جو کسی مادی برانچ کے بغیر کام کرتے ہیں۔ ستمبر 2023ء میں اسٹیٹ بینک نے پانچ ڈجیٹل ریٹیل بینکوں (DRBs) کو اصولی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد سے ہر ادارہ اپنی اپنی رفتار کے مطابق لائسنسنگ کے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ کچھ ادارے مکمل کمرشل آغاز کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ دیگر اپنے انفراسٹرکچر کی تیاری اور ضوابطی تقاضوں کو پورا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔

لوڈ ہو رہا ہے…

سرحد پار ادائیگیاں اور اشتراک و تعاون

اسٹیٹ بینک علاقائی اور کثیر فریقی اداروں کے ساتھ فعال طور پر کام کرتا ہے تاکہ سرحد پار ادائیگیوں کی رفتار، لاگت اور شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا مقصد پاکستان کے داخلی ادائیگیوں کے انفراسٹرکچر کو وسیع تر عالمی ادائیگیوں کے نظام سے منسلک کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے عرب مانیٹری فنڈ (AMF) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں تاکہ راست کو بُونا (Buna) کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔ بُونا، اے ایم ایف کا سرحد پار اور ملٹی کرنسی ادائیگیوں کا نظام ہے، جسے عرب ریجنل پیمنٹس کلیئرنگ اینڈ سیٹلمنٹ آرگنائزیشن (ARPCSO) چلاتی ہے۔ اس انضمام کا مقصد عرب خطے اور پاکستان کے درمیان فوری اور کم لاگت ترسیلاتِ زر کو باضابطہ ڈجیٹل ذرائع کے ذریعے ممکن بنانا ہے، جس سے افراد اور کاروباری ادارے دونوں فائدہ اٹھائیں گے۔

پاکستان سارک پیمنٹس انیشی ایٹو (SPI) میں شریک ہے، جو جنوبی ایشیا کے مرکزی بینکوں کے درمیان سرحد پار ادائیگیوں کے فریم ورک پر تعاون اور خطے میں ادائیگیوں کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔ اسٹیٹ بینک الائنس فار فنانشل انکلوژن (AFI) کا بھی فعال رکن ہے، جہاں یہ ڈجیٹل ادائیگیوں اور مالی شمولیت سے متعلق عالمی پالیسی سازی کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

سیکیورٹی کے معیارات

اسٹیٹ بینک صارفین کے تحفظ اور ادائیگیوں کے نظام کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے تمام ادائیگیوں کے ذرائع اور آلات پر سیکیورٹی کے معیارات لاگو کرتا ہے۔ زیرِ ضابطہ اداروں کے لیے درج ذیل تقاضوں پر عمل درآمد لازم ہے:

تفصیل لنک
ادائیگی کارڈز کی سیکیورٹی سے متعلق ضوابط
انٹرنیٹ بینکنگ کی سیکیورٹی سے متعلق ضوابط
موبائل ایپ سیکیورٹی کے رہنما خطوط
ڈجیٹل بینکنگ مصنوعات اور خدمات کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے اقدامات
ادائیگیوں کے اداروں کے لیے ٹیکنالوجی رسک مینجمنٹ فریم ورک

سیکیورٹی کے مکمل اور تازہ ترین تقاضوں کی فہرست کے لیے براہِ مہربانی اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین سرکلرز سے رجوع کیجیے۔

نظام ادائیگی کے اعداد و شمار

شعبۂ نظامِ ادائیگی پالیسی و نگرانی سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر نظامِ ادائیگی کا جائزہ (Payment Systems Review) شائع کرتا ہے، جس میں پاکستان کے ادائیگیوں کے ایکوسسٹم کی کارکردگی سے متعلق جامع اعداد و شمار اور تجزیہ فراہم کیا جاتا ہے۔