مالی بازار 

  •  
    SBP Policy Rate
    12.25% p.a.
     
    SBP Overnight
    Reverse
    Repo (Ceiling) Rate
    13.25% p.a
     
    SBP Overnight
    Repo (Floor) Rate
    11.25% p.a.
  •  
    Overnight Weighted Average Repo Rate
    As on 19-May-22

    12.28% p.a.
     
    KIBOR
    As on 20-May-22
    Tenor BID OFFER
    3-M 14.41 14.66
    6-M 14.62

    14.87

    12-M 14.61 15.11
         
     

  • MTBs
    Tenor Rates
    3-M 14.4999%
    6-M 14.7000%
    12-M 14.7500%
    (as on May 18, 2022)

    PIBs (Fixed Rate)

    Tenor Rates
    3-Y 13.3000%
    5-Y 12.9500%
    10-Y 13.1500%
    15-Y Bids Rejected
    20-Y Bids Rejected
    30-Y No Bids Received
    (as on Apr 28, 2022)

    PIBs (Floating Rate Quarterly)

    Tenor Cut-off Price
    2-Y Rs. 99.0660
    3-Y Rs. 97.2546
    (as on May 18, 2022)
    PIBs (Floating Rate Semi Annual)
    Tenor Cut of Price
    5-Y Bids Rejected
    10-Y Bids Rejected
    (as on May 18, 2022)
    GIS (FRR)
    Tenor Cut-off Rental Rate
    5-Y 12.49%
    (as on 21-Apr- 2022)
    GIS (VRR)
    Tenor Cut-off Price
    5-Y 100.000
    (as on 21-Apr- 2022)
  • PIB Auction
    (Fixed Rate)
    25-May-22


    MTB Auction

    01-Jun-22

    PIB Auction
    (Floating Rate)
    Semi-Annual

    01-Jun-22
    PIB Auction
    (Floating Rate)
    Quarterly

    01-Jun-22
    GIS VRR

    26-May-22
    GIS FRR

    26-May-22
    As on 13-May-22
    SBP’s Reserves
    10,163.6
    Bank’s Reserves
    5,997.4
    Total Reserves
    16,161.0

  •  
    USD/PKR Rates
    As on 20-May-22
     
    M2M
    Revaluation Rate
    200.1400
     
    Weighted
    Average Rate
    Bid: 200.2885
    Offer:

    200.7113

       
     
شرح مبادلہ کا نظام اور زرمبادلہ کے ذخائر کا انتظام  

1۔ شرح مبادلہ کا طریقہ کار
مئی 1999ء سے پاکستان میں مارکیٹ کی بنیاد پر وضع کردہ شرح مبادلہ کے لچکدار نظام پر عمل ہورہا ہے۔ بین البینک ریٹ کا اطلاق سرکاری و نجی شعبہ جات میں زرمبادلہ کی تمام وصولی و ادائیگی پر ہوتا ہے۔ مقامی بین البینک بازارِ زرمبادلہ میں طلب و رسد کی بنیاد پر شرح مبادلہ کا تعین کیا جاتا ہے۔

- تمام منظور شدہ مقاصد بشمول درآمدات، خدمات اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے جسے مجاز ڈیلروں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، انٹر بینک مارکیٹ ان ہی ڈیلروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مجاز ڈیلر حضرات کو کسی بھی مقصد کی خاطر زرمبادلہ کے حصول کے لیے اسٹیٹ بینک سے رابطہ نہیں کرنا ہوتا، اور نہ ہی وہ زرِ مبادلہ اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنے کے پابند ہیں۔ ہر مجاز ڈیلر کو زرمبادلہ کی خریدوفروخت کے نرخ متعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسٹیٹ بینک مجاز ڈیلروں کو شرحِ مبادلہ کے ضمن میں پیشگی تحفظ (فارورڈ کور)فراہم نہیں کرتا، تاہم مجاز ڈیلر بازار کے مروجہ حالات کے مطابق برآمدات، درآمدات اور دیگر جائز لین دین کے لیے ایسا کر سکتے ہیں۔

2۔ زرمبادلہ کے ذخائر
1947ء کے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت بینک دولت پاکستان زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ حکومت کے نمائندے کے طور پر اسٹیٹ بینک سونا، چاندی یا منظور شدہ زرمبادلہ کی خریدوفروخت کا مجاز ہے، اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کی دفعہ 17،ذیلی دفعہ (a)13 اور 13(f) کے تحت اسے آئی ایم ایف سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کے لین دین کا اختیار بھی حاصل ہے۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نگہبان کے طور پر اسٹیٹ بینک زرمبادلہ کے انتظام اور غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ذخائر کے انتظام کا کام ایک سرمایہ کاری کمیٹی کررہی ہے، جو ذخائرکی مجموعی سطح ،عرصیتوں اور ادائیگی کے وعدوں کو پیش نظر رکھ کر اضافی رقوم کی سرمایہ کاری اس طرح کرتی ہے کہ ان ذخائر کا دانشمندانہ انتظام یقینی بنایا جا سکے، بنیادی مقصد تحفظ، سیالیت اور بہتر سے بہتر منافع ہوتا ہے۔