ترسیلاتِ زر

ترسیلاتِ زر

ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے اور یہ ملک کے توازنِ ادائیگی کو سہارا دینے، معاشی استحکام کو مضبوط کرنے، اور لاکھوں خاندانوں کی زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر، باضابطہ ذرائع سے محفوظ، آسان اور کم خرچ میں رقوم کی ترسیل کی خدمات فراہمی کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

ترسیلاتِ زر کی ترغیباتی اسکیمیں

حکومتِ پاکستان نے باضابطہ ذرائع سے ترسیلات زر کو فروغ دینے کے لیے گذشتہ برسوں کے دوران مختلف ترغیباتی اسکیمیں متعارف کرائیں تاکہ ترسیلات زر کے باضابطہ ذرائع کے اخراجات کو قابلِ برداشت بنایا جائے، اور ان کی رسائی اور ترغیب میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان ریمی ٹینس انیشی ایٹو

تعارف

پاکستان میں ترسیلات کی سہولت کے ملکیتی ڈھانچے کی فراہمی کے لیے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور وزارت برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی نے 2009ء میں پاکستان ریمی ٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی) کا آغاز کیا۔ پی آر آئی کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:

  • ترسیلات کی تیز، سستے، آسان اور مؤثر آمد کو ممکن اور یقینی بنانا
  • بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا۔

پی آر آئی کا کام کیا ہے

  • خصوصی ماڈل کے ذریعے ترسیلات کی مؤثر خدمات میں سہولت: پی آر آئی نے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایک خصوصی ترسیلات چینل متعارف کرایا ہے جسے عام طور پر ’پی آر آئی چینل' کہا جاتا ہے۔ یہ چینل ملکی اور بین الاقوامی مالی اداروں کے درمیان براہِ راست دو طرفہ معاہدوں پر تشکیل دیا گیا ہے، اور پری-فنڈنگ کی ضرورت، اے پی آئی کنکٹی وٹی کے ذریعے سسٹم-ٹو-سسٹم انٹی گریشن، اور پاکستان کے قومی ادائیگی کے انفرا سٹرکچر سے اس کی معاونت کی جاتی ہے۔ یہ چینل کارکردگی بڑھانے، اخراجات کم کرنے، اور اسے رسمی ذرائع سے ترسیلات کی محفوظ اور فوری ترسیل یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
  • پاکستان میں ترسیلات کے نیٹ ورک کی توسیع: پی آر آئی نے پاکستان کے ترسیلاتِ زر کے ایکوسسٹم کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور بینکوں، مائکروفنانس بینکوں، اور مبادلہ کمپنیوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی اور سہولت دینے میں مدد دی ہے۔ مزید برآں، برانچ لیس بینکاری نیٹ ورک کو بھی موبائل والٹس کے ذریعے ترسیلات کی وصولی کا اختیار دیا گیا ہے۔
  • ترسیلات کی عالمی شراکت داری میں توسیع: پی آر آئی ملکی اور بین الاقوامی مالی اداروں، منی ٹرانسفر آپریٹرز (ایم ٹی اوز)، اور فِن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطے سے کام کرتا ہے تاکہ ترسیلات کے ذرائع کو مستحکم بنایا جائے اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ترسیلات کے باضابطہ چینلز تک رسائی کو بڑھایا جا سکے۔
  • وسعت اور آگاہی: پی آر آئی پاکستانی بینکوں کی معاونتسے باقاعدگی سے پاکستان اور بیرون ملک آگاہی کی مہمات چلاتا ہے تاکہ:
    • باضابطہ ذرائع کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
    • رقم بھیجنے والوں اور وصول کنندگان کو باضابطہ ذرائع کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔
    • ہنڈی/حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع سے وابستہ خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جا سکے۔
    • پاکستانی معیشت کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی قابلِ قدر خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔
  • پاکستان ریمی ٹینس سمٹ (پی آر ایس) اور پی آر آئی ایوارڈز: پی آر آئی نے آنے والی ترسیلات کے اہم مراکز میں پاکستانی بینکوں کی شراکت سے 2017ء سے پاکستان ریمی ٹینس سمٹ کا انعقاد کیا ہے تاکہ وہاں شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے، معلومات کا تبادلہ کیا جائے ، اور ترسیلات کی صنعت میں ابھرتے رجحانات اور جدت طرازی پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ ان اجلاسوں میں اُن مالی اداروں کو پی آر آئی ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں ترسیلات کے فروغ کے لیے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔
  • قبل از روانگی بریفنگ: بیرون ملک ملازمین بھیجنے اور ملازمت کے سرکاری ادارے بی ای اینڈ او ای اور بینکوں کے تعاون سے پی آر آئی اُن لوگوں کے لیے آگاہی کی تشستیں منعقد کرتا ہے جو بیرون ملک ملازمت کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ وہ رقوم بھیجنے کے باضابطہ طریقوں کے فوائد اور ہنڈی/حوالہ جیسے غیر رسمی طریقوں کے خطرات جان سکیں۔ یہ پروگرام کارکنوں کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

پی آر آئی کال سنٹر

پی آر آئی ایک خصوصی 'کال سینٹر' بھی چلاتا ہے تاکہ ملک میں آنے والی ترسیلات سے متعلق معلومات، رہنمائی، اور شکایات کا حل فراہم کیا جا سکے۔ صارفین آنے والی ترسیلات اور متعلقہ شکایات کے بارے میں مدد کے لیے کال سینٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔