بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) نے اقتصادی عاملین کا نیٹ ورک (ای اے این) اس مقصد سے قائم کیا ہے تا کہ حقیقی معیشت کے بارے میں اپنی سمجھ بوجھ کو کاروباری اداروں اور دیگر معاشی شراکت داروں کے ساتھ منظم اور زمینی رابطوں کے ذریعے مزید تقویت دی جا سکے۔ صنعت، خدمات اور زراعت کے شعبوں کے نمائندوں سے تبادلۂ خیال کے ذریعے ای اے این سرکاری اعداد و شمار اور مالی منڈیوں کے اظہاریوں کی اعانت کرتا ہے، اور مختلف علاقوں اور شعبوں میں ابھرتے ہوئے رجحانات، رکاوٹوں، توقعات اور ممکنہ خطرات سے متعلق بروقت معیاری بصیرت فراہم کرتا ہے، جس سے معیشت کی بہتر اور جامع تفہیم میں مدد ملتی ہے۔
یہ اقدام بہترین بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ اب دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے روایتی میکرواکنامک ڈیٹا کے ساتھ مشاہداتی شواہد پر انحصار میں اضافہ ہو رہا ہے ، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں سرکاری اعداد و شمار تاخیر سے جاری ہوتے ہوں یا ان میں نظرِ ثانی کا امکان موجود ہو۔ اس کی نمایاں مثالوں میں امریکہ کے فیڈرل ریزرو کا بیج بک، بینک آف انگلینڈ کا ایجنٹس نیٹ ورک اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا لائژن پروگرام شامل ہیں ۔
ای اے این کے مقاصد درج ذیل ہیں:
ای اے این معیشت کے اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت اور پالیسی سے متعلق ابھرتے ہوئے مسائل کو سمجھنے کے لیے باقاعدگی سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ اس وقت یہ نیٹ ورک کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں قائم خصوصی ٹیموں کے ذریعے کام کر رہا ہے۔ منظم مشاورتی عمل کے تحت، جو زیادہ تر سینئر کاروباری رہنماؤں اور بڑے معاشی مراکز میں موجود دیگر اہم معلومات فراہم کرنے والے افراد کے ساتھ بالمشافہ انٹرویوز پر مشتمل ہوتا ہے، ای اے این مختلف اظہاریوں سے متعلق معلومات جمع کرتا ہے، جن میں طلب اور رسد کی صورت حال، خام مال کی لاگت میں اضافے کا دباؤ، قیمتوں کے تعین کا رویہ، روزگار کے رجحانات، مالی سہولتوں کی دستیابی، اور مینوفیکچرنگ، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں کاروباری توقعات شامل ہیں۔
ان مشاورتی سرگرمیوں سے حاصل شدہ معلومات کو یکجا کر کے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جہاں یہ باخبر پالیسی مباحث اور معاشی اظہاریوں کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ ان نتائج کو عوامی آگاہی کے لیے سہ ماہی رپورٹس کی صورت میں بھی شائع کیا جاتا ہے۔ یہ سہ ماہی اشاعتیں زرعی شعبے اور کاروباری حلقوں سے مشاورت اور تبادلۂ خیال کی عکاسی کرتی ہیں اور انہیں اسٹیٹ بینک کے حکام کی رائے یا مؤقف نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام معلومات کو مکمل رازداری سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور اسے صرف جامع انداز میں رپورٹ کیا جاتا ہے، تاکہ جواب دہندگان کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے اور نیٹ ورک کی ساکھ اور دیانت داری کا تحفظ یقینی بنایا جا ئے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی)، پاکستان بھر کی فرموں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے رابطے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اگر آپ اقتصادی عاملین کے نیٹ ورک کے شرکا پینل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اپنے شعبے سے متعلق معلومات اور آراء فراہم کرنا چاہتے ہیں یا حقیقی معاشی حالات کے بارے میں مفید معلومات کا تبادلہ چاہتے ہیں، تو ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اقتصادی عاملین کے نیٹ ورک کی ٹیم سے رابطہ کریں۔