پاکستان میں مارکیٹ پر مبنی لچکدار شرحِ مبادلہ کا نظام رائج ہے، جہاں شرحِ مبادلہ کا تعین مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور اس میں آنے والا رجحان عموماً ملک کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور دیگر معاشی اظہاریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت اسٹیٹ بینک کی بازار مبادلہ میں مداخلت کا کردار محدود ہوتا ہے، جس کا مقصد صرف غیر منظم مارکیٹ حالات سے بچاؤ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہوتا ہے، اور کسی مخفی رجحان پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ شرحِ مبادلہ بیرونی دھچکوں کے خلاف پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتی ہے اور ملک کے قیمتی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بیرونی کھاتے پر دباؤ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
1947ء کے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت بینک دولت پاکستان زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ حکومت کے نمائندے کے طور پر اسٹیٹ بینک سونا، چاندی یا منظور شدہ زرمبادلہ کی خریدوفروخت کا مجاز ہے، اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کی دفعہ 17،ذیلی دفعہ (a)13 اور 13(f) کے تحت اسے آئی ایم ایف سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کے لین دین کا اختیار بھی حاصل ہے۔