نظامِ ادائیگی

ادائیگی کے نظام کے بارے میں

پاکستان میں ادائیگی کے نظاموں میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت ادائیگی کے نئے آلات اور الیکٹرانک ادائیگی کے انفراسٹرکچر کی ترقی اور صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ اس ترقی کا نتیجہ روایتی کاغذی آلات کے استعمال سے متنوع ادائیگی کے آلات پر تیزی سے منتقلی کی صورت میں نکلا ہے، جنہیں مستعد اور قابلِ بھروسہ کلیئرنگ اور چکتائی کے انفراسٹرکچر کی معاونت حاصل ہے۔

مذکورہ پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان میں اس وقت رائج ادائیگی کے نظام کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • پاکستان میں آر ٹی جی ایس کو پاکستان ریئل ٹائم انٹر بینک سیٹلمنٹ میکانزم پرزم پلس (PRISM+) کہا جاتا ہے، جو ملک میں بڑی مالیت کا واحد نظامِ ادائیگی ہے۔ یہ بینکوں کے درمیان بڑے حجم کی رقوم کی منتقلی، سرکاری تمسکات ، خردہ کلیئرنگ اور صارفین کی رقوم کی منتقلی کی چکتائی کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم ہے۔
  • پرزم پلس نظام ، ادائیگی کی جدید ترین پیغام رسانی کے معیار ISO 20022 پر مبنی ہے اور یہ سیالیت کا انتظام کرنے کے جدید آلات، ٹرانزیکشن کی قطار بندی اور ترجیحی نظام، مستقبل کی تاریخ والی ٹرانزیکشنوں کی شیڈولنگ، اور مضبوط سیکیورٹی جیسی نئی خصوصیات سے لیس ہے۔
  • پرزم پلس بازار زر کے سودوں (او ایم اوز) کے لیے سینٹرل سیکورٹیز ڈپازٹری (CSD) پلیٹ فارم بھی مہیا کرتا ہے، جس میں سرکاری تمسکات (securities) کی نیلامی، ثانوی مارکیٹ میں تمسکات کی خرید و فروخت، ضمانت کا انتظام ، اور بازار زر کے سودے شامل ہیں۔
  • بروقت اور فوری ادائیگی کا نظام ’’راست (Raast)‘‘ آئی ایس او 20022 معیار سے ہم آہنگ ہے، اوربھاری رقوم کی منتقلی، فرد سے فرد (P2P) اور فرد سے تاجر (P2M) ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • ون لنک(1Link) کے زیرِ انتظام بروقت خردہ ادائیگی کا نظام چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر مختلف متبادل ذرائع کے ذریعے P2P منتقلیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے ، جن میں اے ٹی ایمز، انٹرنیٹ بینکاری اور موبائل بینکاری شامل ہیں۔
  • متعدد پیمنٹ سروس پرووائیڈرز اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ادائیگی کی مختلف خدمات فراہم کر رہے ہیں، جن میں ای کامرس ادائیگی خدمات اور ای منی والیٹس شامل ہیں۔
  • کاغذی آلات کی کلیئرنگ کی سہولتیں T+0 اور T+1 بنیاد پر، جنہیں ملک بھر میں 27 سے زائد کلیئرنگ اور سیٹلائٹ سینٹرز پر مشتمل نیٹ ورک اعانت فراہم کرتا ہے۔
  • سرمایہ منڈی میں ٹرانزیکشنوں کے لیے مرکزی مخالف فریق کا نظام۔
  • ایجنٹ پر مبنی برانچ لیس بینکاری ، جو لاکھوں صارفین کی نقد اور فنڈ ٹرانسفر کی ضروریات پوری کر رہی ہے۔
  • انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر( آئی بی اے این) معیار سے ہم آہنگ اکاؤنٹ نمبرز۔
  • مکمل طور پر باہم مربوط اے ٹی ایم نیٹ ورکس، جن کی انٹرچینج فیس دنیا میں کم ترین فیسوں میں شمار ہوتی ہے۔
  • صارفین اور مالی اداروں کو کم لاگت ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ملکی ادائیگی اسکیم جو پے پاک کے نام سے جانی جاتی ہے۔

ڈجیٹل مالی شعبے میں تازہ ترین پیش رفت کی معلومات ڈجیٹل مالی خدمات کے سیکشن میں دیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں ادائیگی کے نظام سے متعلق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کردار اور فرائض کا تعین بنیادی طور پر ادائیگی کے نظام اور الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 ء میں طے کیا گیا ہے۔نتیجتاً، اسٹیٹ بینک میں قائم ڈجیٹل مالی خدمات گروپ میں شامل شعبہ نظامِ ادائیگی پالیسی اور شعبۂ ڈجیٹل جدت طرازی اور چکتائی کو پاکستان میں ادائیگی کے نظام کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے علاوہ پرزم پلس نظام کو چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

نظامِ ادائیگی کی قومی حکمت عملی

بینک دولت پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے یکم نومبر 2019ء کو قومی نظامِ ادائیگی کی حکمت عملی متعارف کروائی۔

مالی منڈی کے انفراسٹرکچرز (ایف ایم آئی) جو زری اور دیگر مالی ٹرانزیکشنوں کی کلیئرنگ، چکتائی اور اندراج میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اپنی متعلقہ منڈیوں کو تقویت دے سکتے ہیں، مالی استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یوں معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مرکزی بینک عموماً قومی نظام ادائیگی (این پی ایس) میں خردہ ادائیگی کے نظاموں، خدمات اور ادائیگی کے آلات میں کارکردگی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں، اسٹیٹ بینک نے عالمی بینک کے مالی شمولیت سپورٹ فریم ورک پروگرام کے تحت پاکستان کے قومی ادائیگی نظام کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کی، جو قومی مالی شمولیت کی حکمتِ عملی (این ایف آئی ایس) اور ملک کے مالی استحکام دونوں کے لیے معاون ثابت ہو گی۔

اس حکمتِ عملی کے مقاصد میں قومی ادائیگی کا ایسا نظام وضع کرنے کے لیے تجاویز دینا شامل ہے جو بین الاقوامی معیارات اور بہترین عملی طریقوں کے مطابق ہو، اور ملک کے مخصوص حالات اور ضروریات کے مطابق ایک محفوظ، مؤثر اور شمولیتی قومی ادائیگی کا نظام فراہم کرے۔اس حکمت عملی کے اہم مقاصد میں مالی استحکام کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے تا کہ یہ معاشی نمو اور مالی شمولیت کے فروغ میں کردار ادا کر سکے۔

بڑی مالیت کی ادائیگی کا نظام

آر ٹی جی ایس کی تعریف خام چکتائی (settlement) کے ایک ایسے نظام کے طور پر کی جاتی ہے جس میں رقوم کی منتقلی اور حتمی چکتائی سے متعلق ہدایات کی پروسیسنگ دونوں مسلسل (یعنی بروقت ) انجام دیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک بروقت چکتائی کا نظام ہے،جو پہلے سے مقررہ اوقات پر وقفے وقفے سے چکتائی کرنے کے بجائے مسلسل بنیادوں پر حتمی چکتائی کرتا ہے، بشرطیکہ بھیجنے والے بینک کے پاس مناسب رقوم یا کریڈٹ موجود ہو۔ چکتائی کا یہ عمل مرکزی بینک کی رقم کی بروقت منتقلی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس طرح آر ٹی جی ایس نظام کو ایک ایسا فنڈز ٹرانسفر سسٹم کہا جا سکتا ہے جو دن کے دوران انفرادی رقوم کی منتقلیوں کی مسلسل چکتائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں آر ٹی جی ایس نظام کی ضرورت کا اعتراف بڑے حجم کی رقوم کی منتقلی کے نظام میں خطرے کے مؤثر انتظام کی اہمیت کے متعلق بڑھتی ہوئے آگاہی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ آر ٹی جی ایس نظام بینکوں کے درمیان چکتائی کے عمل میں سیٹلمنٹ اور نظامیاتی خطرات کو محدود کرنے کے لیے ایک طاقتور طریقہ فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ خطرات پروسیسنگ کے دن کے دوران انفرادی فنڈ ٹرانسفرز کی حتمی چکتائی کو مسلسل متاثر کرتے ہیں۔مزید برآں، آر ٹی جی ایس سیکیورٹیز لین دین میں چکتائی کے خطرے کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ فراہمی بمقابلہ ادائیگی (ڈی وی پی)کے طریقۂ کار کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا، ادائیگی اور چکتائی کے نظام میں خطرے کے انتظام پر غور کرتے وقت آر ٹی جی ایس نظام انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں آر ٹی جی ایس نظام کو پاکستان ریئل ٹائم انٹر بینک سیٹلمنٹ میکانزم (PRISM) کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستان ریئل ٹائم انٹر بینک سیٹلمنٹ میکانزم پاکستان میں بڑی مالیت کی ادائیگیوں کا نظام ہے۔ یہ ایک بروقت خام چکتائی کا نظام ہے جو بینکوں کے درمیان بھاری مالیت کی رقوم کی منتقلیوں، سرکاری تمسکات ، خردہ کلیئرنگ اور صارفین کی رقوم کی منتقلی (ایک مخصوص کم از کم حد تک رقم کے لیے) کی چکتائی کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ پرزم کا آغاز جولائی 2008 ءمیں کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کی سرگرمیوں میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ اس وقت پرزم کے 42 براہِ راست شرکاء ہیں، جن میں کمرشل بینک، ترقیاتی مالی ادارے ، مائیکروفنانس بینک اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) شامل ہیں۔ شرکاء کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کی غرض سے پرزم سسٹم آپریٹنگ رولز (2009ء) جاری کیے گئے۔

پرزم نظام کی چند اہم اور نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • شریک بینکوں کو ایک ہی چکتائی اکاؤنٹ کے ذریعے ا بینکوں کے درمیان اپنی ادائیگیوں کی آن لائن نگرانی کی سہولت حاصل ہے، اور وہ ہر لین دین کی حیثیت (جیسے چکتائی شدہ، قطار میں موجود یا مسترد ) بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی ٹرانزیکشن قطار میں ہو تو بینک اس کی ترجیح بدل سکتے ہیں، جس سے انہیں اپنی رقوم پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے متعلقہ شعبہ جات بینکوں کے درمیان ہونے والے لین دین کی نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • بینکوں کو دن کے دوران مالی سیالیت کی سہولت (Intraday Liquidity Facility – ILF) فراہم کی جائے گی، جو سرکاری تمسکات کے عوض ضمانت شدہ ہوتی ہے، تاکہ ادائیگیاں فوری طور پر کلیئر کی جا سکیں۔
  • نظام میں قطار کے انتظام کی خصوصیات اور گرڈ لاک (Gridlock) کے حل کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔
  • یہ نظام سرکاری تمسکات کے پورٹ فولیوز بھی رکھتا ہے اور فراہمی بمقابلہ ادائیگی اور دن کے دوران سیالیت کے انتظام کے لیے سیکورٹیز ٹریڈ میچنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • نظام کا آئی ٹی سیکیورٹی جزو ڈیٹا کے تحفظ کے لیے PKI انفراسٹرکچر، لین دین اور خفیہ پیغام رسانی کی سہولت (Encryption) فراہم کرتا ہے۔
  • خردہ کلیئرنگ کی مرکزی کثیرفریقی نیٹنگ (Netting) پرزم نظام کے مؤثر آغاز کے لیے ایک لازمی پیشگی شرط تھی۔ اس سے قبل ملک بھر میں خردہ کلیئرنگ کی خدمات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سولہ فیلڈ دفاتر میں انجام دی جاتی تھیں۔

بینکوں کے درمیان بڑی مالیت کی رقوم کی منتقلیاں

آر ٹی جی ایس نظام متعارف کرانے کا بنیادی مقصد بینکوں کے درمیان بڑی مالیت رقوم کی منتقلی کو بروقت اور خام بنیاد پر انجام دینا ہے۔ بینکوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کے نظام وہ انتظامات ہیں جن کے ذریعے بینک اپنی جانب سے یا اپنے صارفین کی جانب سے ایک دوسرے کو رقوم منتقل کرتے ہیں۔ ایسے نظاموں میں بڑی مالیت کی رقوم کی منتقلی کا نظام عموماً خردہ رقوم کی منتقلی کے نظام سے مختلف ہوتا ہے ، کیونکہ خردہ نظام نسبتاً کم مالیت کی لیکن بڑی تعداد میں ادائیگیاں کرتے ہیں، جیسے کہ چیک، کریڈٹ کی منتقلی، خودکار کلیئرنگ ہاؤس کی لین دین اور پوائنٹ آ ف سیل پر ہونے والی الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفرز۔

ٹرانزیکشنوں کی چکتائی میں خطرات

ان بینکوں کے درمیان ہونے والے مالی لین دین کی ادائیگیاں چکتائی کے خطرے (settlement risk) سے دوچار ہوتی ہیں، جس سے مراد ایسا خطرہ ہے جو بینکوں کے درمیان فنڈز کی منتقلی کے مجموعی نظام میں توقع کے مطابق ٹرانزیکشنوں کی تکمیل یا چکتائی نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہو تا ہے۔چکتائی کے خطرے میں خطرۂ قرض اور خطرۂ سیالیت شامل دونوں شامل ہوتے ہیں۔ ان خطرات کے دو بڑے ذرائع یہ ہیں: (الف) ٹرانزیکشن انجام دینے اور اس کی حتمی تکمیل کے درمیان وقت میں تاخیر، اور (ب) ٹرانزیکشن کے دو مرحلوں کی تکمیل کےد رمیان وقت میں تاخیر یعنی ادائیگی کے مرحلے اور فراہمی کے مرحلے میں۔

ادائیگی کے آلات اور ذرائع

خردہ ادائیگیوں میں عموماً صارفین کے درمیان یا صارفین اور کاروباری اداروں کے درمیان لین دین شامل ہوتا ہے۔ ان میں عام طور پر ٹرانزیکشنوں کی کی زیادہ تعداد اور اوسط مالیت تھوک ادائیگیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ پاکستان میں خردہ (retail) ادائیگیاں مختلف کاغذی ، الیکٹرانک آلات اور ذرائع پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں روایتی چیک سے لے کر جدید پلاسٹک کارڈز تک شامل ہوتے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران ایک اہم رجحان سامنے آیا ہے جس میں کاغذی ادائیگیوں سے الیکٹرانک ادائیگیوں کی طرف منتقلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں صارفین کی جانب سے الیکٹرانک ادائیگیوں کے استعمال میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور توقع ہے کہ اس رجحان میں آئندہ برسوں کے دوران مزید تیزی آئے گی، جس کی ایک بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈجیٹل مالی خدمات (DFS) کی فراہمی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششیں ہیں، خصوصاً آبادی کے اُن طبقات کے لیے جو مالی نظام سے محروم ہیں۔

پاکستان میں ادائیگی کے آلات/ذرائع کی وسیع تناظر میں یہ درجہ بندی کی جا سکی ہے:

کاغذی آلات

کاغذی آلات میں کاغذ پر مبنی ٹرانزیکشن کے مختلف طریقے شامل ہیں، جیسے چیک، پے آرڈر، ڈیمانڈ ڈرافٹ وغیرہ۔ کاغذی بنیاد پر ہونے والے لین دین کی تعداد اور مالیت کا بڑا حصہ چیکوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ یہ چیک نقد رقم نکلوانے اور چیک کلیئرنگ کے ذریعے رقوم کی منتقلی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

عوام کے مفادات کے تحفظ کی خاطر جعل سازی کے خطرات کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے چیکوں، پے آرڈرز اور ڈیمانڈ ڈرافٹس کے لے آؤٹ اور سیکورٹی خصوصیات کو معیاری بنانے سے متعلق رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کاغذی بنیاد پر مبنی آلات میں فراڈ اور جعل سازی کے خطرات سے نمٹنا بھی ہے۔ مزید برآں، صارفین کی سہولت کے لیے بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پے آرڈرز اور ڈیمانڈ ڈرافٹس کی اصلیت کی تصدیق کے لیے ایک مرکزی نظام وضع کریں۔ اس ضمن میں بینکوں کوچوبیس گھنٹے کی ہیلپ ڈیسک یا کال سینٹرز قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ جن افراد کے پاس یہ آلات موجود ہوں وہ باآسانی ان کی اصلیت کی تصدیق کر سکیں۔

الیکٹرانک آلات/ذرائع

حالیہ برسوں کے دوران الیکٹرانک بنیاد پر مبنی ادائیگی کے آلات کی ترقی میں نمایاں تیزی آئی ہے، جس کی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سازگار پالیسی ماحول کی تشکیل کے لیے کی جانے والی کوششیں اور بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) اور پیمنٹ سروس آپریٹرز/پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (PSOs/PSPs) کی جانب سے جدید اور اختراعی مصنوعات کا اجرا ہے۔

پاکستان میں الیکٹرانک خردہ ادائیگیاں مختلف ادائیگی کے آلات اور ذرائع پر مشتمل ہیں، جن میں ادائیگی کارڈز، ریئل ٹائم آن لائن برانچوں (RTOBs)، کال سینٹر/انٹرا وائس ریسپانس (IVR) کے ذریعے بینکنگ، انٹرنیٹ اور موبائل بینکنگ شامل ہیں۔ عموماً یہ ادائیگی کے آلات وصول کنندہ اور ادائیگی کرنے والے دونوں کے لیے کسی مالی ادارے کے ساتھ موجود اکاؤنٹ تعلق سے منسلک ہوتے ہیں۔ صارفین روبرو یا دور دراز (ریموٹ) لین دین میں خردہ ادائیگیاں کرنے کے لیے کریڈٹ، ڈیبٹ، اسٹورڈ ویلیو کارڈز یا والٹس/اکاؤنٹس، کیو آر کوڈ وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ریئل ٹائم آن لائن برانچیں اور اے ٹی ایم لین دین الیکٹرانک بنیاد پر ہونے والی لین دین کی توسیع میں بڑا حصہ ڈالنے والے عوامل رہے ہیں، جس کی وجہ عوام میں ان کی عمومی قبولیت ہے۔

اسٹیٹ بینک الیکٹرانک ادائیگیوں کے شعبے میں عالمی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت سے باخبر رہا ہے۔ مؤثر اور محفوظ الیکٹرانک ادائیگی کے آلات کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پری پیڈ کارڈز کے ضوابط جاری کیے، جن کا مقصد پری پیڈ کارڈز کے اجرا کے لیے سازگار ضوابطی فریم ورک فراہم کرنا اور تمام بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کے لیے یکساں مواقع مہیا کرنا ہے۔مزید برآں، الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر کا عمل شروع کرنے یا اسے پروسیس کرنے میں استعمال ہونے والے ادائیگی پیغام میں بھیجنے والے (Originator) اور وصول کنندہ (Beneficiary) سے متعلق کم از کم درکار معلومات کا تعین کرنے کے لیے الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر کے ضوابط جاری کیے گئے۔

پاکستان میں نظامِ ادائیگی کے ذرائع کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • موبائل بینکاری: موبائل بینکاری موبائل ایپ کے ذریعے اکاؤنٹس/والٹس تک رسائی حاصل کرنے اور مالی اور غیر مالی لین دین انجام دینے کا ایک تیز اور سہل طریقہ فراہم کرتی ہے۔
  • خود کار ٹیلر مشین (اے ٹی ایمز): اے ٹی ایم صارفین کو اکاؤنٹس/والٹس کی معلومات تک آن لائن رسائی فراہم کرتے ہیں اور انہیں نقد رقم نکلوانے یا جمع کروانے، رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی وغیرہ کی سہولت دیتے ہیں۔ پاکستان میں اے ٹی ایم نیٹ ورک آپس میں باہم مربوط (Interoperable) ہیں اور دن کے 24 گھنٹے، سال کے 365 دن دستیاب رہتے ہیں۔
  • انٹرنیٹ بینکاری: انٹرنیٹ بینکاری کو بینکاری خدمات فراہم کرنے کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جو بینکوں کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ روایتی بینکاری خدمات جیسے کہ فنڈز کی منتقلی، بل کی ادائیگی اور کارڈ ادائیگیاں وغیرہ ایک یا متعدد اکاؤنٹس تک رسائی کے ذریعے فراہم کر سکیں۔ ایک صارف، جس کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی، ویب براؤزر اور مالی ادارے سے انٹرنیٹ بینکاری سروس کے لیے رجسٹرڈ اکاؤنٹ موجود ہو، وہ اپنے گھر، دفتر یا دنیا کے کسی بھی مقام سے باسہولت انداز میں بینکاری اور ادائیگیاں کر سکتا ہے۔
  • پی او ایس نیٹ ورک: پاکستان میں پی او ایس ٹرمینلز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کے ذریعے صارفین کو یہ سہولت دی جاتی ہے کہ وہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیاں کریں۔
  • برانچ لیس بینکاری: برانچ لیس بینکاری پاکستان میں مالی لحاظ سے محروم آبادی کو مالی خدمات فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی ہے۔ مالی اداروں کی جانب سے موبائل نیٹ ورک آپریٹرزکے ساتھ شراکت داری میں ایجنٹوں کے استعمال یا اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے رقوم کی منتقلی، یوٹیلٹی بل کی ادائیگی، خردہ ادائیگیاں، عطیات وغیرہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر ان صارفین کو جو پہلے بینکاری خدمات کے قریب موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان سے مستفید نہیں ہو سکتے تھے۔

میرکو پیمنٹ گیٹ وے

پاکستان میں اس وقت 100 ارب ٹرانزیکشنوں میں سے صرف 0.2فیصد ڈجیٹل ادائیگیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ ہم پلہ ممالک میں ڈجیٹل لین دین* کا تناسب 1.5فیصد سے 7فیصد کے درمیان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ادائیگی کےایکو سسٹم میں موجود چیلنجز ہیں، جو درج ذیل ہیں:

  • محدود باہمی رابطہ: مالی اداروں (یعنی ڈجیٹل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں) کو درکار مرکزی انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث ایک دوسرے سے منسلک ہونے میں دشواری پیش آتی ہے۔
  • ڈجیٹل ادائیگیوں کی زیادہ لاگت: صارفین کو ڈجیٹل طریقے سے رقم منتقل کرنے پر زیادہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سہولت آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے ناقابلِ رسائی ہو جاتی ہے۔
  • ناقص صارفی تجربہ: صارفین کو ڈجیٹل ادائیگی کرنے کے لیے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اور ایسی کوئی ڈجیٹل ادائیگی کی سہولت وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں جو تاجروں کے ہاں عام طور پر قبول کی جاتی ہو۔
  • سیکیورٹی کی کمی: موجودہ ڈجیٹل ادائیگی کے طریقے اور انفراسٹرکچر مناسب ڈیٹا تحفظ اور صارف کی توثیق فراہم نہیں کرتے۔

ایم پی جی کے مشن کا بنیادی مقصد پاکستان میں افراد اور اداروں کے لیے دستیاب ڈجیٹل ادائیگیوں کی رسائی، سیکورٹی، رفتار، معیار اور اعتماد کی سطح کو بدلنا ہے۔ اسے مذکورہ بالا چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور یہ پاکستان کے ڈجیٹل ادائیگی کے نظام میں متعدد بہتریاں متعارف کروائے گا، جن میں شامل ہیں:

  • فوری ادائیگیاں:ا فراد، تاجروں، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان قریباً حقیقی وقت میں ڈجیٹل ادائیگیاں
  • صارفین کے لیے کم یا نہ ہونے کے برابر لاگت: ایم پی جی کو لاگت کی وصولی کے ماڈل پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ تمام سماجی و معاشی طبقات کے صارفین کے لیے ڈجیٹل ادائیگیاں قابلِ برداشت ہوں۔
  • مکمل شعبہ جاتی باہمی روابط: ایم پی جی تمام مالی اداروں کو مرکزی انفراسٹرکچر کے ساتھ ایک ہی لنک کے ذریعے بغیر رکاوٹ ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، جس سے کسی بھی مالی ادارے کے صارفین کے لیے ہر چینل پر ڈجیٹل ادائیگیاں ممکن ہوں گی۔
  • صارف مرتکز جدید مصنوعات/خدمات:ا یم پی جی جدید ترین ٹیکنالوجی معیار پر مبنی ہوگا، جس سے مالی ادارے جدید، آسان اور صارف دوست ڈجیٹل ادائیگی کی مصنوعات اور خدمات تیار کر سکیں گے (مثلاً فون نمبر یا ای میل کے ذریعے ادائیگی)۔
  • قابلِ اعتماد اور بہتر سیکیورٹی: ایم پی جی زیادہ محفوظ ادائیگی کے طریقے متعارف کروائے گا، ہر لین دین کی ادائیگی کرنے والے کی جانب سے منظوری کو یقینی بنائے گا، اور بہتر ڈیٹا تحفظ اور فراڈ کی نشاندہی کی خدمات فراہم کرے گا۔

ان فوائد کی فراہمی کے لیے ایم پی جی کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • جدید ادائیگی کی اقسام بشمول پش بیسڈ ادائیگیاں ، بڑی ادائیگیاں اور “Request to Pay” جیسی سہولتیں۔
  • عرفی خدمات (مثلاً ای میل یا فون نمبر)
  • اے پی آئی گیٹ وےآ سان اور مؤثر انضمام کے لیے
  • لین دین کا تجزیہ فراڈ کے پیشگی سدباب کے لیے
  • آئی ایس او 20022 پیغامات کے فارمیٹس

*کل سالانہ لین دین کے تناسب کے طور پر

راست (RAAST)

راست پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی کا نظام ہے جو افراد، کاروباری اور حکومتی اداروں کے درمیان اینڈ ٹو اینڈ ڈجیٹل ادائیگیوں کو فوری طور پر ممکن بنائے گا۔ پاکستان کا یہ جدید ترین تیز رفتار ادائیگی کا نظام چھوٹی مالیت کی خردہ ادائیگیوں کی بروقت چکتائی میں استعمال کیا جائے گا اور ساتھ ہی مالی صنعت کے تمام شرکاء بشمول کمرشل بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں، حکومتی اداروں اور فِن ٹیک کمپنیوں (EMIs & PSPs) کے لیے سستی اور یکساں رسائی فراہم کرے گا۔.

مزید دریافت کریں

نظام ادائیگی آپریٹرز(پی ایس اوز)/سروس پروائیڈرز (پی ایس پیز)

سازگار ضوابطی ماحول کے قیام اور نظامیاتی ہم آہنگی پیدا کرنے، معیارات متعارف کروانے اور بینچ مارک کا تعین کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2014 ء میں پیمنٹ سسٹم آپریٹرز (پی ایس اوز) اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز ( پی ایس پیز) کے لیے قواعد جاری کیے۔ پی ایس اوز/پی ایس پیز کا مقصد الیکٹرانک ٹرانزیکشنوں کی کلیئرنگ ، پروسیسنگ، راوٹنگ اور سوئچنگ کے لیے الیکٹرانک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ یہ بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں، پی ایس اوز/پی ایس پیز ، مرچنٹس، ای کامرس سروس پرووائیڈرز اور کسی بھی دوسری کمپنی کے ساتھ خدمات فراہم کرنے کے لیے قواعد کے تحت پی ایس اوز/پی ایس پیز سے معاہدے کر سکتے ہیں۔

پی ایس اوز/پی ایس پیز مالی مارکیٹ انفراسٹرکچر کے اہم اجزاء ہیں اور قواعد کے مطابق ان کی یہ تعریف کی گئی ہے: ’’مجاز پارٹی جو کمپنیز آرڈیننس 1984 ء کے تحت رجسٹرڈ کمپنی ہو اورالیکٹرانک پیمنٹ گیٹ وے، ادائیگی اسکیم، کلیئرنگ ہاؤس، اے ٹی ایم سوئچ، پی او ایس گیٹ وے، ای کامرس گیٹ وے وغیرہ جیسی ادائیگی کی خدمات کی فراہمی انجام دے، اور جو کثیر فریقی ر۱وٹنگ، سوئچنگ اور ادائیگی کی ٹرانزیکشنوں کی پروسیسنگ میں وساطت کا فریضہ انجام دے۔‘‘

پی ایس اوز/پی ایس پیز کو تین مراحل میں اجازت نامہ دیا جاتا ہے:

  • اصولی منظوری
  • پائلٹ آپریشن کی منظوری
  • کمرشل آپریشن کی منظوری

پی ایس اوز/پی ایس پیز کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم 20 کروڑ روپے یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے وقتاً فوقتاً مقرر کی جانے والی کسی بھی دوسری رقم کا سرمایہ برقرار رکھیں۔ مزید یہ کہ پی ایس اوز/پی ایس پیز صارفین کی رقوم کے نگہبان (Custodian) کے طور پر کام نہیں کریں گے اور نہ ہی بینکاری کی ایسی خدمات انجام دیں گے جن کی تعریف بی سی او 1962ءمیں دی گئی ہے۔

الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈجیٹل ادائیگیوں کو ترقی دینے ، ادائیگیوں کی صنعت میں جدت کے فروغ ، ملک میں مالی شمولیت بڑھانے اور ادائیگیوں کے منظرنامے میں غیر بینکاری اداروں کو ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنے کے مقصد سے، 2019 ء میں الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) کے ضوابط جاری کیے (2023 ء میں نظرثانی شدہ)۔ یہ ضوابط اسٹیٹ بینک کو پیمنٹ سسٹمز اور الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفرز ایکٹ 2007 ءکے تحت دیے گئے اختیارات کے مطابق جاری کیے گئے۔

ای ایم آئیز ایسے ادارے ہیں جو جدت طراز، صارف دوست، کم لاگت، محفوظ، کم مالیت اور باہم مربوط (Interoperable) ڈجیٹل ادائیگی کے آلات فراہم کرتے ہیں، جیسے کہ والٹس، پری پیڈ کارڈز اور کانٹیکٹ لیس ادائیگی آلات۔ ان ضوابط کے اجراء کے بعد سےای ایم آئیز نے ملک میں خردہ شعبے کی ادائیگیوں کو ڈجیٹل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت، متوقع ای ایم آئی درخواست دہندگان کو تین مراحل میں لائسنس دیا جاتا ہے، یعنی ا صولی منظوری، پائلٹ آپریشنز شروع کرنے کی منظوری ، حتمی منظوری یعنی لائسنس کا اجرا۔

نظام ادائیگی کی سیکورٹی

ادائیگی کے نظام کسی بھی ملک میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ تجارت، کاروبار اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں انجام دینے میں مدد دیتے ہیں۔ مالی نظام کا استحکام ادائیگی کے ذرائع اور متعلقہ آلات کی محفوظ، مسابقتی اور مؤثر نوعیت سے حاصل ہوتا ہے۔ لین دین کے لیے الیکٹرانک ذرائع کا استعمال عوام کو فوری طور پر ٹرانزیکشن انجام دینے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اگر ادائیگی کے انفراسٹرکچر، ذرائع یا آلات کی سیکورٹی متاثر ہو جائے تو اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ادائیگی کے نظام پر اسٹیٹ بینک کی نگرانی بنیادی طور پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ موجودہ نظام محفوظ اور مضبوط ہوں اور صارفین کا اعتماد برقرار رہے۔ الیکٹرانک بینکاری میں بتدریج اضافے کے ساتھ اس کی سیکورٹی کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس سے وابستہ خطرات اور کمزوریاں بڑھ رہی ہیں۔ چنانچہ جدید اور مضبوط ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے کے اپنے مقصد کے تحت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ عرصے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ جن میں شامل ہے، درج ذیل کا اجرا:

علاقائی تعاون اور اقدامات

بینک دولت پاکستان کے شعبہ نظام ادائیگی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کے ذریعے بین الاقوامی مالی لین دین کو زیادہ جدید اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی ترسیلاتِ زر میں اضافے اور خصوصاً خطے کے حوالے سے معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے ادائیگی کے مضبوط نظام پر مبنی طریقہ کار وضع کرنا اور اسے برقرار رکھنااسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وژن اور حکمعت عملی 2020 ءکے بنیادی مقاصد میں شامل تھا ۔2012ءسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سارک ادائیگی انی شیٹو(ایس پی آئی) کا سیکرٹریٹ ہے، جو 2007 ءمیں سارک فنانس گروپ نے شروع کیا تھا۔ 2008 ءمیں سارک ادائیگی انی شیٹو کے تحت سارک ادائیگی کونسل (SPC) قائم کی گئی تاکہ ایس پی آئی کے وژن یعنی سارک خطے میں ادائیگی اور چکتائی کے جدید نظام اور طریقۂ کار کو بہتر بنایا اور اسے ترقی دی جا سکے۔

ایس پی آئی سیکرٹریٹ نے بنیادی مسائل اور حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کے لیے سارک ممالک میں باری باری ششماہی بنیاد پر اجلاس منعقد کیے۔ یہ فورم خطے کے عوام اور کاروباری برادری کو قابلِ اعتماد اور ہم آہنگ نظام فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاکہ وہ روزمرہ اور کاروباری ادائیگیوں کے لیے کم اور زیادہ مالیت کے معیاری ادائیگی چینلز پر پلاسٹک کارڈز جیسے ادائیگی کے آلات بغیر کسی تاخیر کے استعمال کر جا سکیں۔ یورپی یونین جیسے دیگر خطوں کی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اس فورم کے ذریعے ادائیگی اور چکتائی کے نظام کے شعبے میں معلومات اور صلاحیت سازی کا آغاز کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اب تک ادائیگی کے نظام کی سیکورٹی، ورچوئل کرنسیوں کے مستقبل، بڑی مالیت کے ادائیگی کے نظام (آر ٹی جی ایس) میں ابھرتے ہوئے مسائل، کرسپانڈنٹ بینکاری سے متعلق امور، ادائیگی کے نظام میں غیر بینک اداروں کا ابھرتا ہوا کردار، جدید خردہ ادائیگی کے نظام اور کمیٹی آن پیمنٹ اینڈ مارکیٹ انفراسٹرکچرز کے موجودہ کردار جیسے موضوعات پر متعدد سیمینارز منعقد کیے جا چکے ہیں۔

ادائیگی اور چکتائی کے نظام سے متعلق بین الاقوامی معیارات اور سفارشات پر عمل درآمد اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے سارک ادائیگی کونسل (ایس پی سی) کی جانب سے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سارک میں ادائیگیوں کے نظام پر ترقیاتی رپورٹ، سارک ممالک کے نظامِ ادائیگی کا میٹرکس، سارک خطے میں سنگل ہم آہنگ ادائیگی نظام کے تصور کے تحت منصوبوں پر غور و خوض اور نظامِ ادائیگی کے خطرات زائل کرنے کی میٹرکس وغیرہ شامل ہیں۔

نظامِ ادائیگی کے اعدادوشمار

شعبہ نظام ادائیگی پالیسی اور نگرانی (پی ایس پی اینڈ او ڈی) سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر نظامِ ادائیگی کا جائزہ شائع کرتا ہے۔ یہ اعدادوشمار درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:

عام سوالات

آر ٹی جی ایس کے شرکا ضرورت پڑنے پر کسی بھی غیر چکتائی شدہ لین دین کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے DEPO/X کے ٹرانسفر ٹیبل میں موجود “Cancel Transactions” آئیکن پر کلک کیا جاتا ہے۔

پرزم کے شرکاء کو پہلے کنیکٹیویٹی کے مسئلے کی نوعیت کی تصدیق کرنی چاہیے، اس کے بعد ہدایات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آرٹی جی ایس پی ایم آفس سے رابطہ کرنا چاہیے۔

پرزم کے شرکا اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینکنگ سروسز کارپوریشن (SBP BSC) کراچی آفس کی جانب سے جاری کردہ اسٹیٹمنٹ رپورٹ کی بنیاد پر اپنے فنڈز یا تمسکات کے بیلنس کو ہم آہنگ بنا سکتے ہیں۔

سسٹم کو دوبارہ کنیکٹ کریں اور ٹرانزیکشن کی حیثیت چیک کریں۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں آرٹی جی ایس پی ایم آفس سے رابطہ کیا جائے۔

پرزم شرکاء کے لیے ضروری ہے کہ وہ کلیئرنگ کے لیے ملٹی لیٹرل نیٹ سیٹلمنٹ بیچز (MNSBs) کے پرزم نظام میں پوسٹ ہونے کے بعد 15 منٹ کے اندر فنڈز کا انتظام کریں۔