اسٹیٹ بینک کے بارے میں/ ڈپٹی گورنرز 



جمیل احمد
ڈپٹی گورنر بینک دولت پاکستان

جناب جمیل احمد کو وفاقی حکومت نے 25 اکتوبر 2018ء کو تین سال کے لیے دوبارہ ڈپٹی گورنر مقرر کیا ۔ وہ بطور ڈپٹی گورنر (بینکاری اور ایف ایم آر ایم) بھی یکم اکتوبر 2017ء تا 15 اکتوبر 2018ء تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ایک تجربہ کار مرکزی بینکار کی حیثیت سے جناب جمیل احمد کا شاندار کیرئیر 30 سے زائد برسوں پر محیط ہے اور وہ اسٹیٹ بینک اور سعودی مرکزی بینک (ایس اے ایم اے) میں متعدد سینئر عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1991ء سے اسٹیٹ بینک سے منسلک ہیں اور ڈپٹی گورنر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ڈپٹی گورنر کے منصب پر فائز ہونے سے قبل وہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، بینکاری نگرانی اور مالی استحکام گروپ، کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ آپریشنز، بینکاری پالیسی و ضوابط، ترقیاتی مالیات اور مالی وسائل کے انتظام کے گروپ ہیڈ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ جولائی 2009ء میں ایس اے ایم اے سے بطور مشیر منسلک ہوئے اور اپریل 2015ء تک یہ عہدہ ان کے پاس رہا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے بینکاری نظام کے لیے پالیسی اور ضوابطی فریم ورک کی تشکیل اور ان کی مالی اصابت اور استحکام کی نگرانی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جناب جمیل احمد اس وقت ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کے وائس چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے پالیسی بورڈ ، نیشنل کونسل آف انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور زری پالیسی کمیٹی سمیت اسٹیٹ بینک کی سینئر مینجمنٹ کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور کارپوریٹ اینڈ انڈسٹریل ری اسٹرکچرنگ کارپوریشن (سی آئی آر سی) آرڈیننس آف پاکستان کے تحت تشکیل دی گئی توثیقی کمیٹی کے چیئرمین اور کرنسی نوٹوں اور حکومتی بلوں کی جعل سازی سے نمٹنے کی وزیراعظم پاکستان کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس کے رکن / سیکرٹری کی حیثیت میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ کئی دیگر قومی اور بین الاقوامی کمیٹیوں /فورمزپر بھی اسٹیٹ بینک کی نمائندگی کرچکے ہیں ، جن میں مالی استحکام بورڈ (ایف ایس بی) کا کرسپانڈنٹ بینکنگ اشتراکی گروپ شامل ہے اور وہ بازل کمیٹی برائے بینکاری نگرانی (بی سی بی ایس) کی ٹاسک فورس برائے اثاثوں کا محتاطیہ انتظام کے بھی رکن تھے ۔ وہ آئی ایف ایس بی کی کی تکنیکی کمیٹی اور انتظامِ خطر ، نگرانی جائزہ طریقِ کار ، کفایتِ سرمایہ اور الفا فیکٹر کے تعین کے ورکنگ گروپس کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

بطور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ، جناب جمیل احمد نے بینکاری اور ادائیگیوں کی ڈجیٹائزیشن کے ساتھ ساتھ ملک میں جدید مالی خدمات کی پیشکش کے لیے فِن ٹیک کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ای منی اداروں کے لیے قواعد کی تشکیل اور اجراکی نگرانی کی۔ انہوں نے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام راست، ڈجیٹل بینکاری ضوابط اور اسٹیٹ بینک کے نالج مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹیوں کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک اور عالمی بینک کے اشتراک سے تیار کی گئی پاکستان کے نظام ِادائیگی کی قومی حکمت عملی کی تیاری اور اجرا کی بھی نگرانی کی۔

سعودی مرکزی بینک سے وابستگی کے دوران جناب جمیل احمد نے بی سی بی ایس کے کئی اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپس/ٹاسک فورسز میں ایس اے ایم اے کی نمائندگی کی جن میں اس کا بھاری اکتشاف (ایکسپوژرز) گروپ، ریاستی اکتشافات پر اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس، ٹاسک فورس برائے اثاثوں کا محتاطیہ انتظام اور نگرانی و نفاذ گروپ شامل ہیں۔ وہ ایف ایس بی کے کمپن سیشن مانیٹرنگ گروپ، فنانشل سیفٹی پر جی 20 کی ٹاسک فورس، کفایتِ سرمایہ پر آئی ایف ایس بی کے ورکنگ گروپ اور آئی ایف ایس بی کی پی ایس آئی ایف آئیز پر ٹاسک فورس میں ایس اے ایم اے کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

جناب جمیل احمد نے 1988ء میں لاہور میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور وہ 1994ء سے انسٹی ٹیوٹ آف کوسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان(ایف سی ایم اے) کے فیلو رکن، 1993ء سے انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان ((ایف آئی بی پی) کے فیلو رکن اور 1992ء سے انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکریٹریز آف پاکستان (ایف سی آءی ایس) کے فیلو رکن بھی ہیں۔ علمی/ پیشہ ورانہ اسٹڈیز کے دوران نمایاں کامیابیوں پر وہ دو گولڈ میڈلز اور میرٹ کے دو سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ 1998ء تا 1999ء کے دوران عالمی بینک کے ایک پروجیکٹ کے تحت وہ بینکاری نگرانی پر جامع آن جاب تربیت بھی حاصل کرچکے ہیں جس میں امریکہ کے بعض ضوابطی اداروں کے ساتھ مختصر اٹیچ منٹس بھی تھیں۔ انھوں نے جن دیگر تربیتی کورسوں میں شرکت کی ان میں بینکاری نگرانی میں ٹورنٹو سینٹر فار لیڈرشپ، بینک آف انگلینڈ کا سینٹر برائے سینٹرل بینکنگ اسٹڈیز، آئی ایم ایف ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، ایس ای اے سی ای این سینٹر، آفس آف دی سپرنٹنڈنٹ آف فنانشیل انسٹی ٹیوشنز ،کینیڈا اور بی آئی ایس مالی استحکام انسٹی ٹیوٹ، سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔