مکاناتی قرضوں کا فروغ

پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے۔ اس میں اقتصادی نمو کی زبردست صلاحیت ہے۔ آبادی کی شرحِ نمو زائد ہونے کی بنا پر شہروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں مکان کی بلند طلب موجود ہے۔ ملک میں تخمینے کے مطابق 10 ملین مکانات کی قلت ہے، بیشتر قلت پست اور متوسط آمدنی والے گروپ میں ہے۔

طویل مدتی پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف ہاؤسنگ سیکٹر کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے، اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں شامل ہیں:

  • ہاؤسنگ فنانس کے لیے پرڈینشل ریگولیشنز کا اجراء
  • کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کے لیے مراعات کا تعارف

محتاطیہ ضوابط

مراعات یا سزا

مارکیٹ کی سہولت

مکاناتی قرضوں کے لیے محتاطیہ ضوابط کا اجرا

اسٹیٹ بینک نے مکاناتی قرضوں کی خصوصی نوعیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان قرضوں کے لیے الگ محتاطیہ ضوابط جاری کیے ہیں۔ مارکیٹ کی بدلتی ہوئی حرکیات کو دیکھتے ہوئے ان ضوابط پر وقتاً فوقتاً نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔

محتاطیہ ضوابط کی اہم خصوصیات

  • بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ اپنی تمام برانچوں سے، خصوصاً چھوٹے قصبوں اور شہروں میں واقع برانچوں سے مکاناتی قرضے عوام کے لیے پیش کریں۔
  • بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں کو ترغیب دی گئی ہے کہ مکاناتی قرضے کی پیشکش کے لیے دستاویزات کا ایک مقررہ مجموعہ تیار کریں، جس میں شرائط و ضوابط واضح ہوں اور ان دستاویزات کی نقول صارف کو دی جانی چاہئیں۔
  • بینکوں کی آسانی کے لیے درجہ بندی میں ایک اضافی زمرہ شامل کیا گیا ہے۔
  • درجہ بندی کی شرائط بھی نرم کر دی گئی ہیں (معیاری 180 دن، مشکوک قرضہ ایک سال اور ضائع قرضہ دو سال)
  • بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں سے کہا گیا ہے کہ مکاناتی قرضے کی سہولتوں کے بارے میں صارفین کو بنیادی معلومات آن لائن طریقے سے اور مارکیٹنگ کے مواد کے ذریعے فراہم کریں اور مختلف فریقوں کے لیے ضروری معلومات فراہم کر کے اپنی ویب سائٹس کے متعلقہ حصے کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔
  • بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ریئل اسٹیٹ کا سروے سہ ماہی کے بجائے ششماہی بنیاد پر کریں۔
  • جائیداد کے بیمے کا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔
  • بینک/ ترقیاتی مالی ادارے قرضوں کی وصولی کا طریقہ کار واضح طور پر بیان کریں گے۔
  • غیر فعال قرضوں (non-performing loans ) کی ری شیڈولنگ/ تنظیمِ نو کی شق کو مستحکم کیا گیا ہے۔
  • مکاناتی قرضوں کے محتاطیہ ضوابط کے تحت شمسی توانائی حاصل کرنے کے طریقوں کے لیے قرضے کی 10 سال تک کے لیے اجازت دی گئی ہے۔

وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام گھر ہو تو اپنا

ملک میں کافی تعداد میں مکانات کی دستیابی کو بہتر بنانے کی ضرورت اور دیگر ملکوں میں تعمیراتی سرگرمیاں بڑھانے کے اہم کردار کے پیش نظر حکومت پاکستان نے آئندہ برسوں میں رہائشی یونٹوں کی تعداد کئی گنا بڑھانے کا عزم کیا ہے اور اس سلسلے میں کئی اقدامات کیے ہیں۔

مارکیٹ سے چلنے والے فریم ورک کے لیے لازمی ہدف شدہ نقطہ نظر

اسٹیٹ بینک نے پہلے سے بتائے گئے سہ ماہی ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن فنانس اہداف پر نظرثانی کی ہے، جس سے ان کی کامیابی کو لازمی بنایا گیا ہے۔ یہ مارکیٹ سے چلنے والے فریم ورک کی طرف لازمی ٹارگٹڈ اپروچ سے تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مالیاتی اداروں کو اپنے خطرے کی بھوک کا انتظام کرتے ہوئے اندرونی اہداف حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک توقع کرتا ہے کہ بینک اپنے ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن فنانس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے اور اپنی اندرونی کریڈٹ رسک پالیسی اور اپنے قرض دہندگان کے رسک پروفائل کو مدنظر رکھیں گے۔

کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کے لیے مراعات

ملک میں کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کو فروغ دینے کے لیے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کے حصول کے لیے بینکوں/DFIs کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، ہاؤسنگ فنانس کے لیے درج ذیل پروڈنشل ریگولیشنز (PRs) میں ریگولیٹری چھوٹ/چھوٹ دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے:

  • لون ٹو ویلیو ریشو (LTV): کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کے لیے LTV کا تناسب 90:10 تک برقرار رکھا جائے گا۔
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے خلاف نمائش کی حد: کم لاگت والے مکانات تک توسیع کی گئی فنانسنگ، رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر 10 فیصد کی نمائش کی حد سے مستثنیٰ ہوگی۔
  • پراپرٹی اسیسمنٹ: کم لاگت والے ہاؤسنگ یونٹس کی مالی اعانت کے مقصد کے لیے، بینکوں/DFIs کو اجازت ہے کہ وہ ایک ہی ترتیب اور سائز پر تعمیر ہونے والے ہر یونٹ کے لیے الگ الگ ویلیوایشن کرنے کے بجائے ایک ہی سوسائٹی/کالونی کی تمام اکائیوں پر سنگل یونٹ کی ویلیوایشن لاگو کریں۔
  • ہاؤسنگ فنانس کے خلاف جنرل ریزرو: بینکوں/DFIs کو کم لاگت ہاؤسنگ تک توسیع کی گئی فنانسنگ کے خلاف جنرل ریزرو کی ضرورت سے استثنیٰ حاصل ہے

زیرِ تعمیر مکاناتی منصوبوں کے لیے قرضے کی ہدایات

اسٹیٹ بینک نے بینکوں /ترقیاتی مالی اداروں کو زیرتعمیر مکاناتی منصوبوں کو قرضے دینے کی طرف راغب کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں ۔ ان ہدایات کی تشکیل میں ہاؤسنگ یونٹس کی خریدوفروخت کے لیے مارکیٹ کی موجودہ روایات کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس میں حقوق و ذمہ داریوں کے قانونی نفاذ کا مسئلہ حل کرلیا گیا ہے۔ ان ہدایات کے تحت بینک یا کنسورشیم کے سربراہ بینک کی جانب سے بلڈر یا ڈویلپر کو ایسکرو اکاؤنٹ (رہن کھاتے) کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، ان ہدایات کے توسط سے مکاناتی اور تعمیراتی شعبوں کی سرگرمیاں پروان چڑھیں گی، جس سے معاشی ترقی کو مہمیز ملے گی۔ اس اقدام سے زیرِ تعمیر منصوبوں میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ اسکیم کے تحت قرض خواہوں کو مکاناتی قرضے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈرز کو ملک بھر میں نئے اپارٹمنٹس / فلیٹس کا اسٹاک بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

ملکیتی دستاویزات کی آن لائن تصدیق

اسٹیٹ بینک نے جائیداد کی اُن دستاویزات کی فہرست بنانے میں بینکوں اور حکومتِ پنجاب کو سہولت دی جو قرضے کے اجرا سے قبل تصدیق کے لیے بینکوں کو درکار ہوتی ہیں۔ زمین کی ملکیتی دستاویزات کی شرائط اراضی کے ریکارڈ کی ایک سے دوسری اتھارٹی کے لیے مختلف ہوتی ہیں، مثلاً محکمہ ریونیو، ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ۔ اراضی کے ریکارڈ کی مختلف اتھارٹیوں کے لیے معیاری فہرست (چیک لسٹ) بننے سے حکومتِ پنجاب کو ایسا آن لائن پورٹل بنانے میں مدد ملی جہاں رہن قرضے پیش کرنے والے بینکوں کی شرائط کے مطابق ملکیتی دستاویزات کی جانچ ہو سکے ۔ نیز، اسٹیٹ بینک نے اس پورٹل کی افادیت اور استعمال سے بینکوں کے اسٹاف کو آگاہ کرنے کی خاطر حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے استعداد سازی کے سیشنز بھی منعقد کیے۔ اگر دیگر صوبے بھی ایسے طریقہ کار متعارف کرائیں تو اسٹیٹ بینک انہیں بھی یہی سہولت فراہم کرے گا۔

سیال تمسکات یا دیگر جائیداد کی بطور ایکویٹی قبولیت

جو صارفین پہلے ہی اپنے گھر کے مالک ہیں لیکن اپنا معیارِ زندگی بڑھانا چاہتے ہیں، یا اہل خانہ کی تعداد بڑھنے کے سبب گھر تبدیل کرنا چاہتے ہیں، انہیں رہن سے استفادے کے لیے نقدی کو بطور ایکویٹی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایک گھر کی بیک وقت خریدوفروخت ایک تھکادینے والا عمل ہے، اور ہوسکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ دونوں کام نہ ہو پائیں یا پھر دوسری صورت میں صارف کو ایکویٹی کے حصول کے لیے اپنے اثاثے نقد میں بدلوانے پڑیں ۔

سیال تمسکات یا دوسری جائیدادوں کے مالک صارفین کو مکاناتی قرضے کی سہولت دینے کے لیے بینکوں کو اجازت دیدی گئی ہے کہ ان چیزوں کو اُس رہن میں شمار کریں جو قرض خواہ 15 فیصد مقررہ ایکویٹی کے طور پر اپنی طرف سے ڈالے گا۔

ادائیگی کے متبادل ذرائع

بینکوں کو قرض خواہوں کی تلاش اور مکاناتی قرضے کے فوری اجرا میں ادائیگی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی اجازت دیدی گئی ہے۔ بینک مکاناتی قرضے کے اجرا کے لیے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، مائکروفنانس اداروں، مائکروفنانس بینکوں اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی حوصلہ افزائی کے باعث بینکوں نے مکاناتی قرضے کے لیے براہ راست سیلز عملہ مختص کردیا ہے۔