خواتین کے 2023ء تک 20 ملین انفرادی فعال ڈجیٹل اکاؤنٹس بنانے کے لیے خواتین سے متعلق مصنوعات اور خدمات، اکاؤنٹس اور ان کے استعمال تک رسائی ، اور خواتین آجرین کو قرضوں تک رسائی میں اضافہ کرنا۔
برابری پر بینکاری کی پالیسی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک تاریخ ساز پالیسی ہے، جس کا مقصد مالی شعبے میں خواتین دوست کاروباری طریقوں کی طرف منتقلی ہے تاکہ مالی شمولیت میں صنفی فرق کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان کے مالی نظام میں خواتین کی نمائندگی غیر متناسب طور پر کم ہے جس کی وجہ سے مالی شمولیت میں صنفی فرق بڑھ رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے صنفی فرق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مالی شعبے کی صنفی اعتبار سے غیر جانبدار پالیسیاں اور طرز عمل، جو دونوں جنسوں کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہیں، موروثی صنفی عدم مساوات کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوسکتیں، اور خواتین کی مالی شمولیت میں مزید رکاوٹیں پیدا کرتی رہیں گی۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے صنفی مرکزی دھارے میں لانے کی پالیسی "برابری پر بینکاری: مالی شمولیت میں صنفی فرق کو کم کرنا" کا آغاز کیا ہے تاکہ خواتین کی مالی شمولیت بڑھائی جاسکے ۔
خواتین کے 2023ء تک 20 ملین انفرادی فعال ڈجیٹل اکاؤنٹس بنانے کے لیے خواتین سے متعلق مصنوعات اور خدمات، اکاؤنٹس اور ان کے استعمال تک رسائی ، اور خواتین آجرین کو قرضوں تک رسائی میں اضافہ کرنا۔
مضمر صنفی تعصبات کے خاتمے کے لیے تمام عملے کے ارکان کو صنفی معاملے میں حساسیت کی تربیت دینا۔
برانچ لیس بینکاری کی خواتین ایجنٹس کا تناسب بڑھا کر 10 فیصد کرنا۔
بینکوں کے تمام صارفین رابطہ مراکز(ٹچ پوائنٹس) پر 75 فیصد ویمن چیمپئن تعینات کرنا۔
مالی شعبے میں خواتین کا تناسب 20 فیصد تک بڑھایا جائے۔
پالیسی کے تحت خواتین کی مالی شمولیت اور افرادی قوت میں ان کی معاشی شراکت کو بہتر بنانے کے لیے مالی اداروں کو 2024ء تک درج ذیل اہداف حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں