زری پالیسی کا نفاذ

آپریشنل ہدف اور انتظامِ سیالیت

زری پالیسی کا نفاذ وہ عمل ہے جس کے ذریعے مرکزی بینک بینکاری نظام میں قلیل مدتی شرحِ سود اور سیالیت (Liquidity) کی صورتِ حال کو منظم کرتا ہے تاکہ وہ زری پالیسی کمیٹی کے تعین کردہ مطلوبہ پالیسی موقف سے ہم آہنگ ہوں۔

لوڈ ہو رہا ہے…

زری پالیسی کے آلات

اسٹیٹ بینک سیالیت کا انتظام کرنے اور اپنے مطلوبہ ریٹ کو حاصل کرنے کے لیے متعدد آپریشنل آلات استعمال کرتا ہے:

بازارِ زر کے سودے

یہ ریپو/معکوس ریپو لین دین کے ذریعے سیالیت کا ادخال یا انجذاب ہے۔ معکوس ریپو لین دین میں اسٹیٹ بینک کسی بینک/اہل فریق سے سرکاری تمسکات اس وعدے کے ساتھ خریدتا ہے کہ وہ طے شدہ شرح پر آئندہ مقررہ تاریخ پر یہ تمسکات واپس بیچ دے گا۔ اس خریداری کے نتیجے میں مارکیٹ میں سیالیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ریپو سودے میں اسٹیٹ بینک سرکاری تمسکات بیچنے کا کام کرتا ہے اور فریقِ ثانی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو ادائیگی سے سیالیت پر معکوس اثر پڑتا ہے یعنی وہ گھٹ جاتی ہے۔ مختلف مدتوں کے عام ادخالی اور انجذابی سودوں کے علاوہ اسٹیٹ بینک ساختی / طویل مدتی انتظامِ سیالیت کے لیے مکمل (Outright) خریداری یا فروخت بھی کرتا ہے۔ نیز، بازارِ زر کے اسلامی زمرے کے لیے بھی اسٹیٹ بینک کے پاس زری کارروائیوں کا پورا فریم ورک موجود ہے۔

مستقل سہولتیں

اسٹیٹ بینک سیالیت کی مستقل سہولتیں (قرض دینے اور ڈپازٹ لینے کی) فراہم کرتا ہے تاکہ فریقِ ثانی کو ضرورت پڑنے پر سیالیت دی جا سکے یا جذب کی جا سکے۔ یہ مستقل شبینہ سہولیات کاروباری اوقات میں اہل فریقوں کی درخواست پر دستیاب ہوتی ہیں۔ دونوں مستقل سہولیات جن سے شرحِ سود کی بالائی اور زیریں حدیں قائم ہوتی ہیں، پالیسی (ٹارگٹ) ریٹ کے ارد گرد 100 بیسس پوائنٹس اضافہ یا کمی پر مقرر کی گئی ہیں۔

  • شبینہ زیریں سہولت: مستقل شبینہ سہولت سے نظام کی اضافی سیالیت کو جذب کیا جاتا ہے تاکہ مارکیٹ کی شرحِ سود راہداری کی شرحِ سود سے نیچے نہ جا سکے۔ زیریں حد کی شرح سود پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس (1.0 فیصدی درجے) کم ہوتی ہے۔ ڈپازٹ کی شبینہ سہولت کی شرحِ سود شبینہ بین البینک ریپو ریٹ کے لیے زیریں حد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
  • شبینہ بالائی سہولت: مستقل بالائی شبینہ سہولت سے اسٹیٹ بینک کے مقابل فریقوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دن کے اختتام پر اپنی رقوم میں پائی جانے والی اونچ نیچ کو برابر کرنے کے لیے رہن کے تحت شبینہ رقم لے لیں۔ بالائی سہولت کی شرح سود پالیسی ریٹ سے 100 بیسس پوائنٹس (1.0 فیصدی درجے) زائد ہوتی ہے۔ بالائی سہولت کی شرحِ سود شبینہ بین البینک ریپو ریٹ کے لیے بالائی حد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

مطلوبہ محفوظ نقد وصولیاں

یہ مطلوبہ نقدِ محفوظ (cash reserve requirements) اور لازمی زری تقاضوں (statutory reserve requirements) کے ذریعے بینکاری نظام میں سیالیت کا نظم و ضبط یقینی بناتی ہیں۔

  • مطلوبہ نقدِ محفوظ دراصل بینکوں کے مجموعی واجبات کی کچھ فیصد رقم یا ان کی کوئی ذیلی رقم ہوتی ہے جو انہیں مرکزی بینک میں بطور زرِ محفوظ رکھوانا ہوتی ہے۔ موجودہ ضوابط (اسٹیٹ بینک ایکٹ، 1956ء کی دفعہ 36) کے تحت تمام جدولی کمرشل بینکوں، مائکرو فنانس بینکوں، اسلامی بینکوں اور کمرشل بینکوں کے اسلامی بینکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے واجبات کا ایک مخصوص تناسب نقد رقم کی صورت میں اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوائیں۔
  • لازمی شرحِ سیالیت بینکوں کے واجبات کا وہ تناسب ہے جو انہیں منظور شدہ تمسکات میں بطور سرمایہ کاری لگانا ہوتا ہے اور/یا نقد کی صورت میں اپنے پاس رکھنا ہوتا ہے۔ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء کی دفعہ 13(3) کے تحت اس میں یہ تمام رقومات شامل ہیں: اسٹیٹ بینک کے پاس رقوم، نیشنل بینک کے پاس رقوم، بینکوں کے والٹ میں بچی ہوئی رقوم، مائکرو فنانس بینک کے سرمائے میں بینکوں کی سرمایہ کاری اور اسٹیٹ بینک میں غیر ملکی بینکوں کے ڈپازٹس۔

زرِ مبادلہ کے تبدل (swap)

یہ ایک اور آلہ ہے جسے اسٹیٹ بینک بین البینک بازارِ زر میں سودوں (او ایم او) کی تکمیل کے سلسلے میں سیالیت کےانتظام کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ زرِ مبادلہ کے تبدل میں اسٹیٹ بینک کسی مخصوص مالیت کی تاریخ (عام طور پر اسپاٹ) پر غیر ملکی کرنسی خریدتا یا فروخت کرتا ہے، جس کے ساتھ ہی کسی اگلی تاریخ پر طے شدہ شرح پر یہ سودا واپس کرنے کا معاہدہ کیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک بازارِ مبادلہ میں دونوں طرح کے یعنی خرید-فروخت اور فروخت-خرید کے سودے کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد بازارِ زر میں روپے کی سیالیت کو عارضی طور پر بالترتیب جذب کرنا اور ادخال کرنا ہوتا ہے۔