پائیدار مالیات

اس صفحے پر

پائیدار مالیات

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، جہاں غیرمعمولی طوفانی بارشیں، برفانی تودوں کا پگھلنا، دریائی سیلاب اور اچانک گرمی کی لہروں جیسی موسمیاتی شدت آ رہی ہیں۔ ان واقعات کے باعث ذریعۂ معاش، فصلوں، انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ توانائی اور غذائی تحفظ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی اثرات کے ردعمل میں،اسٹیٹ بینک نے "موسمیاتی تبدیلی" کو ایس بی پی وژن 2028ء کے چار جامع موضوعات میں شامل کیا ہے اور مالی شعبے کے موسمیاتی خطرات کے لحاظ سے کمزور زمروں پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اسٹیٹ بینک مالیات تک بہتر رسائی، بہتر انفراسٹرکچر اور پائیدار مالیات کے فروغ کے ذریعے، شعبے کی مضبوط میں معاونت کے لیے کوشاں ہے—خاص طور پر غذا اور آبی تحفظ کےچیلنج سے نمٹنے کے لیے۔ اسٹیٹ بینک مالی شعبے کے متعلقہ فریقوں کو موسمیاتی تقاضوں اور چیلنجز کو سنبھالنے، موسمیاتی خطرات کم کرنے کے لیے ضوابطی اور نگراں فریم ورک کو مضبوط کرنے، اور معیشت کو ماحول دوست بنانے کے لیے وسائل کو زیادہ پائیدار اور متحرک کرنے کے لیے فعال پالیسی اقدامات کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

یہ سیکشن اسٹیٹ بینک کے اہم سرکلرز اور نفاذ کے وسائل کو یکجا کرتا ہے تاکہ ماتحت اداروں کے اندرونی فریم ورک کو مضبوط بنانے، نفاذ کی استعداد بڑھانے، اور ماحولیاتی و سماجی خطرے کے انتظام کے لیے مرحلہ وار طریقہ اپنانے میں مدد دی جا سکے۔

اسٹیٹ بینک نے، بینکوں کی ماحولیاتی اور موسمی خطرات کے حوالے سے کمزوری کو کم کرنے اور پائیدار اور موسمیاتی مزاحم معیشت میں تبدیل کرنے کی غرض سے مالکاری کی حوصلہ افزائی کے لیے، 2017ء میں ماحول دوست بینکاری کے رہنما خطوط جاری کیے۔ یہ رضاکارانہ رہنما اصول ہیں جو تین (03) اہم شعبوں پر مرکوز ہیں:

  • بینکوں کی بنیادی قرضہ پالیسیوں میں ماحولیاتی خطرے کو شامل کرنا
  • ماحول دوست بینکاری کو بڑھانا،
  • پائیدار بینکاری سرگرمیاں اپناکر بینک کی اپنی کاروباری سرگرمیوں میں کاربن کی پیداوار کم کرنا۔

نومبر 2022ء میں، اسٹیٹ بینک نے مالی اداروں کے لیے ماحولیاتی اور سماجی خطرات کی مینجمنٹ (ESRM) کے نفاذ کا مینوئل جاری کیا۔ یہ مینوئل مالی شعبے میں جی بی جیز کے تحت ماحولیاتی، سماجی اور موسمی خطرات کے انتظام کے کم از کم معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ مینوئل بینکاری صنعت کو ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا فریم ورک قائم کرنے میں مدد دینے کی غرض سے جامع ذرائع اور چیک لسٹس فراہم کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے پاکستان کے مالی شعبے کو ماحول دوست سمت میں آگے بڑھانے کے لیے، دسمبر 2025ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ پاکستان گرین ٹیکسونومی (PGT) کو نفاذ کی غرض سے اپنے زیرِ ضابطہ اداروں کو ارسال کیا۔ اس کا مقصد پائیداری کے ملکی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ماحول دوست منصوبوں کو درجہ بند کرنا اور مالی نظام کی موسمیاتی مالی خطرات کے خلاف مضبوطی کو بڑھانا ہے۔ یہ امر سرمائے کے بہاؤ کو ماحولیاتی طور پر پائیدار اقدامات کی طرف منتقل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا، جس سے مالی اداروں کی ماحول دوست اور شمولیتی معیشت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری یقینی بن سکے گی۔

اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025ء میں ماحولیاتی تبدیلی کے مالی شعبے کی مضبوطی اور اصابت پر ممکنہ اثرات کا ادراک کرتے ہوئے، موسمیاتی لحاظ سے مالی خطرات کے مؤثر انتظام کے لیے ضوابطی فریم ورک جاری کیا۔ جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مالی ادارے موسمیاتی خطرے کے محرکات کی مؤثر انداز سے شناخت کریں اور موسمیاتی لحاظ سے مالی خطرات کو اپنے نظم و نسق، کاروباری حکمت عملی، اور خطرے کے انتظام کے فریم ورک کا حصہ بنائیں۔

اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025ء میں، بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں اور مائیکروفنانس بینکوں کی خطرے کے انتظام کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے موسمیاتی دباؤ کی جانچ کے رہنما خطوط جاری کیے۔ جن میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سنگل فیکٹر شاک منظرنامے متعارف کرائے گئے، جس میں طبعی اور عبوری دونوں طرح کے خطرات دونوں کا احاطہ ہوتا ہے، اس اقدام سے مالی ادارے اپنے قرضوں کے جزدان(پورٹ فولیو) اور مالی صورتِ حال پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں۔