پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے۔ اس میں اقتصادی نمو کی زبردست صلاحیت ہے۔ آبادی کی شرحِ نمو زائد ہونے کی بنا پر شہروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں مکان کی بلند طلب موجود ہے۔ ملک میں تخمینے کے مطابق 10 ملین مکانات کی قلت ہے، بیشتر قلت پست اور متوسط آمدنی والے گروپ میں ہے۔
طویل مدتی پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف ہاؤسنگ سیکٹر کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے، اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں شامل ہیں:
اسٹیٹ بینک نے مکاناتی قرضوں کی خصوصی نوعیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان قرضوں کے لیے الگ محتاطیہ ضوابط جاری کیے ہیں۔ مارکیٹ کی بدلتی ہوئی حرکیات کو دیکھتے ہوئے ان ضوابط پر وقتاً فوقتاً نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔
ملک میں کافی تعداد میں مکانات کی دستیابی کو بہتر بنانے کی ضرورت اور دیگر ملکوں میں تعمیراتی سرگرمیاں بڑھانے کے اہم کردار کے پیش نظر حکومت پاکستان نے آئندہ برسوں میں رہائشی یونٹوں کی تعداد کئی گنا بڑھانے کا عزم کیا ہے اور اس سلسلے میں کئی اقدامات کیے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے پہلے سے بتائے گئے سہ ماہی ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن فنانس اہداف پر نظرثانی کی ہے، جس سے ان کی کامیابی کو لازمی بنایا گیا ہے۔ یہ مارکیٹ سے چلنے والے فریم ورک کی طرف لازمی ٹارگٹڈ اپروچ سے تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مالیاتی اداروں کو اپنے خطرے کی بھوک کا انتظام کرتے ہوئے اندرونی اہداف حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک توقع کرتا ہے کہ بینک اپنے ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن فنانس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے اور اپنی اندرونی کریڈٹ رسک پالیسی اور اپنے قرض دہندگان کے رسک پروفائل کو مدنظر رکھیں گے۔
ملک میں کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کو فروغ دینے کے لیے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کے حصول کے لیے بینکوں/DFIs کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، ہاؤسنگ فنانس کے لیے درج ذیل پروڈنشل ریگولیشنز (PRs) میں ریگولیٹری چھوٹ/چھوٹ دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے:
اسٹیٹ بینک نے بینکوں /ترقیاتی مالی اداروں کو زیرتعمیر مکاناتی منصوبوں کو قرضے دینے کی طرف راغب کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں ۔ ان ہدایات کی تشکیل میں ہاؤسنگ یونٹس کی خریدوفروخت کے لیے مارکیٹ کی موجودہ روایات کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس میں حقوق و ذمہ داریوں کے قانونی نفاذ کا مسئلہ حل کرلیا گیا ہے۔ ان ہدایات کے تحت بینک یا کنسورشیم کے سربراہ بینک کی جانب سے بلڈر یا ڈویلپر کو ایسکرو اکاؤنٹ (رہن کھاتے) کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، ان ہدایات کے توسط سے مکاناتی اور تعمیراتی شعبوں کی سرگرمیاں پروان چڑھیں گی، جس سے معاشی ترقی کو مہمیز ملے گی۔ اس اقدام سے زیرِ تعمیر منصوبوں میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ اسکیم کے تحت قرض خواہوں کو مکاناتی قرضے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈرز کو ملک بھر میں نئے اپارٹمنٹس / فلیٹس کا اسٹاک بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔
اسٹیٹ بینک نے جائیداد کی اُن دستاویزات کی فہرست بنانے میں بینکوں اور حکومتِ پنجاب کو سہولت دی جو قرضے کے اجرا سے قبل تصدیق کے لیے بینکوں کو درکار ہوتی ہیں۔ زمین کی ملکیتی دستاویزات کی شرائط اراضی کے ریکارڈ کی ایک سے دوسری اتھارٹی کے لیے مختلف ہوتی ہیں، مثلاً محکمہ ریونیو، ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ۔ اراضی کے ریکارڈ کی مختلف اتھارٹیوں کے لیے معیاری فہرست (چیک لسٹ) بننے سے حکومتِ پنجاب کو ایسا آن لائن پورٹل بنانے میں مدد ملی جہاں رہن قرضے پیش کرنے والے بینکوں کی شرائط کے مطابق ملکیتی دستاویزات کی جانچ ہو سکے ۔ نیز، اسٹیٹ بینک نے اس پورٹل کی افادیت اور استعمال سے بینکوں کے اسٹاف کو آگاہ کرنے کی خاطر حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے استعداد سازی کے سیشنز بھی منعقد کیے۔ اگر دیگر صوبے بھی ایسے طریقہ کار متعارف کرائیں تو اسٹیٹ بینک انہیں بھی یہی سہولت فراہم کرے گا۔
جو صارفین پہلے ہی اپنے گھر کے مالک ہیں لیکن اپنا معیارِ زندگی بڑھانا چاہتے ہیں، یا اہل خانہ کی تعداد بڑھنے کے سبب گھر تبدیل کرنا چاہتے ہیں، انہیں رہن سے استفادے کے لیے نقدی کو بطور ایکویٹی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایک گھر کی بیک وقت خریدوفروخت ایک تھکادینے والا عمل ہے، اور ہوسکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ دونوں کام نہ ہو پائیں یا پھر دوسری صورت میں صارف کو ایکویٹی کے حصول کے لیے اپنے اثاثے نقد میں بدلوانے پڑیں ۔
سیال تمسکات یا دوسری جائیدادوں کے مالک صارفین کو مکاناتی قرضے کی سہولت دینے کے لیے بینکوں کو اجازت دیدی گئی ہے کہ ان چیزوں کو اُس رہن میں شمار کریں جو قرض خواہ 15 فیصد مقررہ ایکویٹی کے طور پر اپنی طرف سے ڈالے گا۔
بینکوں کو قرض خواہوں کی تلاش اور مکاناتی قرضے کے فوری اجرا میں ادائیگی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی اجازت دیدی گئی ہے۔ بینک مکاناتی قرضے کے اجرا کے لیے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، مائکروفنانس اداروں، مائکروفنانس بینکوں اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی حوصلہ افزائی کے باعث بینکوں نے مکاناتی قرضے کے لیے براہ راست سیلز عملہ مختص کردیا ہے۔