مالی بازار 

  •  
    SBP Policy Rate
    16.00% p.a.
     
    SBP Overnight
    Reverse
    Repo (Ceiling) Rate
    17.00% p.a
     
    SBP Overnight
    Repo (Floor) Rate
    15.00% p.a.
  •  
    Weighted-average Overnight Repo Rate
    As on 01-Dec-22

    15.23% p.a.
     
    KIBOR
    As on 02-Dec-22
    Tenor BID OFFER
    3-M 16.73 16.98
    6-M 16.75

    17.00

    12-M 16.76 17.26
     

  • MTBs
    Tenor Rates
    3-M 16.9999%
    6-M 16.8000%
    12-M 16.8401%
    (as on Nov 30, 2022)

    PIBs (Fixed Rate)

    Tenor Cut-off Rates
    3-Y Bids Rejected
    5-Y 13.3500%
    10-Y Bids Rejected
    15-Y No Bid Received
    20-Y No Bid Received
    30-Y No Bid Received
    (as on Nov 29, 2022)

    PIBs (Floating Rate Quarterly)

    Tenor Cut-off Price
    2-Y Rs. 98.9379
    3-Y Bids Rejected
    (as on Nov 30, 2022)
    PIBs (Floating Rate Semi Annual)
    Tenor Cut of Price
    5-Y Bids Rejected
    10-Y Bids Rejected
    (as on Nov 30, 2022)
    GIS (FRR)
    Tenor Cut-off Rental Rate
    5-Y 12.4900%
    (as on 10-Nov-2022)
    GIS (VRR)
    Tenor Cut-off Price
    5-Y Rs. 100.000
    (as on 10-Nov-2022)
  • PIB Auction
    (Fixed Rate)
    21-Dec-22


    MTB Auction

    14-Dec-22

    PIB Auction
    (Floating Rate)
    Semi-Annual

    14-Dec-22
    PIB Auction
    (Floating Rate)
    Quarterly

    14-Dec-22
    GIS VRR

    01-Dec-22
    GIS FRR

    01-Dec-22
    As on 25-Nov-22
    SBP’s Reserves
    7,498.7
    Bank’s Reserves
    5,879.5
    Total Reserves
    13,378.2

  •  
    As on 02-Dec-22
     
    M2M
    Revaluation Rate
    223.6892
     
    Weighted
    Average Rate
    Bid: 223.5283
    Offer:

    223.9444

     
مقامی بازارِ ماخوذیات  

1۔ موجودہ بازارِ ماخوذیات
اسٹیٹ بینک نے بازارِ ماخوذیات کے شرکا کو بعض ماخوذہ مصنوعات (تبدّل اور آپشنز) کی اجازت دی ہے تاہم اطلاع و انکشاف کی مخصوص شرائط بھی لاگو کی ہیں،نیز بازار کو صرف پیش بندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک چار اقسام کی ماخوذہ مصنوعات کی اجازت دیتا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
الف)  شرح سود کا تبدّل: شرح سود کا تبدّل دو فریقوں کے مابین ایسے معاہدے کو کہتے ہیں جس کے تحت اصل رقم کی بنیاد پر مستقبل کی چند سودی ادائیگیوں کا کچھ دیگر کے ساتھ تبادلہ کیا جاتا ہے۔

ب)  پیشگی شرح کے معاہدے: یہ معاہدے فریقین کے مابین غیر رسمی طور پر ہوتے ہیں، ان میں واجبات کی ادائیگی یا وصولی کے ضمن میں شرح سود اور شرح مبادلہ طے کی جاتی ہے، جس کا آغاز مستقبل کی کسی تاریخ سے ہوتا ہے۔

ج)  تیسری کرنسی کا طریقہ: یہ طریقہ شرح مبادلہ سے متعلق خطرات کی پیش بندی کے لیے تجارت سے متعلقہ لین دین میں استعمال ہوتا ہے جیسے ایل سی، برآمدات، درآمدات وغیرہ۔

د)  بین کرنسی تبدّل: بین کرنسی تبدّل ایک غیررسمی معاہدہ ہے، جس میں دو فریق دومختلف کرنسیوں میں لیے گئے قرضوں پر سودی ادائیگیاں اور اصل رقم کا باہم تبادلہ کرتے ہیں۔ بین کرنسی تبدّل میں کسی قرض کی ایک کرنسی میں سودی و اصل رقم کی ادائیگی کا تبادلہ کسی دوسری کرنسی میں مساوی قدر میں قرض اور سودی ادائیگیوں سے کیا جاتا ہے۔

2۔ منظورشدہ ڈیلرز برائے ماخوذیات
منظور شدہ ڈیلرز برائے ماخوذیات (اے ڈی ڈی) وہ ادارے ہیں جنہیں اسٹیٹ بینک نے مخصوص ماخوذیات کے لین دین کا لائسنس دیا ہے۔ فی الوقت پاکستان میں منظور شدہ ڈیلرز برائے ماخوذیات چھ عدد ہیں۔

ک
1۔ سٹی بینک
2۔ ڈوئچے بینک
3۔فیصل بینک
4۔حبیب بینک
5۔اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمیٹڈ
6۔یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ


3۔ غیر بازار ساز (Non-Market Maker ) مالی ادارے:

غیر بازار ساز مالی ادارے وہ مالی ادارے ہیں جو اپنے صارفین کے ساتھ ماخوذیات کا لین دین کرتے ہیں تاکہ تفاوت پیدا کریں۔اس سے کوئی مارکیٹ نہیں بنتی اور لین دین ساتھ ساتھ نمٹایا جاتا ہے۔ فی الوقت ایسا صرف ایک ادارہ ہے، جو بینک آف ٹوکیو متسوبشی یو ایف جے، لمیٹڈ ( صرف زرمبادلہ کے لیے) ہے۔


4۔ مالی ماخوذیات کے ضوابط(ایف ڈی بی آر)

مالی ماخوذیات کے کاروباری ضوابط دراصل ماخوذیات کے لین دین میں شامل مالی اداروں کو اجازت دینے، ضوابط کا پابند بنانے اور ان کی نگرانی کا وضع کردہ طریقہ کار ہے۔ مالی اداروں کو ماخوذیات کے لین دین میں شامل ہونے سے قبل اسٹیٹ بینک کی اجازت درکار ہوتی ہے، اسٹیٹ بینک چونکہ نگراں ادارہ ہے، اس لیے انہیں اس کی نگرانی اور جانچ پڑتال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
ان ضابطوں کی خلاف ورزی پر ماخوذیات کے کاروبار کے ضمن میں اسٹیٹ بینک کسی بھی مالی ادارے کا بطور این ایم آئی یا اے ڈی ڈی درجہ معطل یا منسوخ کر سکتا ہے۔ ان ضوابط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے ڈی ڈی یا این ایم آئی ادارے ماخوذیات کا کون کون سا لین دین کر سکتے ہیں۔