اسٹیٹ بینک کے بارے میں 

اسٹیٹ بینک کاتعارف  


بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کے تحت تشکیل دیا گیا ہے جو اسے بطور مرکزی بینک کام کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ایس بی پی ایکٹ کے مطابق بینک کا کام  زری استحکام اور ملک کے پیداواری وسائل سے پوری طرح استفادہ کرنے کے لیے پاکستان میں زری اور قرضہ جاتی نظام کو منضبط کرنا اور بہترین ملکی مفاد میں اس کی نمو کو تقویت بہم پہنچانا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ذیلی ادارے ذمہ داریوں کی احسن طور پر انجام دہی کے لیے اسٹیٹ بینک کے دو ذیلی ادارے ہیں جو مکمل طور پر اسی کی ملکیت ہیں۔ وہ ادارے یہ ہیں:

ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن (SBP-BSC)
ایس بی پی آرڈیننس 2001ء کے تحت قائم ہونے والا ایس بی پی بی ایس سی اسٹیٹ بینک کو بندوبست زر اور قرض کے انتظام، بین البینک تصفیاتی نظام میں سہولت کی فراہمی، اور قومی بچتوں کے مرکزی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے حکومت پاکستان کی بچتوں کے آلات کی خرید و فروخت جیسے افعال کی فراہمی میں اعانت کرتا ہے۔ ایس بی پی بی ایس سی حکومت کی جانب سے محاصل کی وصولی اور ادائیگیاں بھی کرتا ہے۔ یہ ترقیاتی مالیات سے متعلق آپریشنل ورک، سرکاری قرض کا انتظام، زر مبادلہ کے آپریشنز اور برآمدات کی نو مالکاری بھی کرتا ہے۔ ایس بی پی بی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکے صدر نشین گورنر ہیں اور اراکین میں ایس بی پی بی ایس سی کےمنیجنگ ڈائریکٹر اور اسٹیٹ بینک بورڈ کے تمام اراکین شامل ہیں۔


نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس(NIBAF)
نباف تربیتی حوالے سے ایس بی پی کا مددگار ہے۔ یہ نو تقرر شدہ ملازمین اور اور مختلف درجات پر فائز ایس بی پی کے ملازمین کو ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔ یہ ذیلی ادارہ وفاقی حکومت کے اشتراک سےمرکزی اور تجارتی بینکاری سے متعلق بین الاقوامی کورسز کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نباف ایس بی پی بی ایس سی اور دیگر مالی اداروں کو بھی تربیت دیتا ہے۔ نباف ،کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت قائم کیا گیا جس کا ایک الگ بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے۔