ہم برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان پر عائد شرائط نرم کرکے نمو اور روزگار کو سہارا دے رہے ہیں تاکہ وہ ہماری موجودہ سہولتوں کے تحت سستے قرضے لے سکیں۔
اسٹیٹ بینک نے 20 اگست 2020 ء کو برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی مزید سہولت دیتے ہوئے ایف ای- 25 اسکیم کے تحت ان کے برآمدی اور درآمدی قرضوں کی ادائیگی میں 180 دن کی توسیع کر دی۔ برآمدکنندگان کو اگر کووڈ کی وجہ سے برآمدی آمدنی کی وصولی میں تاخیر کا سامنا ہو تو بینک اب برآمد کنندگان کو ایف ای- 25 اسکیم کے قرضوں کی ادائیگی میں 180 دن توسیع دے سکتے ہیں ۔ مزید برآں، اگر اصل برآمدی معاہدہ کووڈ کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہو تو بینک برآمد کنندگان کو 180 دن کی توسیعی مدت کے دوران متبادل معاہدے کے ذریعے ایف ای-25 کے قرضوں کی ادائیگی کی اجازت بھی دے سکتے ہیں ۔ اسی طرح، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ایف ای- 25 اسکیم کے درآمدی قرضوں کی عرصیت 180 دن بڑھانے کی بھی اجازت دی ہے۔ یہ سہولت برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو 30 ستمبر 2020 ء تک عرصیت پوری کرنے والے ان کے بیرونی کرنسی قرضوں کے لیے دی گئی ہے ۔
اسٹیٹ بینک نے 19 اگست 2020 ء کوبرآمدی مالکاری اسکیم کے تحت بینکوں کو دی جانے والی ری فنانسنگ کی حد میں 100 ارب روپے اضافہ کردیا۔ لہٰذا، اب مالی سال 21ء میں بینکوں کے پاس برآمد کنندگان کو دینے کے لیے مجموعی حد 700 ارب روپے ہوگی۔ مزید برآں، برآمدی نوعیت کی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیےمالی سال 21ء میں طویل مدتی مالکاری سہولت (ایل ٹی ایف ایف) کے تحت بھی 90 ارب روپے مختص ہیں۔ یہ رقم صنعتی یونٹس قائم کرنے کے لیے عارضی اقتصادی نومالکاری سہولت (ٹی ای آر ایف) کے تحت بینکوں/ترقیاتی مالی اداروں کو پہلے سے مختص 100 ارب روپے کی حد کے علاوہ ہے ۔
اسٹیٹ بینک نے 8 جولائی 2020 ء کو نان ٹیکسٹائل شعبے کے لیے طویل مدتی مالکاری سہولت کے تحت اپنا ری فنانس ریٹ ایک فیصد کم کر دیا، چنانچہ تمام شعبوں کے لیے صارف کا ریٹ 5 فیصد ہو جائے گا۔ قبل ازیں، اس اسکیم کے تحت صارف کا مارک اپ ریٹ ٹیکسٹائل شعبے کے لیے 5 فیصد اور نان ٹیکسٹائل شعبوں کے لیے 6 فیصد تھا۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے ملکی اور برآمدی مارکیٹ دونوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو سہولت ملے گی ۔
اسٹیٹ بینک کا ایک اسٹریٹجک مقصد یہ ہے کہ وہ برآمدات کو سہارا دے تاکہ پاکستان کے توازنِ ادائیگی اور نمو میں مسلسل بہتری آئے۔ چنانچہ ، اسٹیٹ بینک بینکوں کو ری فنانس دیتا ہے تاکہ وہ برآمدی مالکاری اسکیم اور طویل مدتی مالکاری سہولت کے تحت برآمدکنندگان کو جاری سرمایہ اور نئے منصوبوں کے لیے سستے قرضے دے سکیں، جن پر شرحِ سود 3 سے 6 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔ دونوں اسکیموں کے تحت برآمد کنندگان کو دیا جانے والا مجموعی رعایتی قرضہ اس وقت تقریباً 660 ارب روپے ہے۔ کووِڈ وبا کی وجہ سے پاکستان کے برآمد کنندگان کو بیرونی منڈیوں میں طلب کی کمی اور موجودہ آرڈرز کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں برآمد کنندگان کو تعاون دینے کے لیے اور اس لیے کہ سیالیت کے موجودہ مسائل برآمد کنندگان کو دیوالیہ پن تک نہ لے جائیں، اسٹیٹ بینک نے آج کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
برآمدی مالکاری اسکیم کے تحت سستے قرضے کا حصول برآمدی کارکردگی سے منسلک ہے۔ فی الحال، برآمد کنندگان سے مطلوب ہے کہ وہ قرض کی رقم سے دگنی رقم کی برآمدات کریں ۔ اگر یہ شرط پوری نہ کی جائے تو برآمدکنندگان پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور اگلے سال قرض کی حد بھی کارکردگی کے لحاظ سے کم کر دی جاتی ہے۔ اب اسٹیٹ بینک نے کارکردگی کی شرط کو دگنا سے کم کرکے ڈیڑھ گنا کر دیا ہے جس کا اطلاق رواں سال اور مالی سال 21 ء پر ہوگا۔
برآمد کنندگان کو برآمدی مالکاری اسکیموں کے تحت کارکردگی دکھانے کے لیے جون 2020 ء کے آخر تک مہلت تھی۔ اب مہلت میں 6 ماہ توسیع کر دی گئی ہے جو دسمبر 2020ء کے آخر تک ہوگی۔ چونکہ اضافی مدت نئی حد مقرر کرنے میں بھی شمار ہوگی چنانچہ ، مالی سال 21 ء میں برآمد کنندگان کو زیادہ حد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
رعایتی قرضہ اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے برآمد کنندگان پر لازم ہوتا ہے کہ برآمدی مالکاری اسکیم کے تحت قرضہ لینے کے 6 ماہ کے اندر اپنی اشیا بھیج دیں۔ ناکامی کی صورت میں جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ اب اس مدت کو چھ ماہ سے بارہ ماہ کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ، جنوری سے جون 2020 ء کے دوران اس شرط کی خلاف ورزی پر برآمد کنندگان کو جرمانے عائد نہیں ہوں گے۔
جو برآمد کنندگان طویل مدتی مالکاری سہولت کے تحت قرضہ لینا چاہتے ہیں، انہیں اہلیت ثابت کرنے کے لیے اپنی مجموعی فروخت کا 50 فیصد یا 5 ملین ڈالر کے مساوی برآمدات کا حامل ہونا ہوتا ہے ۔ اب اس حد کو یکم جنوری 2020 ء سے 30 ستمبر 2020ء کے دوران طویل مدتی مالکاری سہولت کے تحت تمام قرضوں کے لیے 40 فیصد یا 4 ملین ڈالر تک کم کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، نئے یا بی ایم آر منصوبوں کے لیے طویل مدتی مالکاری سہولت حاصل کرنے کی غرض سے چار سالہ متوقع سالانہ برآمداتی کارکردگی کی شرط کو ایک سال مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ اب متوقع برآمداتی کارکردگی پانچ سال میں ناپی جائے گی۔
برآمد کنندگان کو زر مبادلہ کے لحاظ سے ایک اور بڑی رعایت دی گئی ہے۔ ان کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر ، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو اجازت دی ہے کہ وہ برآمدات کی آمدنی کی وصولی کی مدت موجودہ شرط کے 180 دنوں سے بڑھا کر 270 دن کردیں، بشرطیکہ تاخیر کووڈ کی وجہ سے ہوئی ہو ۔ اس طرح برآمد کنندگان کو اپنے خریداروں سے ادائیگی لینے کے لیے اضافی مہلت ملے گی۔ اسی طرح، درآمد کنندگان کی سہولت کے لیے اسٹیٹ بینک نے پیشگی ادائیگی کے بدلے پاکستان میں سامان درآمد کرنے کی مدت موجودہ شرط کے 120 دنوں سے بڑھا کر 210 دن کر دی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے برآمد کنندگان کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے برآمدی سامان کی شپنگ دستاویزات بذاتِ خود اپنے غیر ملکی خریداروں کو بغیر کسی حد کے بھیج سکتے ہیں، بشرطیکہ برآمد کنندہ کے برآمدی واجبات ایک فیصد سے کم ہوں اور پچھلے تین سال میں برآمدات کم از کم 5 ملین ڈالر رہی ہوں۔ قبل ازیں، برآمد کنندگان برآمدی سامان کے لیے اپنی شپنگ دستاویزات براہِ راست اپنے غیر ملکی خریداروں کو صرف ایک لاکھ ڈالر تک، یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی رقم بھیج سکتے تھے۔ یہ حد 2017 ء سے نافذ تھی۔
اسٹیٹ بینک نے خام مال، پرزہ جات اور مشینری کی درآمد کے لیے صنعتی اور اشیا ساز اداروں اور کمرشل درآمد کنندگان کی جانب سے پیشگی ادائیگی کرنے کی بینکوں کی موجودہ حد 10 ہزار ڈالر یا دیگر کرنسیوں کی مساوی رقم کو 25 ہزار ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔
یہ اقدامات برآمدی نوعیت کی صنعتوں اور اشیا ساز اداروں کو سہولت دینے کا تسلسل ہیں، تاکہ انہیں کاروبار کرنے کی آسانی رہے اور برآمدات کو بھی فروغ ملے جس سے ملک کے اقتصادی منظر نامے کو بہتر بنانے میں مزید مدد حاصل ہوگی۔
یاد رہے کہ جنوری 2020 ء میں، اسٹیٹ بینک نے برآمدی نوعیت کی صنعتوں اور اشیا ساز اداروں کی سہولت کے لیے کچھ اقدامات کیے تھے جن میں یہ شامل تھے: