کووڈ 19  عالمی سطح پر انسانی زندگی کو چیلنج اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔حکومتوں کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک بھی مذکورہ صورت حال سے منسلک چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس صورت حال سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک عوام کی سلامتی کے تحفظ اور معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ ہمیں دیے گئے اختیارات کے مطابق ہم اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہے ہیں کہ مہنگائی قابو میں رہے، کووڈ 19 کے معاشی نمو اور روزگار پر اثرات کم کیے جائیں اور اس بات کی نگرانی کی جائے کہ بینکاری اور ادائیگیوں کے نظام بہتر حالت میں کام کرتے رہیں۔ اس تناظر میں ہم پہلے ہی متعدد پالیسی اقدامات کر چکے ہیں جنہیں ذیل میں دیا گیا ہے۔ ہم صورت حال کو مسلسل جانچنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور کووڈ 19 سے
    پیدا ہونے والی صورت حال اور معیشت پر اس کے اثرات سامنے آنے کے ساتھ اضافی اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
    ای میل: [email protected]
    یا
    فون: +92-21-111-727-273

    یہ صفحہ کووڈ 19سے نمٹنے کے اقدامات کو شامل کرنے کے لیے باقاعدگی سے اپڈیٹ کیا جائے گا۔اگر صارفین کووڈ-19 کے ضمن میں ان اقدامات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں، یا ان اقدامات سے استفادے کے حوالے سے انھیں کمرشل بینکوں کی جانب سے پیش آئیں ، تو وہ [email protected] پر ای میل یا 111‐727‐273 پر فون کرکے اسٹیٹ بینک کی مخصوص کووڈ-19 ٹیم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

    (اپڈیٹ: 15 مئی 2020ء)
    اسٹیٹ بینک نے 17 مارچ 2020ء سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 525 بیسس پوائنٹس کٹوتی کی ہے۔  
      اس فیصلے سے ایم پی سی کے اس نقطہ نظر کی عکاسی ہوتی ہے کہ ایندھن کی ملکی قیمتوں میں حالیہ کٹوتی کی روشنی میں مہنگائی کا منظرنامہ بہتر ہوا ہے۔ نتیجتاً ، مہنگائی رواں مالی سال کی گذشتہ اعلان کردہ حدود 11-12 فیصد اور اگلے مالی سال کی 7-9 فیصدکی نچلی سطح سے قریب رہے گی۔

      ایم پی سی نے اس امر کو اجاگر کیا کہ کورونا وائرس کی وبا نے اپنے غیر معاشی سبب اور اس سے نمٹنے کے لیے درکار معاشی سرگرمی کے عارضی تعطل کی بنا پر زری پالیسی کے لیے منفرد مشکلات پیدا کی ہیں۔ اگرچہ نرم زری پالیسی سے نہ تو وبا کے پھیلاؤ کی شرح متاثر کرسکتی ہے اور نہ ہی لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمی میں قلیل مدتی کمی رک سکتی ہے، لیکن یہ گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے سیالیت کے حوالے سے مدد فراہم کرسکتی ہے تاکہ وہ معاشی تعطل کے آنے والے عارضی مرحلے سے گذر سکیں ۔ خاص طور پر ، پالیسی کی شرح میں پے در پے کٹوتیوں اور اسٹیٹ بینک کی بہتر بنائی گئی ری فنانسنگ سہولیات سے فراہم کردہ اور خاصے سستے قرضوں سے قرضوں کا بہاؤ برقرار رکھنے ، قرض لینے والوں کے کیش فلو کو بڑھانے اور اثاثوں کی قیمتوں کو سہارا دینے میں مدد ملی ہے۔ اس سے مالی حالات کی سختی قابو میں رہی ہے جو بصورت دیگر معاشی سرگرمیوں میں ابتدائی ضروری سکڑاؤ کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھ جاتی۔

      ایم پی سی نے بحران کے آغاز کے بعد دو ماہ کے اندر زری پالیسی میں525 بیسس پوائنٹ کی بہ سرعت اور مضبوط کمی اور اصل رقم کی واپسی کی مدت میں توسیع، پے رول کی فنانسنگ نیز سیالیت کو سہارا دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کے دیگر اقدامات کو نوٹ کیا۔ حکومت کی فعال مالیاتی تحریک بشمول کم آمدنی والے گھرانوں، ایس ایم ایز اور تعمیرات کے شعبوں کے لیے ہدفی سپورٹ پیکجز نیز بین الاقوامی برادری کی امداد کے ہمراہ ان اقدامات سے نمو اور روزگار کو کافی تقویت ملے گی۔ اس مربوط اور وسیع البنیاد پالیسی اقدام سے ریلیف اور استحکام فراہم ہوا ہے اور وبا کے اثرات کم ہونے پر بحالی کے لیے مدد بھی مہیا ہونے کی امید ہے۔

      یہ فیصلہ کرنے میں ایم پی سی نے حقیقی، بیرونی، اور مالیاتی شعبوں کے رجحانات اور امکانات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زری حالات اور مہنگائی کا جائزہ لیا۔

      15 مئی 2020ء کو جاری ہونے والا مکمل زری پالیسی بیان پڑھیے

    http://www.sbp.org.pk/m_policy/2020/MPS-May-2020-Urdu.pdf
      قبل ازیں 16 اپریل 2020ء کو زری پالیسی کمیٹی نے میں 200 بی پی ایس کٹوتی کرکے اسے 9 فیصد کردیا تھا۔ 24 مارچ 2020ء کو منعقد ہونے والے اجلاس میں زری پالیسی کمیٹی (MPC) نے کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں عالمی اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے امکانات میں بگاڑ کا تذکرہ کیا۔ واضح ہوتی صورت حال کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی نےکہا کہ وہ ’’کورونا وائرس کے ابھرتے ہوئے اقتصادی اثرات کے ردعمل میں مزید تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘‘

      زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے عالمی اور ملکی امکانات میں مزید بگاڑ آیا ہے۔ عالمی معیشت کے عظیم کسادبازاری کے بعد پہلی مرتبہ گہرے معاشی بحران سے دوچار ہونے کی توقع ہے اور آئی ایم ایف کی اس ہفتے جاری ہونے والی پیش گوئیوں کے مطابق 2020ء میں یہ تقریباً 3 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔ یہ 2009ء کے عالمی مالی بحران میں ہونے والی 0.07 فیصد کمی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں، بدترین نتائج کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ تیل کی قیمتیں مزید گر چکی ہیں جبکہ فیوچرز مارکیٹس کے مطابق کم قیمتیں برقرار رہیں گی۔ اندرون ملک خردہ فروخت، کریڈٹ کارڈ کے خرچ، سیمنٹ کی پیداوار، برآمدی آرڈرز، ٹیکس وصولیوں اور گوگل کی حال ہی میں متعارف کی گئی سماجی حرکت پذیری کی رپورٹس سے ملنے والے حرکت پذیری کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ ہفتوں کےدوران معیشت کے بیشتر حصوں میں خاصی سست رفتاری آئی ہے۔ مہنگائی کے معاملے میں مارچ کے صارف اشاریہ قیمت مہنگائی کے نتائج اور اپریل میں حساس اشاریہ قیمت (SPI) اگرچہ کورونا وائرس کے دھچکے کی شدت اور مدت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہے، اس لیے مندرجہ بالا سطور میں جن پیش رفتوں پر بحث کی گئی ہے وہ معاشی نمو اور مہنگائی کے امکانات میں مزید کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

      مالی سال 20ء کے دوران معیشت کے -1.5 فیصد سکڑنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 21ء میں بحالی کے بعد تقریباً 2 فیصد نمو حاصل ہو سکتی ہے۔ مہنگائی رواں مالی سال کے قبل ازیں اعلاناگرچہ کورونا وائرس کے دھچکے کی شدت اور مدت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہے، اس لیے مندرجہ بالا سطور میں جن پیش رفتوں پر بحث کی گئی ہے وہ معاشی نمو اور مہنگائی کے امکانات میں مزید کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مالی سال 20ء کے دوران معیشت کے -1.5 فیصد سکڑنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 21ء میں بحالی کے بعد تقریباً 2 فیصد نمو حاصل ہو سکتی ہے۔ مہنگائی رواں مالی سال کے قبل ازیں اعلان کردہ 11 تا 12 فیصد کی نچلی حد کے قریب رہنے اور اگلے مالی سال میں گر کر 9 تا 7 فیصد پر آنے کی توقع ہے۔ رسد میں عارضی تعطل یا غذائی اشیا کی قیمتوں کے دھچکوں کی صورت میں عمومی مہنگائی میں اضافے کے کچھ خطرات لاحق ہیں لیکن معیشت کی کمزوری کی وجہ سے یہ دورثانی اثرات مرتب کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسی طرح، کم درآمدی طلب اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شرح مبادلہ میں حالیہ کمی قابو میں رہنے کی توقع ہے۔
      پڑھئے 16 اپریل 2020ء کو جاری ہونے والا مکمل زری پالیسی بیان
    http://www.sbp.org.pk/m_policy/2020/MPS-Apr-2020-Urdu.pdf
      24 مارچ 2020ء کو زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 150 بیسس پوائنٹس کٹوتی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کر دیا تھا۔ اس سے قبل 17 مارچ 2020ء کو ہونے والے اجلاس میں زری پالیسی کمیٹی نے کورونا وائرس کے عالمی معیشت اور پاکستان پر اثرات کے حوالے سے خاصی غیر یقینی صورت حال کا تذکرہ کیا تھا۔ اس کے اگلے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں زری پالیسی کمیٹی نے ’’زور دیا کہ مہنگائی اور معاشی نمو کے امکانات کے متعلق زیادہ معلومات دستیاب ہوتے ہی جب بھی ضرورت پڑی وہ مزید اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘‘
      گذشتہ زری پالیسی اجلاس سے اب تک ملکی اور عالمی پیش رفتوں پر خاصی نئی معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔ عالمی طور پر، کورونا وائرس کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے اقتصادی سرگرمی پر کافی خلل پڑا ہے اور آئی ایم ایف بھی اپنے عالمی نمو کے منظرنامے کو 3.3. فیصد نمو سے کافی گھٹا کر 0 سے نیچے لے گیا ہے۔ ان عالمی پیشرفتوں کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت میں بھی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ ملکی سطح پر، گذشتہ زری پالیسی اجلاس سے اب تک کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد خاصی بڑھ چکی ہے، جس سے سماجی فاصلے اور سرگرمیوں میں کمی کو فروغ ملا ہے۔ اس سے ملکی مانگ میں نمایاں طور پر سست روی متوقع ہے۔
      مندرجہ بالا سطور میں جن پیش رفتوں پر بحث کی گئی ہے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں معاشی نمو اور مہنگائی کے امکانات پر ممکنہ طور پر نظرثانی کرتے ہوئے ان میں کمی کی جا سکتی ہے۔ نئی معلومات کی روشنی میں زری پالیسی کمیٹی کے آج ہونے والے اپنے ہنگامی اجلاس میں مزید اقدامات کرنے پر اتفاق رائے پایا گیا۔ لہٰذا، زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں مزید 150 بی پی ایس کٹوتی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح گذشتہ ایک ہفتے میں مجموعی طور پر زری پالیسی میں 225 بیسس پوائنٹس کٹوتی کی گئی۔ زر ی پالیسی کمیٹی کی رائے تھی کہ یہ مجموعی نرمی مہنگائی کی توقعات کا تحفظ کرتے ہوئے نمو کی سست رفتاری کو سہولت دے گی۔
      پڑھئے 24 مارچ 2020ء کو جاری ہونے والا مکمل زری پالیسی بیان
    http://www.sbp.org.pk/m_policy/2020/MPS-Mar-24--03-2020-Urdu.pdf
      قبل ازیں زری پالیسی کمیٹی نے 17 مارچ 2020ء کو اپنے پالیسی ریٹ میں 75 بیسس پوائنٹس کٹوتی کی تھی۔ زری پالیسی بیان میں کہا گیا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی کے مطابق گذشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی سب سے اہم پیش رفت کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی طلب میں سست رفتاری اور عالمی مالی منڈیوں میں تغیرپذیری کے ساتھ ساتھ تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ لہٰذا ملکی غذائی قیمتوں میں نمایاں سست رفتاری اور صارفین کی قیمتوں کے متعلق توقعات میں خاصی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں مہنگائی کے امکانات میں بہتری آئی ہے جس سے پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
      پاکستانی مارکیٹ کو جس حالیہ تغیرپذیری کا تجربہ ہوا ہے اس کے عوامل میں بیرونی صورت حال اور پاکستانی معیشت کی مبادیات کی مضبوطی شامل ہیں جن کے بل بوتے پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل پاکستانی منڈیاں مستحکم تھیں۔ اس کے نتیجے میں امکان ہے کہ عالمی سطح پر خطرات مول لینے سے گریز میں کمی کے ساتھ ہی یہ تغیر پذیری کم ہو گی۔ اسٹیٹ بینک ملک میں قیمتوں اور مالی استحکام کا تحفظ کرنے اور معاشی نمو کو اعانت کی فراہمی کے لیے جو بھی ممکنہ اضافی اقدامات ضروری ہوئے، وہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
      پڑھئے 17 مارچ 2020ء کو جاری ہونے والا مکمل زری پالیسی بیان
    http://www.sbp.org.pk/m_policy/2020/MPS-Mar-2020-Urdu.pdf

      (اپ ڈیٹڈ 11 مئی 2020ء)
      روزگار میں اعانت اورروزگار میں اعانت اور کارکنوں کی برطرفی روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی ری فنانس اسکیم  
      اسٹیٹ بینک نے اپنی روزگار اسکیم کا دائرہ کار اور قرضوں کی حدود بڑھا دیں
      11 مئی 2020ء کو اسٹیٹ بینک نے درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں ، جو خاصی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، کو سہولت دینے کے لیے ایک اور اقدام کیا تاکہ اس اسکیم کے تحت اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی نومالکاری حدود میں اضافہ کردیا اور اب وہ 50 کروڑ روپے تک کے اوسطاً تین ماہ کے اجرت بل رکھنے والے کاروباری اداروں کی 100 فیصد اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے نومالکاری کرے گا۔ انھیں اپریل، مئی اور جون 2020ء کے مہینوں کی اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ قبل ازیں، صرف 2 کروڑ کے اجرت بل کے لیے 100 فیصد مالکاری دستیاب تھی۔ اسی طرح، جن کاروباری اداروں کا تین ماہ کا بل 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہو ، اسٹیٹ بینک اب ان کے لیے 75 فیصد تک زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے کے قرضے فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ ساڑھے 37 کروڑ روپے کے لیے 75 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 50 کروڑ روپے کے لیے 50 فیصد تک مالکاری دستیاب تھی۔ یہ تبدیلیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ تاہم، جو ادارے پہلے لاگو کی گئی حدود کی بنا پر پست قرضے حاصل کرچکے ہیں وہ اب نظرِثانی شدہ معیارات کی بنیاد پر اضافی قرضے حاصل کرسکیں گے۔

      گذشتہ اور نئی مالکاری حدود کا موازنہ درج ذیل جدول میں پیش کیا گیا ہے:
      زمرہ 3 ماہ کا اجرتوں اور تنخواہوں کا بل قرضے کی گذشتہ حد قرضے کی نئی حدود
      (1) (2) (3) (4)
      الف
      20 کروڑ روپے سے کم یا برابر
      3 ماہ کے اجرت بل کا 100 فیصد
      3 ماہ کے اجرت بل کا 100 فیصد
      ب
      20 کروڑ روپے سے زیادہ اور 50 کروڑ روپے سے کم یا برابر
      20 کروڑ روپے یا 3 ماہ کے اجرت بل کا  75 فیصد، ان میں سے جو بھی زیادہ ہو، بشرطیکہ زیادہ سے زیادہ رقم ساڑھے 37 کروڑ روپے ہو
      3 ماہ کے اجرت بل کا 100 فیصد
      ج
      50 کروڑ روپے سے زائد
      ساڑھے 37 کروڑ روپے یا 3 ماہ کے اجرت بل کا  50 فیصد، ان میں سے جو بھی زیادہ ہو، بشرطیکہ زیادہ سے زیادہ رقم 50 کروڑ روپے ہو
      50 کروڑ روپے یا 3 ماہ کے اجرت بل کا  75 فیصد، ان میں سے جو بھی زیادہ ہو، بشرطیکہ زیادہ سے زیادہ رقم ایک ارب روپے ہو

      مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی ری فنانس اسکیم میں ڈپازٹ وصول نہ کرنے والے مالی اداروں کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اب یہ اپنے ملازمین کی اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اس اسکیم کے تحت قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔

      8 مئی 2020ء کو اس اسکیم کے آغاز سے اب تک بینکوں کو کاروباری اداروں کی جانب سے تقریباً دس لاکھ ملازمین کو اجرتوں اور تنخواہوں کی فراہمی کے لیے 103 ارب روپے سے زائد کی درخواستیں بینکوں کو موصول ہوچکی ہیں، جن کے روزگار کو اس اسکیم کے ذریعے سہارا ملا ہے۔ اس رقم میں سے بینک 500 کمپنیوں، جن میں 450000 سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں، کے لیے فنانسنگ منظور بھی کرچکے ہیں۔
      وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے روزگار میں اعانت کی اسٹیٹ بینک کی نومالکاری سہولت حاصل کرنے کے ضمن میں ایس ایم ایز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بینکوں کے قرض کا رسک شیئرنگ میکانزم متعارف کرایا ہے۔
      6 مئی 2020ء کو وفاقی حکومت نے بینکوں کے لیے خطرہ قرض میں شراکت داری کی چار سالہ سہولت کے تحت 30 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نادہندہ قرضوں کے نقصانات کے بوجھ میں اشتراک کیا جاسکے۔ خطرے میں شراکت داری کے اس انتظام کے تحت وفاقی حکومت بینکوں کے تقسیم کیے گئے قرضوں میں اصل زر پر ابتدائی 40 فیصد نقصان کا بوجھ اٹھائے گی۔ اس سہولت سے بینکوں کو ترغیب ملے گی کہ وہ ضمانت کی کمی سے دوچار ایسے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹ اداروں کو قرضے فراہم کریں جن کی سیلز کا ٹرن اوور 2 ارب روپے تک ہے تاکہ وہ اسٹیٹ بینک کی نومالکاری اسکیم کے تحت مالکاری سے استفادہ کرسکیں ۔ رسک شیئرنگ کے میکانزم سے توقع ہے کہ اس اسکیم کے تحت بینکوں کو ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹ اداروں کو قرضہ دینے کی ترغیب ملے گی۔ متعلقہ فریقوں کی آرا کی بنیاد پر وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے اشتراک سے اسے وضع کیا گیا تھا۔
      بینک دولت پاکستان نے 22 اپریل 2020ء کو ری فنانس اسکیم کے تحت برطرفیاں روکنے کے لیے کارکنوں اور ملازمین کو اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کی خاطر کاروباری اداروں کے لیے مزید سہولتیں متعارف کرائی ہیں۔ چھوٹے فروخت کاروں/تقسیم کاروں کو درپیش سیکورٹی/ضمانت دینے کے مسائل حل کرنے کے لیے قرض لینے والوں کے ساتھ قدری/رسدی زنجیروں سے منسلک کمپنیوں کو کارپوریٹ ضمانتوں پر فنانسنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ مزید برآں، بینکوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے کہ وہ 5 ملین روپے تک کے صاف قرضے بلاضمانت فراہم کریں۔
      اسٹیٹ بینک نے فعال ٹیکس دہندہ کاروباری اداروں کو رعایت دیتے ہوئے ان کے لیے مارک اپ کی شرح کو 4 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک بینکوں کو صفر فیصد شرح پر ری فنانس فراہم کرے گا۔ اس طرح فعال ٹیکس دہندگان اور ٹیکس نادہندگان کی شرحوں کے درمیان فرق بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ ٹیکس نادہندگان سے 5 فیصد تک حتمی صارف مارک اپ چارج کیا جاتا ہے۔
      اسکیم کے تحت ملازمین کو براہ راست اجرتیں وصول کرنے میں سہولت دینے کے لیے بینکوں کو آجرین کی فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کی بنیاد پر کھاتے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کھاتوں کو فعال کرنے سے قبل بینک نادرا ویری سس کی توثیق یقینی بنائیں گے اور ان کھاتوں کو صرف تنخواہوں کی ادائیگی اور انہیں نکالنے کے مقصد سے استعمال کیا جائے گا۔
      کاروباری اداروں کو بھی کسی بھی بینک میں اجرتوں کے لیے اسٹیٹ بینک کی ری فنانس اسکیم کے تحت قرضے لینے کی سہولت دی گئی ہے اور وہ اپنے پے رول کا انتظام کرنے والے بینک کے علاوہ دیگر بینکوں سے بھی قرضے حاصل کر سکیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک کے تجویز کردہ آسان درخواست فارم پر فنانسنگ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اسکیم کے تحت بینک کے قرضہ جاتی اکتشاف کو فی فریق فی گروپ قرضوں کی حد سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح وہ ایسے قرض گیروں (borrowers) کو بھی قرضے دے سکیں گے جو اپنے قرضہ جاتی اکتشاف کی حدود استعمال کر چکے ہیں۔
      یہ تمام فوائد ان کاروباری اداروں کو بھی دستیاب ہوں گے جو اسکیم کے تحت اسلامی بینکاری اداروں سے فنانسنگ حاصل کر رہے ہیں۔
      سرکلر:
    http://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2020/CL7.htm
      قبل ازیں یہ اسکیم درج ذیل خصوصیات کے ساتھ متعارف کرائی گئی تھی:
      وسعت: ری فنانسنگ تمام اقسام کے کارکنوں اور مستقل، معاہداتی، یومیہ اجرت اور آوٹ سورسڈ کارکنوں جیسے ملازمین کی اجرتوں اور تنخواہوں کی فنانسنگ کے لیے دستیاب ہو گی۔ یہ اسکیم بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے موجودہ اور نئے دونوں قرض گیروں کے لیے دستیاب ہو گی۔
      اہلیت: اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والے یہ حلف اٹھائیں گے کہ وہ ماسوائے تادیبی کارروائی کے قرضے کی پہلی ادائیگی کی تاریخ سے کم از کم تین مہینے بعد تک اپنے کارکنوں/ملازمین کو ملازمت سے برطرف نہیں کریں گے۔ بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے کاروباری اداروں کو ترجیح دیں جو جاذب محنت ہوں اور کورونا وائرس کے مسئلے نے انہیں متاثر کیا ہو۔
      قرضے کی حد: کاروباری اداروں کو قرضے تین مہینوں ’’اپریل تا جون 2020ء‘‘ کی اجرتوں کی ادائیگی کے لیے دیے جائیں گے۔ تین مہینوں کے اجرتی بل کی بنیاد پر کاروباری اداروں کو تین زمروں میں رکھا گیا ہے (i) 200 ملین روپے تک (ii) 200 تا 500 ملین روپے اور (iii) 500 ملین روپے سے زائد۔ ہر زمرے میں قرضے کی حدود یہ ہوں گی (i) اجرتی بل کا 100 فیصد، زیادہ سے زیادہ 200 ملین روپے تک، (ii) اجرتی بل کا 75 فیصد، زیادہ سے زیادہ 375 ملین روپے، (iii) اجرتی بل کا 50 فیصد، زیادہ سے زیادہ 500 ملین روپے تک۔
      تقسیم: یہ قرضے قرض حاصل کرنے والوں کے کارکنوں اور ملازمین کے کھاتوں/برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹس/ موبائل والٹس میں براہ راست کریڈٹ کیے جائیں گے۔ کاروباری ادارے نقد میں بھی ادائیگیاں کر سکتے ہیں، اس شرط پر کہ وہ ایسے کارکنوں اور ملازمین کی تفصیلات اپنے بینکوں کو مہیا کر دیں۔
      شرح سود: قرض لینے والے سے 5 فیصد سالانہ کی شرح چارج کی جائے گی۔ ایسے قرض گیر جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہیں، وہ ایک فیصد زراعانت لینے کے اہل ہوں گے اور ان سے 4 فیصد شرح سود چارج کی جائے گی۔
      واپسی: قرضوں کی واپسی چھ ماہ کی رعایتی مدت کے بعد یکم جنوری 2021ء سے شروع ہو گی۔ اس رعایتی مدت میں قرض لینے والے سہ ماہی بنیادوں پر سود ادا کریں گے۔ اس قرض کی واپسی 24 مساوی اقساط یا 8 سہ ماہی اقساط میں کی جا سکتی ہے۔
      سرکلرز:
    http://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2020/C6.htm
    http://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2020/C7.htm
      عام سوالات:
    FAQs - Refinance Scheme for Payment of Wages & Salaries - 18-Apr-2020

      (اپڈیٹ: 07 اپریل 2020ء)
      وزیر اعظم کا کورونا وائرس ریلیف فنڈ 2020ء   
      یہ فنڈ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر رہنے والے افراد سے عطیات مختلف طریقوں سے جمع کرے گا۔ اس مقصد کے لیے رقوم جمع کرنے کی غرض سے نیشنل بینک آف پاکستان میں ایک الگ بینک اکائونٹ بنایا گیا ہے۔
      اس فنڈ کا انتظام ”غربت مکاؤ اور سماجی تحفظ “ڈویژن فنانس ڈویژن کی مشاورت سے چلائے گا۔
      پیمنٹ کارڈز کے ذریعے دیے گئے عطیات پر بینک سروس فیس وصول نہیں کریں گے
      ہم نے بینکوں کو ہدایات دی ہیں کہ ’ وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ ٗ کےعلاوہ صوبائی حکومتوں کے کورونا ریلیف فنڈز میں پیمنٹ کارڈز کے ذریعے دیےگئے عطیات /ادائیگیوں پر کوئی سروس فیس وصول نہ کریں بشمول انٹرچینج ری امبرسمنٹ فیس (آئی آر ایف)، مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر)، مرچنٹ آئی ڈی فیس، آن بورڈنگ فیس یا کوئی بھی دیگر فیس جس کا اطلاق ہوتا ہو۔

      (اپڈیٹ: 20 اپریل 2020ء)
      گھرانوں، کاروباری اداروں اور ری فنانس اسکیموں کے لیے ریلیف پیکیج   
      اس پیکیج کی اہم خصوصیات ذیل میں دی گئی ہیں:
      بینکوں کی قابل قرضہ رقوم کا مجموعی پول بڑھا دیا گیا ہے
      بینکوں کو اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ کاروباری اداروں اور گھرانوں کو اضافی قرضے فراہم کرسکیں اسٹیٹ بینک نے کیپٹل کنزرویشن بفر (سی سی بی) کو 2.50 فیصد کی موجودہ سطح سے کم کرکے 1.50 فیصد کردیا ہے۔ اس سہولت سے بینکوں کے پاس قابل قرضہ رقوم میں لگ بھگ 800 ارب روپے کا اضافہ ہوجائے گا ، یہ رقم ان کے موجودہ واجب الادا قرضوں کے تقریباً 10 فیصد کے مساوی ہے۔ سی سی بی کی پست سطح اسٹیٹ بینک کی اگلی ہدایات تک برقرار رہے گی۔

      ایس ایم ای اداروں کو قرضہ دینے کی ضوابطی حد میں مستقل طور پر اضافہ کر دیا گیا ہے
      خطرات سے گریز اور معاشی کساد بازاری کے ادوار میں قرضوں کی فراہمی سکڑنے سے عام طور پر ایس ایم ای ادارے ہی شدید متاثر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ بینکوں کو خردہ ایس ایم ای اداروں کو مزید قرضے فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے 125ملین روپے فی ایس ایم ای کی موجودہ ضوابطی خردہ حد کو مستقل طور پر بڑھا کر فی الفور 180 ملین روپے کردیا گیا ہے۔اس اقدام سے بینکوں کو سہولت ملے گی کہ وہ ایس ایم ا ی اداروں کو مزید قرضے فراہم کریں ، جو اس وقت تقریبا 470 ارب روپے کی سطح پر ہیں۔

      افراد کے لیے قرض گیری کی حد ایک سال بڑھا دی گئی ہے
      افراد کی بینکوں سے قرضہ لینے کی استعداد کو جو چیز محدود کرتی ہے وہ قرضے کا بوجھ برداشت کرنے کی ان کی صلاحیت ہے، جسے ان کی آمدنی کے فیصد کے لحاظ سے متعین کیا جاتا ہے اور اسے قرضے کےبوجھ کا تناسب (Debt Burden Ratio) یا ڈی بی آر کہا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے صارفی قرضوں کے لیے ڈی بی آر میں رعایت دے دی ہے اور اسے 50فیصد سے 60فیصد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے تقریبا 23لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا اور وہ ضرورت کے اس وقت میں بینکوں سے زیادہ قرض لے سکیں گے۔

      بینک قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی ملتوی کردیں گے
      بینک اور ڈی ایف آئیز قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی ایک سال کے لیے مؤخر کردیں گے۔یہ رعایت حاصل کرنے کے لیے قرض لینے والوں کو 30 جون 2020ء سے پہلے بینکوں کو تحریری درخواست دینی ہوگی۔ تاہم وہ طے شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق مارک اپ ادا کرتے رہیں گے۔ اصل رقم کی ادائیگی کا التوا قرض لینے والوں کی کریڈٹ ہسٹری پر اثرانداز نہیں ہوگا اور یہ سہولتیں کریڈٹ بیورو کے ڈیٹا میں ری اسٹرکچرنگ/ ری شیڈولنگ کے طور پر رپورٹ نہیں کی جائیں گی۔ اگلے سال کے دوران مجموعی اصل رقم تقریبا 4700 ارب روپے ہوگی۔

      قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ/ ری شیڈولنگ کے ضوابطی پیمانوں میں 31 مارچ 2021ء تک عارضی نرمی کر دی گئی ہے
      جن قرض گیروں کو اصل رقم کی ادائیگی میں ایک سال کی توسیع کے علاوہ ریلیف درکار ہے ان کے لیے اسٹیٹ بینک نے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ/ ری شیڈولنگ کےضوابطی پیمانوں میں نرمی کردی ہے۔ وہ قرضے جو ادائیگی کی مقررہ تاریخ کے 180 دن کے اندر ری اسٹرکچر/ ری شیڈول کر لیے جائیں انہیں نادہندہ شمار نہیں کیا جائے گا۔ بینکوں پر بھی لازم نہ ہوگا کہ وہ ایسے قرضوں کے عوض وصول نہ ہونے والے مارک اپ کو معطل کر دیں۔ علاوہ ازیں ”ٹریڈ بلز “کے زمرے کی میعاد بھی 180دن سے بڑھا کر 365 دن کر دی گئی ہے۔

      بینکوں کی فنانسنگ پر مارجن کال کی شرائط میں کمی کر دی گئی ہے
      حصص کی قیمتوں میں زبردست کمی کے پیشں نظر لسٹڈ شیئرز میں بینکوں کی فنانسنگ پر مارجن کال کی 30 فیصد شرط میں خاصی کمی کرتے ہوئے اسے 10 فیصد کردیا گیا ہے۔ بینکوں کو اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ قرضہ لینے والوں کو ان کے گروپ کی کمپنیوں کے حصص پر قرضہ دے سکتےہیں۔ بینکوں نے فی الوقت لسٹڈ شیئرز کے عوض 100 ارب روپے سے زائد کے قرضے دے رکھے ہیں۔

      ری فنانس اسکیموں کے تحت قرضہ لینے والوں کے لیے ریلیف پیکیج
      مختلف ری فنانس اسکیموں کے تحت قرضہ لینے والوں کو اسی قسم کی رعایتیں دے کر 3 اپریل 2020ء کو ریلیف پیکیج کا دائرہ کار وسیع کیا گیا۔ کارپوریٹ، صارفی، زرعی، ایس ایم ای اور مائیکرو فنانس شعبوں کے قرضہ لینے والے افراد اصل رقم کی ادائیگی ایک سال کے لیے موخر کر سکتے ہیں جبکہ وہ مارک اپ بدستور ادا کرتے رہیں گے۔ اگر وہ مارک اپ ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو ری اسٹرکچرنگ/ ری شیڈولنگ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

      ری فنانس اسکیمیں اور ان کے شریعہ متبادل یہ ہیں:
    • طویل مدتی فنانسنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف)
    • زرعی پیداوار کے ذخیرے کے لیے فنانسنگ سہولت (ایف ایف ایس اے پی)
    • ایس ایم ای اداروں کو جدید بنانے کی ری فنانس سہولت
    • کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی اسکیم
    • چھوٹے اداروں اور معمولی درمیانے درجے کے اداروں کی ورکنگ کیپٹل فنانسنگ کے لیے ری فنانس اسکیم
    • چھوٹے اداروں کی فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی اسکیم برائے خصوصی افراد

      (اپڈیٹ:04 مئی 2020ء)
      وائرس پر قابو پانے کے لیے شعبہ صحت کے ساتھ تعاون   
      فی اسپتال 500 ملین روپے کی اضافہ شدہ مالکاری حد
      کووڈ-19 کے خلاف مقابلے کے لیے شعبہ صحت کو استحکام دینے کے حوالے سے یکم مئی 2020ء کو اسٹیٹ بینک نے اپنی مالکاری سہولت کے تحت فی اسپتال/ طبی مرکز کی مالکاری حد 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کردی ۔ اس سہولت کے تحت اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو صفر فیصد پر مالکاری فراہم کی جارہی ہے جو اسپتالوں / طبی مراکز پر 3 فیصدسالانہ کی زیادہ سے زیادہ حد عائد کرسکتے ہیں۔ اب تک 11 اسپتالوں / طبی مراکز کے لیے 2.2 ارب روپے کی مالکاری کی منظوری دی گئی ہے جبکہ بینکوں کی جانب سے 23 اسپتالوں / میڈیکل سنٹرز کے لیے 3.6 ارب روپے کی مالکاری درخواستوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔


        قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے’کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ری فنانس سہولت‘ (آر ایف سی سی)اور اس کے شریعہ متبادل کا اعلان کیا تھا

        خطرات سے گریز اور معاشی کساد بازاری کے ادوار میں قرضوں کی فراہمی سکڑنے سے عام طور پر ایس ایم ای ادارے ہی شدید متاثر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ بینکوں کو خردہ ایس ایم ای اداروں کو مزید قرضے فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے 125ملین روپے فی ایس ایم ای کی موجودہ ضوابطی خردہ حد کو مستقل طور پر بڑھا کر فی الفور 180 ملین روپے کردیا گیا ہے۔اس اقدام سے بینکوں کو سہولت ملے گی کہ وہ ایس ایم ا ی اداروں کو مزید قرضے فراہم کریں ، جو اس وقت تقریبا 470 ارب روپے کی سطح پر ہیں۔ تاکہ اسپتالوں اور میڈیکل سینٹروں کو کورونا وائر س کا پھیلاؤ روکنے کے قابل بنانے میں مدد دی جا سکے۔اس اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک بینکوں کو ری فنانس فراہم کرے گا تاکہ وہ صارف کو زیادہ سے زیادہ 3 فیصد کی شرح پر پانچ سال کے لیے قرضہ دیں جس سے کورونا وائر س کی تشخیص، اسے محدود رکھنے اور اس کے علاج کے لیے آلات خریدے جا سکیں گے۔ اسٹیٹ بینک بینکوں کو یہ سہولت صفر فیصد پر فراہم کرے گا۔ وفاقی یا صوبائی صحت کے اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ایسے اسپتال اور میڈیکل سینٹر جو کورونا وائر س کا پھیلاؤ روکنے اور اسے ختم کرنے میں مصروف ہیں، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

        اسکیم کا مجموعی حجم 5 ارب روپے ہے، ایک اسپتال یا میڈیکل سینٹر زیادہ سے زیادہ 200 ملین روپے کا قرضہ لے سکتا ہے۔یہ اسکیم کورونا وائر س کا پھیلاؤ روکنے اور انسانوں کی اموات کم کرنے میں مدد دے گی۔ یہ ستمبر 2020ء کے اختتام تک دستیاب رہے گی۔


        طبی آلات اور دواؤں کی پیشگی ادائیگی کی اجازت
        اسٹیٹ بینک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام محکموں، سرکاری اور نجی شعبے میں اسپتالوں، فلاحی اداروں، اشیا سازوں اور کاروباری درآمدکنندگان کو کورونا وائر س کے علاج کے لیے طبی آلات اور ادویات اور دیگر ذیلی اشیا کی درآمدات کی پیشگی ادائیگی کرنے اور اوپن اکاؤنٹ پر بغیر کسی حد کے درآمدات کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ نیز بینکوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی ڈونر اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کی طرف سے عطیہ کیے گئے آلات کی درآمد کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف)کی منظوری دیں تاکہ ان اشیا کی بلا تعطل اور جلد درآمد میں سہولت دی جا سکے۔

        اسپتالوں اور میڈیکل سینٹروں کو ری فنانس سہولت کے تحت زیادہ لچک کی اجازت
        اسٹیٹ بینک نے 6اپریل 2020ء کو صحت کے شعبے کو مزید سہولت دیتے ہوئے موجودہ آلات کے عوض قرضے اور مرمت شدہ آلات کی خریداری کی اجازت دیدی تاکہ کورونا وائر س کے علاج کے لیے خصوصی مقامات/ آئسولیشن وارڈ بنائے جائیں۔ مزید برآں، الگ مقامات/ آئسولیشن مقامات کی تیاری کے لیے تعمیراتی کام کی زیادہ سے زیادہ 60 فیصد کوریج کو بڑھا کر 100 فیصد کردیا گیا ہے۔


      (اپڈیٹ:28 مئی 2020ء)
      مالی خدمات کی دستیابی اور تسلسل کو یقینی بنانا   
      اسٹیٹ بینک بینکاری صنعت کے ساتھ مستقل رابطے میں ہےتاکہ مسائل اور دشواریوں کو سمجھا جا سکے اور اسی کے مطابق پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ اسی جذبے کے تحت اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور مائیکرو فنانس بینکوں کا احاطہ کرنے والے ایک فوری نوعیت کے سروے کا انعقاد کیا۔ سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ بینکاری صنعت نے کورونا وائر س کے مضر اثرات کو محدود کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ ممکنہ بدترین حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری کے اعتبار سے بینکاری صنعت کے مختلف اداروں کے مابین فرق موجود ہے۔

      بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں /مائیکرو فنانس بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائر س کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات کریں تاکہ مالی خدمات بلاتعطل جا ری رکھی جا سکیں:
      الف۔ بینکوں/ ترقیاتی مالی اداروں /مائیکرو فنانس بینکوں کے عملے اور صارفین میں کورونا وائر س کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے، ب۔ عالمی ادارہ صحت ، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کی جاری کردہ رہنما ہدایات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملازمین کے تحفظ اور صحت اور جائے کار کی صفائی کو یقینی بنایا جائے،

      ج۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، جیسے رقم گننے والی مشینوں کے استعمال میں اضافہ، فراہمی کے متبادل ذرائع (اے ڈی سیز) استعمال کرنے کے لیے صارفین کی حوصلہ افزائی، وغیرہ تاکہ کرنسی نوٹ اور دیگر مالی آلات کو چھونے کا امکان کم سے کم ہوجائے۔ مزید یہ کہ، اے ڈی سیز (مثلاً اے ٹی ایمز، آن لائن بینکاری، کال سینٹروں وغیرہ کے ذریعے لین دین) کے ذریعے بلا رکاوٹ مالی خدمات فراہم کرنے کے لیے جامع انتظامات کرنا؛ د۔موجودہ صورتِ حال میں کاروباری تسلسل کے منصوبوں (بی سی پیز) کا ازسرِ نو جائزہ لینا اور ان کے مؤثر نفاذ کے لیے افرادی و دیگر وسائل مختص کرنے سمیت موزوں اصلاحی منصوبے تیار کرنا؛

      ہ۔ اثر کا تجزیہ کرنا تاکہ کاروبار اور آپریشنز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اور اہم خطرے والے شعبوں جیسے کریڈٹ ، سرمایہ منڈی اور زرِمبادلہ کے ایکسپوژر کے لیے نگرانی کے اقدامات کو بڑھایا جاسکے۔

      و۔ کلیدی ادائیگی و تصفیے کے نظام کے شراکت داروں ، جیسے این آئی ایف ٹی، ون لنک، این سی سی پی ایل، اور سی ڈی سی سے رابطہ رکھنا تاکہ ان کی خدمات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔
      مذکورہ ہدایات پر عمل درآمد اور دیگر ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے، بینکوں / ایم ایف بیز / ڈی ایف آئیز کو ایک سینئر سطح کی کمیٹی تشکیل دینے ہدایت کی جاتی ہے تاکہ کووڈ -19 سے پیدا ہونے والے خطرات کے ضمن میں ٹھوس اور مناسب رد عمل کو یقینی بنایا جاسکے ۔
      اے ٹی ایمز کی مسلسل دستیابی
      بینک اے ٹی ایمز کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنائیں گے اور ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے انھیں فعال رکھیں گے۔ بینکوں کے کال سینٹرز اور ہیلپ لائنز کو بھی ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے فعال رہنا چاہیے اور شکایات کا بروقت ازالہ کیا جانا چاہیے۔
      بینکاری کے اہم وظائف اور نظام دستیاب رہیں گے
      بینکاری خدمات کی فراہمی کےلیے درکار تمام ضروری وظائف اور سسٹمز بشمول ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم (آ ٹی جی ایس) لاک ڈاؤن کے دوران بھی حسبِ معمول دستیاب رہیں گے۔ بڑے پیمانے پر برانچوں کی بندش سے آپریٹو برانچوں میں بھیڑجمع ہوسکتی ہے ، جو اس بیماری کے پھیلاؤ کے خلاف کی جانے والی کوششوں کے لیے مضر ہوگا۔ تاہم، بینک ان برانچوں کو بند کرسکتے ہیں جہاں اسٹاف وائرس سے متاثر ہوجائے اور جس کے لیے ضروری انسانی وسائل دستیاب نہ ہوں۔ لاک ڈاؤن کے دوران صارفین کی برانچوں میں آمد کی بنیاد پر چند روز میں دوبارہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
      بینکوں اور اسٹیٹ بینک میں کم سے کم اسٹاف
      اسٹیٹ بینک نے 24 مارچ 2020ء سے یہ انتظام نافذ کیا ہے جس کے تحت اس کے دفاتر میں کم سے کم اسٹاف اہم وظائف کی انجام دہی کے لیے موجود ہوگا جبکہ بقیہ اسٹاف کو گھر پر رہ کر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بینک بھی اپنی برانچوں اور ہیڈ / ریجنل دفاتر میں یہ انتظامات کرسکتے ہیں۔ مزید برآں، اگر بینک اپنے صارفین کو بہتر طور پر سہولتیں فراہم کرنا چاہیں تو اپنے برانچ آپریشنز صبح دس بجے سے شروع کرسکتے ہیں۔

      بایو میٹرک توثیق (بی ایم وی) کی جگہ نادرا کے Verisys کوتصدیق کے مقصد سے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ30 جون 2020ء تک استعمال کیا جائے گا۔ تاہم، اس ٹائم لائن کے گزرجانے کے بعد ایم ایف بیز درمیانی اور معمول کی ترجیحات کے حامل صارفین کے لیے بالترتیب 31 جولائی 2020ء اور 30 ستمبر 2020ء کی ترمیم شدہ ٹائم لائن کے ساتھ دوبارہ بایو میٹرک تصدیق شروع کریں گے۔
      ایم ایف بیز کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اے ایم ایل / سی ایف ٹی ریگولیشنز برائے ایم ایف بیز کے تحت مطلوبہ ریکارڈ کی معلومات کو الیکٹرانک طور پر حاصل کرنے او ریکارڈ رکھنے کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹ کھولنے کے الیکٹرانک فارم / دیگر فارم جلد از جلد متعارف کروائیں۔
      مزید برآں، آگاہ کیا جاتا ہے کہ نادرا نے قومی شناختی کارڈوں کی یکم ستمبر 2019 کے بعد ختم ہونے والی میعاد کی تاریخ بڑھا دی ہے ، اور ان کو یکم جولائی 2020ء تک درست سمجھا جائے گا۔ ایم ایف بیز کو ہدایت دی جاتی ہےکہ وہ نادرا کی نوٹیفکیشن کے مندرجات کو تمام متعلقہ اسٹاف تک پہنچائیں۔
      چیک کلیئرنگ کو آسان اور تیز تر بنا دیا گیا
      کورونا وائرس کے پس منظر میں فرد سے فرد کے میل جول کو محدود کرنے اور صارفین کو خدمات میں آسانی فراہم کرنے کے لیے بینکوں اور ایم ایف بیز کو ڈائریکٹ چیک ڈپازٹ کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جس کے تحت وصول کنندہ کراس چیک کو اداکنندہ/وصول کنندہ بینک میں براہِ راست جمع کروا سکتا ہے، بجائے ان بینکوں کی برانچوں کے، جیسا کہ موجودہ طریقہ کار ہے۔ اس طرح سےاداکنندہ/وصول کنندہ بینکوں کی جانب سے بین البینک رقوم کی منتقلی کی فعالیت کے تحت آر ٹی جی ایس کے ذریعے رقوم کی منتقلی ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، بینک / ایم ایف بیز اپنے صارفین کی درخواست پر ان کے رجسٹرڈ ایڈریسز سے چیک اکٹھا کرنے کا انتظام بھی کرسکتے ہیں یا صارفین اپنے بینکوں کی منتخب برانچوں میں نصب ڈراپ باکسز میں اپنا چیک ڈال سکتے ہیں۔
      مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں، بینکوں کے کارپوریٹ/ ترجیحی صارفین ان کے اکاؤنٹ سے رقوم وصول کنندگان کے بینک میں منتقل کرنے کے لیے استفادہ کنندہ (beneficiary) کی متعلقہ تفصیلات کے ساتھ اسکین شدہ چیک اپنے رجسٹرڈ ای میلز کے ذریعے یا اپنے بینکوں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ تاہم ، اپنے صارفین کو یہ خدمات پیش کرتے ہوئے بینکوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں کے مطابق خطرے میں کمی کے اضافی اقدامات کا نفاذ کریں۔ بینک / ایم ایف بیز کلیئرنگ ہاؤس (این آئی ایف ٹی) اور بینکوں کے مابین متفقہ ایس او پی کے مطابق امیج بیسڈ کلیئرنگ (آئی بی سی) فعالیت کے ذریعے اپنے چیک کلیئر کرنے کے لیے این آئی ایف ٹی کے ساتھ بھی انتظامات کرسکتے ہیں۔
      مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں، بینکوں کے کارپوریٹ/ ترجیحی صارفین ان کے اکاؤنٹ سے رقوم وصول کنندگان کے بینک میں منتقل کرنے کے لیے استفادہ کنندہبینک سائبر سیکورٹی کے مزید مضبوط اقدامات اپنائیں۔ مالی اداروں کے صرف مجاز استعمال کنندگان ہی داخلی آئی ٹی وسائل تک رسائی حاصل کریں گے۔ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی سائبر سیکورٹی کی پالیسیاں جاسوسی، رکاوٹ، اور تحریف کے خطرات سے نمٹ سکتی ہیں۔
      بینکوں کو سائبر سیکورٹی واقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے مخصوص سائبر تھریٹ انٹیلی جنس یونٹ (سی ٹی آئی-یو) اور ہنگامی رسپانس ٹیمیں (ای آر ٹیز) تشکیل دینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ وہ مشکوک / کام سے متعلق موضوع ، منسلکات (اٹیچ منٹس) ، یا ہائپر لنک، بالخصوص وہ جو کووڈ-19 کے حالیہ رجحان سے متعلق ہیں، کی حامل ای میلوں کی ہینڈلنگ میں بھی احتیاط برتیں گے ۔
      ہیلپ لائن کی دستیابی اور ذاتی معلومات کے حصول کے لیے کال کرنے والے دھوکے بازوں کے لیے انتباہ
      ہم نے ان صارفین کی سہولت کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں جنھیں کورونا وائرس کی صورتِ حال کے تناظر میں غیرمعمولی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اگر انھیں بینکوں کی جانب سے مناسب جواب نہ ملے تو وہ اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن  021-111-727-273  پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
      بینک ملازمین اور صارفین کے تحفظ ، جائے کار کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت، حکومتِ پاکستان، اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے دی گئی رہنما ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔ اگر بینک ملازمین اور صارفین کو اس ضمن میں اب بھی مشکلات درپیش ہوں یا سیفٹی کے لیے کیے گئے انتظامات پر تشویش ہو تو وہ اس ای میل  [email protected]  پر میل بھیج کے ہمارے علم میں لا سکتے ہیں۔
      مزیدبرآں، عوام الناس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں دھوکے بازوں کی جانب سے کسی آنے والی کال یا میسج پر اپنے بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈز کے بارے میں اپنی ذاتی یا اکاؤنٹ کی معلومات ظاہر نہ کریں۔ ایسی کالز یا میسج کی تفصیلات سے اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن  021-111-727-273  پر آگاہ کیجیے یا  [email protected]  پر ای میل بھیجیں۔
      (اپڈیٹ:24 مارچ 2020ء)
      ڈجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا   
      عوام ، بالخصوص کاروباری اداروں کو خدمات کی فراہمی میں مالی شعبے کے اہم کردار کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مخصوص اقدامات کرکے اپنی خدمات اس طرح مؤثر طور پر فراہم کریں کہ کورونا وائرس وبا کا خطرہ کم سے کم ہو۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ بینک برانچز یا اے ٹی ایمز میں جانے کی ضرورت کم سے کم ہو اور ڈجیٹل پیمنٹ سروسز جیسے انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل فون بینکنگ وغیرہ کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔
      رقوم کی منتقلی پر چارجز ختم کردیے گئے ہیں اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین کے لیے آن لائن بینکاری ذرائع جیسے انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر (آئی بی ایف ٹی) اور اسٹیٹ بینک کے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم کے ذریعے رقوم کی منتقلی پر تمام چارجز ختم کردیں۔ اس طرح لوگ کسی لاگت کے بغیر موبائل فونز یا انٹرنیٹ بینکاری کے ذریعے رقوم منتقل کرکے بینک کی برانچ یا اے ٹی ایم جانے کی زحمت سے بچ سکتے ہیں۔ انھیں بھاری رقوم کی منتقلی کے لیے اے ٹی ایمز کے استعمال یا بینکوں کی برانچوں پر جانے کی کوئی لاگت ادا نہیں کرنا پڑے گی اور اس طرح وہ نقد کے استعمال سے بچ سکتے ہیں۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صارفین کی رقوم کی حفاظت اور سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے اپنے صارفین کو آن لائن بینکاری کے استعمال میں سہولت دیں ۔ مزید برآں، وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ صارفین کی فوری معاونت کے لیے کال سینٹر/ ہیلپ لائنز ہفتے کے سات دن میں چوبیس گھنٹے دستیاب رہیں۔
      بینک تعلیمی فیس اور قرضوں کی ادائیگیوں میں سہولت فراہم کریں گے مالی صنعت کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام کو انٹرنیٹ بینکاری یا موبائل فون آلات کے ذریعے تعلیمی فیس اور قرض کی ادائیگیوں کی فوری سہولت فراہم کی جائے۔ صارفین کو انٹرنیٹ بینکاری یا موبائل فون کا استعمال سکھانے کے لیے کرنسی نوٹوں کا استعمال محدود کرنے اور صارفین کے برانچ جانے میں کمی سے متعلق مالی ادارے مختلف ذرائع سے آگاہی کی مہم بھی چلائیں گے۔ ڈجیٹل لین دین کے ضمن میں ممکنہ فراڈ کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے مالی صنعت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈجیٹل چینلز پر کڑی نظر رکھیں اور سائبر خطرات کے حوالے سے نگرانی میں اضافہ کریں ۔
      (اپڈیٹ:24 مارچ 2020ء)
      درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے قرضوں کی شرائط میں نرمی   
      اسٹیٹ بینک بینکوں کو اس لیے ری فنانسنگ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ برآمدکنندگان کو برآمدی فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) اور طویل مدتی فنانسنگ اسکیم(ایل ٹی ایف ایف) کے تحت جاری سرمائے اور نئے منصوبوں کے لیے 3 سے 6 فیصد کی شرح سود پر قرضے دیں ۔ ان اسکیموں کے تحت برآمد کنندگان کے ذمے واجب الادا قرضوں کا کُل حجم تقریبا 660 ارب روپے ہے۔ کورونا وائرس (Convid-19) کی عالمی وبا کے باعث پاکستانی تاجروں کو بیرونی منڈیوں میں طلب کی کمی اور موجودہ آرڈز کی تکمیل کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں برآمد کنندگان کو سہارا دینے اور اس امکان سے بچنے کے لیے کہ سیالیت کے حوالے سے ان کے موجودہ مسائل ادائیگی قرض کی ان کی صلاحیت کو متاثرنہ کریں، اسٹیٹ بینک نے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
      مالکاری سے دگنے برآمدی حجم کی شرط میں نرمی
      برآمدی فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت سستے قرضوں کا حصول برآمدی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ فی الوقت برآمد کنندگان پر یہ لازم ہے کہ وہ قرضے کی رقوم سے دگنی برآمدات کریں۔ یہ شرط پوری نہ ہونے کی بنا پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، اور اسی طرح آئندہ برس کے لیے قرضوں کی حد بھی کم کردی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اس شرط میں نرمی کرتے ہوئے اسے دگنے سے بڑھا ڈیڑھ گنا کردیا ہے، اور یہ تناسب موجودہ اور مالی سال21ء کے لیے نافذالعمل رہے گا۔
      کارکردگی کی شرائط پوری کرنے کے لیے مقررہ مدت میں توسیع
      برآمدی فنانسنگ اسکیموں (ای ایف ایس) کے تحت برآمدکنندگان پر یہ لازم تھا کہ وہ آخرجون 2020ء تک کارکردگی ظاہر کریں۔ اس مدت کو چھ ماہ توسیع دے کر دسمبر 2020ء کردیا گیا ہے۔ چونکہ یہ اضافی مدت نئی حدود کے تعین کے وقت شمار کی جائیگی، اس لیے برآمد کنندگان کو مالی سال21ء کے لیے قرضوں کی بلند مقدار حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
      اشیا کی روانگی کی مدت میں توسیع
      برآمدی فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت سستے قرضوں کے حصول کے لیے برآمدکنندگان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ قرض حاصل کرنے کے چھ ماہ کے اندر اپنی اشیا روانہ کردیں۔ ناکامی کی صورت میں جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ اب اس مدت کو چھ ماہ سے بڑھاکر ایک سال کردیا گیا ہے۔ چنانچہ جنوری سے جون کے دوران یہ شرط پوری نہ ہونے کی بنا پر برآمد کنندگان کو جرمانےادا نہیں کرنے پڑیں گے۔
      طویل مدتی فنانسنگ سہولت کی شرائط میں نرمی
      طویل مدتی فنانسنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف) کے تحت قرضوں کے حصول کا اہل بننے کے لیے برآمد کنندگان پر لازم ہے کہ ان کی مجموعی فروخت کا 50 فیصد حصہ برآمدات پر مبنی ہو، یا اس کا حجم 5 ملین ڈالر ہو۔ یکم جنوری 2020ء تا 30 ستمبر 2020ء کے دوران اس حد کو کم کرکے مجموعی فروخت کا 40 فیصد یا کل برآمدی حجم کا 4 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ مزید برآں نئے منصوبوں یا توازن، جدت طرازی اور تبدیلی (بی ایم آر)سے متعلق منصوبوں کے لیے ایل ٹی ایف ایف سے استفادہ کرنے کی خاطر چار برسوں کے سالانہ برآمدی تخمینے کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا، جسے بڑھاکر پانچ برس کردیا گیا ہے۔ اس طرح برآمدی کارکردگی کا تخمینہ اب پانچ سال کا لگایا جائے گا۔
      برآمدی آمدنی کا حصول
      زرمبادلہ کے حوالے سے برآمد کنندگان کو ایک اور سہولت فراہم کردی گئی ہے۔ برآمد کنندگان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کی برآمدی آمدنی کے حصول کی مدت 180 ایام سے بڑھاکر 270 ایام تک کرنے کی اجازت دیدی ہے، اس کا اطلاق ان کیسوں پر ہوگا جن میں تاخیر کی وجہ کورونا وائرس(Convid-19) ہو۔ اس اقدام سے برآمد کنندگان کو اپنے خریداروں سے ادائیگی حاصل کرنے کے لیے اضافی وقت مل جائے گا۔ اسی طرح درآمد کنندگان کو سہولت دینے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں اشیا کی درآمدات کے لیے پیشگی ادائیگی کی مدت 120 ایام سے بڑھاکر 210 ایام کردی ہے۔
      برآمد کنندگان براہ راست شپنگ دستاویزات ارسال کرسکتے ہیں
      اسٹیٹ بینک نے برآمد کنندگان کو یہ اجازت دیدی ہے کہ وہ اپنے غیرملکی خریداروں کو اپنی برآمدات کی شپنگ دستاویزات براہ راست ارسال کرسکتے ہیں، جس کی مالیت کی کوئی حد نہیں، تاہم ان پر یہ شرط لاگو ہوگی کہ برآمدکنندہ کی بیش میعاد (over-dues) واجب الادا رقم ایک فیصد سے کم ہو، اور پچھلے تین برسوں میں اس کا برآمدی حجم کم ازکم پانچ ملین ڈالر ہو۔ قبل ازیں برآمد کنندگان صرف ایک لاکھ ڈالر یا دیگر کرنسیوں میں مساوی مالیت کی برآمدی سامان کی ترسیلات کے لیے اپنے غیرملکی خریداروں کو براہ راست شپنگ دستاویزات ارسال کرسکتے تھے۔ یہ حد 2017ء میں عائد کی گئی تھی۔
      درآمدات کی پیشگی ادائیگی کی حد میں اضافہ
      اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک نے فی انوائس اُس پیشگی ادائیگی کی حد 10 ہزار ڈالر، یا دیگر کرنسیوں میں مساوی مالیت ،سے بڑھاکر 25 ہزار ڈالر کردی، جس کے تحت بینک اشیاساز، صنعتی اداروں اور کمرشل درآمد کنندگان کی طرف سے خام مال، پُرزوں اور مشینری درآمد کرنے کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔

      یہ اقدامات کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور برآمدی نمو کو فروغ دینے کی کوششوں کے پس منظر میں برآمدات سے متعلق صنعتوں اور اشیاساز اداروں کو سہولت دینے کے سلسلے کی کڑی ہیں، جس سے ملک کی اقتصادی صورتِ حال مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
      یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جنوری 2020ء میں اسٹیٹ بینک نے برآمدات سے متعلق صنعتوں اور اشیاساز اداروں کو سہولت دینے کے لیے مخصوص اقدامات کیے تھے، جو درج ذیل ہیں:

      1۔ کمرشل درآمد کنندگان کے لیے خام مال، پُرزوں، مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ اشیاساز اور صنعتی اداروں کی درآمدات کے لیے فی انوائس پیشگی ادائیگی کی حد 10 ہزار ڈالر، یا اس کے مساوی مالیت کی دیگر کرنسی، سے بڑھانا۔

      2۔ ناقابل تنسیخ لیٹر آف کریڈٹ کے عوض، اس کی 100 فیصد مالیت کے مساوی، اشیاسازاداروں کی جگہ مجاز ڈیلرز کو درآمدات کی پیشگی ادائیگی کی اجازت دینا، تاکہ ان اداروں کے محض اپنے استعمال کی غرض سے مشینری، پُرزے اور خام مال درآمد کیے جاسکیں۔

      3۔ اشیاساز اور صنعتی اداروں کو اوپن اکاؤنٹ کی بنیاد پر کمرشل اداروں سے بھی خام مال اور پُرزے درآمد کرنے کی پہلے سے موجود سہولت کو توسیع دینا۔
      (اپڈیٹ:24 مارچ 2020ء)
      نئی سرمایہ کار ی کے لیے سہولتوں کی فراہمی   
      اسٹیٹ بینک نے اپنی عارضی اقتصادی ریلیف کی سہولت (ٹی ای آر ایف) کے تحت بی ایم آر اور روسیع کے لیے فنانسنگ کی اجازت دے دی
      معیشت پر کووڈ -19 کے اثرات کے تناظر میں معیشت کو تحریک فراہم کرنے ، مینوفیکچرنگ/ پیداواری یونٹوں کی جدت کاری یا توسیع کے لیے ، اور ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ، اور متعلقہ فریقوں کے فیڈبیک کے جواب میں اسٹیٹ بینک نے 8 مئی 2020ء کو یہ اقدام کیا۔
      موجودہ منصوبوں کی بی ایم آر اور توسیع کی اجازت دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے نئے درآمد شدہ اور ملک میں بننے والے پلانٹ اور مشینری کی خریداری کے لیے فارن ایل سی اور ان لینڈ ایل کے عوض فنانسنگ کی اجازت دے دی ہے۔ اس سہولت کے تحت ملنے والی رقم کو پرانی مشینری کی خریداری ، زمین کے حصول یا تعمیراتی کاموں پر استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ مزید برآں، ان فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے اضافی اندرونی و بیرونی چیکس اور کنٹرولز بھی متعارف کروائے ہیں۔
      قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے اشیاسازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے'عارضی اقتصادی نومالکاری سہولت'(ٹی ای آر ایف) اور اس کے شریعت سے ہم آہنگ متبادل کا اعلان کیا۔ اس اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک بینکوں کو نومالکاری فراہم کرے گا، جو نئے صنعتی یونٹس کے قیام کی خاطر زیادہ سے زیادہ 7 فیصد کی شرح سے صارفین کو 10 سال کے لیے قرضے دیں گے۔ اسکیم کا کُل حجم 100 ارب روپے جبکہ قرض کی زیادہ سے زیادہ حد 5 ارب روپے ہے۔ تمام اشیاساز صنعتیں یہ قرضے حاصل کرسکتی ہیں، ماسوائے شعبہ توانائی کے، کیونکہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے اسٹیٹ بینک کی نومالکاری سہولت پہلے ہی موجودہے۔

      اسٹیٹ بینک کی دیگر نومالکاری اسکیموں میں خطرۂ قرض بینکوں کے ذمے ہوگا، اور قرضوں کی فراہمی کے منصوبوں کا انتخاب بھی یہ خود کریں گے۔ اس اسکیم سے اُن نئے منصوبوں کے قیام میں ممکنہ تاخیر سے بچنے میں مدد ملے گی، جن کی منصوبہ بندی سرمایہ کار کورونا وائرس کی وبا سے پہلے کررہے تھے۔ یہ صرف ایک برس کے لیے دستیاب ہوگی اور لیٹر آف کریڈٹ آخر مارچ 2021ء تک کھلنے سے مشروط ہے۔
      (اپڈیٹ:24 مارچ 2020ء)
      بینکوں کی جانب سے جراثیم سے پاک کرنسی نوٹوں کی فراہمی   
      بینکوں کے لیے سالم، مستند اور جراثیم سے پاک نقدی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے صاف اور جراثیم سے پاک کرنسی نوٹوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ ہدایات جاری کردی ہیں کہ اسپتالوں اور کلینکس سے وصول پانے والی تمام نقدی کو سربمہر اور قرنطینہ کردیا جائے اور اس نقدی کو مارکیٹ میں جانے سے روکا جائے۔ تمام بینک اسپتالوں سے موصول شدہ نقدی کی رپورٹ اسٹیٹ بینک کو روزانہ دیں گے، مذکورہ نقدی کو قرنطینہ کردیا جائے گا جس کی مساوی رقم بینکوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی۔ مزید برآں، بینکوں کونئی اور جراثیم سے پاک نقدی کی خاطرخواہ فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں، جس سے انہیں اپنے صارفین کو نئے کرنسی نوٹ یا وہ نقدی فراہم کرنے کا موقع ملے گا جسے کم از کم 15 یوم تک قرنطینہ کیا جا چکا ہو۔ بینکوں کو یقین دہانی کرادی گئی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس ایسی نقدی کا خاطرخواہ ذخیرہ موجود ہے اوراس سلسلے میں ساری طلب پوری کی جائے گی۔ یا۔
      (اپڈیٹ:24 مارچ 2020ء)
      درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع   
      یکم مارچ 2020ء ، 8 مارچ 2020ء ، 15 مارچ 2020ء اور 22 مارچ 2020ء کو مشتہر کی گئی اسامیوں کے لیے درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے۔ دیگر شرائط و ضوابط لاگو رہیں گے۔