•  
    SBP Policy Rate
    13.25% p.a.
     
    SBP Overnight
    Reverse
    Repo (Ceiling) Rate
    13.75% p.a.
     
    SBP Overnight
    Repo (Floor) Rate
    11.75% p.a.
  •  
    Overnight Weighted Average Repo Rate
    As on 10-Dec-19
    12.78% p.a.
     
    KIBOR
    As on 11-Dec-19
    Tenor BID OFFER
    3-M 13.28 13.53
    6-M 13.25 13.50
    12-M 12.91 13.41
         
     

  • MTBs
    Tenor Rates
    3-M 13.5391%
    6-M 13.2899%
    12-M 13.1400%
    (as on Dec 04, 2019)

    PIBs (Fixed Rate)

    Tenor Rates
    3-Y 11.7999%
    5-Y 11.4500%
    10-Y 11.3500
    20-Y Bids rejected
    (as on Nov 13, 2019)

    PIBs (Floating Rate)

    Tenor Cut-off Price*
    10-Y 101.7734

    (as on Nov 13, 2019)

    *Over benchmark rate.

    rate of latest 6-M W.A

    MTB Rate
    (as on Oct 30, 2019)


  • MTB Auction
    18-December-19

    PIB Auction
    08-January-19
    As on 29-Nov-19
    SBP’s Reserves
    9,112.9
    Bank’s Reserves
    6,880.3
    Total Reserves
    15,993.2

  •  
    USD/PKR Rates
    As on 11-Dec-19
     
    M2M
    Revaluation Rate
    155.9836
     
    Weighted
    Average Rate
    Bid: 154.7493
    Offer: 155.1238
       
     
 
 
 
 
  بینک دولت پاکستان لائبریری 

اس کے وسائل اور خدمات کا تعارف

 
اہم ڈاؤن لوڈز
(آرکائیو) (ستمبر2017ء) نئی کتب کی آمد کا خبرنامہ 
(آرکائیو) (ستمبر2017ء) حالیہ مندرجات کا خبرنامہ 
    لائبریری کے قواعد 
    رکنیت کےفارم 
اسٹیٹ بینک کے حاضر/ریٹائرڈ ملازمین کے لیے    
بیرونی افراد کے لیے   
اسٹیٹ بینک آف پاکستان لائبریری کا قیام 1949ء میں کراچی میں اسٹیٹ بینک کے اہلکاروں کی معلوماتی و تحقیقی ضروریات پوری کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اسے آئی آئی چندریگر روڈ (سابقہ میکلوڈ روڈ) اور ایم آر کیانی روڈ کے سنگم پر واقع شاہین کمپلیکس کے بالمقابل پرانے وکٹورین طرز کی اسٹیٹ بینک آف پاکستان بلڈنگ (موجودہ سپریم کورٹ رجسٹری آفس) میں قائم کیا گیا تھا۔ 1961ء میں آئی آئی چندریگر روڈ پر اسٹیٹ بینک کی نئی عمارت کے افتتاح کے بعد لائبریری کو اس کی پانچویں منزل پر منتقل کر دیا گیا جو یہاں پر 1995ء تک رہی پھر جگہ کی تنگی کی وجہ سے اسے ملحقہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا تھا جو امپیریل ریزرو بینک آف انڈیا کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ 22 نومبر 2005ء میں لائبریری کی تیسری بار منتقلی بینک کی انیکسی بلڈنگ میں ہوئی جس کی تعمیر و مرمت لرننگ ریسورس سینٹر (ایل آر سی) کے قیام کے مقصد سے کی گئی تھی۔ ایل آر سی کا گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل لائبریری کے زیر استعمال ہے۔

انتظامی ساخت
 اپنے آغاز سے لائبریری انتظامی طور پر شعبہ تحقیق سے منسلک رہی ہے۔ تاہم، 2005ء میں اسٹیٹ بینک میں تشکیل نو اور بزنس پروسیس کی ری انجینئرنگ کے نتیجے میں اسے کارپوریٹ سروسز ڈپارٹمنٹ (سی ایس ڈی) کے تحت کر دیا گیا۔ چند ماہ بعد یہ شعبہ تربیت و ترقی (ٹی ڈی ڈی) کا ایک ڈویژن بن گیا۔ بعد ازاں ،28 اگست 2008ء کو لائبریری ایک علیحدہ شعبہ بن گیا اور اسے اقتصادی مشیر اعلیٰ کی براہ راست نگرانی میں زری پالیسی گروپ میں شامل کر دیا گیا۔
لائبریری کے سربراہ کی حیثیت سےچیف لائبریرین اس کے تمام آپریشنل و انتظامی امور کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اقتصادیٰ مشیر اعلیٰ کی سربراہی میں اسٹیٹ بینک کے بنیادی بزنس و فرائض کے نمائندہ 5 ارکان پر مشتمل ایک لائبریری کمیٹی کے مینڈیٹ کو ذیل میں دیا گیا ہے:

٭ لائبریری میں پڑھنے کے مواد کا انتخاب اور منظوری بشمول کتب جرائد، اخبارات، رپورٹس، الیکٹرانک ڈیٹا بیسز اور سمعی و بصری وسائل۔
٭ اجزا کے اخراج کی نگرانی یعنی پرانی ، نقول، پرانے، خستہ اجزاء کو لائبریری سے ہٹانا۔
٭ جب ضروری ہو رکنیت سازی، قارئین کی خدمات، جرمانوں کے نفاذ، قرض لینے کی حدود، گم کتابوں کی لاگت کے متبادل کی بازیابی، ذخیرہ لینا وغیرہ، ، کے متعلق لائبریری کی پالیسیاں اور پروسیسز تشکیل دینا ؛اور
٭ ماحول، سہولتوں، وسائل وغیرہ کے لحاظ سے اسٹیٹ بینک کی لائبریری کے مؤثر کام کرنے کے لیے عمومی ہدایات فراہم کرنا، وغیرہ۔

لائبریری ان یونٹوں پر مشتمل ہے:
الف۔ تکنیکی خدمات کایونٹ: خریداری اور تکنیکی پروسیسنگ (جیسے اندراجات، درجہ بندی، فہرست سازی،انڈیکس کرنا، لائبریری انفارمیشن و مینجمنٹ سسٹم کے ریکارڈز میں ہولڈنگز شامل کرنا، بار کوڈنگ اور لیبلنگ وغیرہ)۔
ب۔ قارئین کی خدمات کا یونٹ: یہ رکنیت اور اجرا کے مسائل سے نمٹتا ہے۔ استعمال کنندگان کے لیے ہدایات و رہنمائی جاری کرتا ہے کہ کس طرح لائبریری کو استعمال کیا جائے۔ الیکٹرانک وسائل کی سبسکرپشن کا انتظام کرتا ہے اور پورے بینک کی رسائی کو یقینی بناتا ہے۔
ج۔ سپورٹ سروسز یونٹ: یہ سالانہ بزنس پلان تشکیل دیتا ہے،پیش رفت کے اہم اقدامات پر ماہانہ و سہ ماہی پیش رفت کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ سالانہ بجٹ اور بجٹ مقداری تغیر رپورٹس تیار کرتا ہے،لائبریری اہلکاروں کی چھٹیوں کے کھاتے کا حساب رکھتا ہے،مراسلوں،
میمو اور سرکلرز کی وصولی اور روانگی کا انتظام کرتاہے ؛ ادائیگی رجسٹر اور تمام انوائسز، منظوریوں اور متعلقہ دستاویزات کی مناسب فائلنگ کرتا ہے، اسٹیشنری کا حصول، مستقل پیشگی کھاتے (imprest account) کا انتظام کرتا ہے اور لائبریری کے دیگر تمام یونٹوں کو انتظامی اعانت فراہم کرتا ہے۔

وسائل
گذشتہ برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک کی لائبریری میں توسیع کے باعث اس کا شمار پاکستان کی چند بڑی لائبریریوں میں ہونے لگا ہے۔ اس کی کتب کے بنیادی ذخائر میں معاشیات، بینکاری، مالیات، کاروباری انتظام وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم، ذیلی مضامین جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی، شماریات، قانون و مینجمنٹ کے ساتھ عام دلچسپی کے مضامین جیسے فلسفہ، مذہب، سیاست، ادب اور تاریخ وغیرہ پر مواد کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ شائع شدہ کتب اور میعادی ذخیرئہ کتب کے علاوہ لائبریری سی ڈی رومز، ڈی و ی ڈی رومز پر مشتمل ڈجیٹل وسائل، ای کتب و جرائد کے آن لائن کتابیاتی یا مکمل متن کے ڈیٹا بیسز، اور بعض شماریاتی ڈیٹا کے وسائل کی رکنیت بھی لے رکھی ہے۔ لائبریری کی تحویل میں موجود ذخائر کے خلاصے کو ذیل میں دیا گیا ہے:

    اجزا ء کی تعداد زمرہ
88,556     یک موضوعی رسائل/کتب
       
100 سبسکرائبڈ غیر ملکی رسائل و جرائد
44 اعزازی  
33 سبسکرائبڈ مقامی  
40 اعزازی    
      سالانہ رپورٹس
       
 70   مرکزی بینک  
43   کمرشل بینک  
504   کمپنیاں  
    مقامی اخبارات
10 انگلش    
5 سندھی    
18 اردو    
02   غیر ملکی  

140

  سی ڈیز /ڈی وی ڈیز پر آڈیوز/ ویڈیوز الیکٹرانک وسائل
506   سی ڈیز /ڈی وی ڈیز کے ساتھ کتب  
05   سی ڈی روم ڈیٹا بیسز  
07 ای بک ڈیٹا بیسز آن لائن وسائل  
11 ای جرنل ڈیٹا بیسز    
61 مطبوعہ + آن لائن رسائل کی سبسکرپشن    
5 شماریاتی ڈیٹا بیسز    
3 دیگر    


وسائل کے ہر زمرے کی مختصر تفصیل کو ذیل میں دیا گیا ہے:
الف) شائع شدہ یک موضوعی رسائل / کتب: یک موضوعی رسائل (مونوگرافس) کا ذخیرہ کتابوں اور رپورٹس کی 88,500 جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1۔ ریفرنس سیکشن: گراؤنڈ فلور پر واقع اس سیکشن میں مختلف اقسام کے نقشوں کی کتب،لغات، انسائیکلوپیڈیاز، کون کورڈینسز (کور کورڈنس)، ایئربکس، شماریاتی کتابچے اور مینوئلز وغیرہ رکھے گئے ہیں۔ ریفرنس کتابیں جاری نہیں کی جاتیں اور ان سے صرف لائبریری میں رہتے ہوئے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ لائبریری میں دستیاب بعض معروف ریفرنس کتب کو ذیل میں دیا گیا ہے:

٭جنرل انسائیکلو پیڈیاز جیسے انسائیکلو پیڈیا امریکانا،انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا، کولیئرز انسائیکلو پیڈیا، ایوری مینز انسائیکلو پیڈیا، نیو یونی ورسل انسائیکلو پیڈیا، آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیاز، دی ورلڈ بک انسائیکلو پیڈیاز وغیرہ۔ ٭موضوعاتی انسائیکلو پیڈیاز جیسے امریکن ایجوکیٹر، ای جے برل فرسٹ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام، انسائیکلو پیڈیا آف اکاؤنٹنگ، انسائیکلو پیڈیا آف ایشین ہسٹری،انسائیکلو پیڈیا آف کیمیکل ٹیکنالوجی، انسائیکلو پیڈیا آف کمپیوٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، انسائیکلو پیڈیا آف اکنامک ڈویلپمنٹ، انسائیکلو پیڈیا آف ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ،انسائیکلو پیڈیا آف اسلام، انسائیکلو پیڈیا آف میجمنٹ فار 21 سٹ سنچری، انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی، انسائیکلو پیڈیا آف ریلی جنز، انسائیکلو پیڈیا آف سیراۃ، انسائیکلو پیڈیا آف دی ماڈرن اسلامک ورلڈ، انسائیکلو پیڈیا آف ورلڈ آرٹس، انسائیکلو پیڈیا آف قران، انٹرنیشنل انسائیکلو پیڈیا آف لیبر لاز اینڈ انڈسٹریل ریلیشنز، انٹرنیشنل انسائیکلو پیڈیا آف سوشل سائنسز، انٹرنیشنل انسائیکلو پیڈیا آف اسٹیٹس اسٹکس، میک ملن انسائیکلو پیڈیا آف کمپیوٹرز، میک گرا ہل انسائیکلو پیڈیا ز آف بینکنگ، اکنامکس، مینجمنٹ اینڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وغیرہ۔
٭ ممتاز لسانی ڈکشنریز جیسے آکسفرڈ، ویبسٹر، چیمبرز، بی بی سی، فیروز سنز، مقتدرہ قومی زبان ،وغیرہ۔
٭ اقتصادیات، بینکاری، اکاؤنٹنگ، فنانس، مینجمنٹ، کامرس، آئی ٹی اور دیگر موضوعات پر مختلف ناشرین کی شائع کردہ موضوعی لغات وانسائیکلو پیڈیا ز۔
٭ سوانحی وسائل جیسے انٹرنیشنل ہو از ہو 1950 تا 2010ء،میک گرا ہل انسائیکلو پیڈیا آف ورلڈبایو گرافی، ڈکشنری آف نیشنل جیوگرافی وغیرہ۔ ٭ بینکرالمانک 2008ء
٭ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ (1990ء تا 2014ء)
٭ ورلڈ آف لرننگ (1948ء تا 2010ء) ٭یورپا ورلڈ ایئربک (1964ء تا 2009ء)
٭اسٹیٹس مینز ایئربک (1975ء تا 2010ء)
٭ ٹائم المانکس 2009ء
٭ ورلڈ المانک اینڈ بک آف فیکٹس 2012ء
٭ مسلم ورلڈ المانک 2008ء
٭ایجوکیشنل گائیڈ آف پاکستان (2000ء تا 2005ء)
٭پاکستان المانکس (-012000ء تا 2006-07ء)
٭ پاکستان ایئربک (1971ء تا1994-95ء)
٭ معرف مقامی و غیر ملکی ناشرین کی شائع کردہ بعض اٹلسز
٭ دی نیویارک ٹائمز المانک 2011ء ٭پاکستان انرجی ایئربک 1978ء-2012ء

2۔ حکومتی مطبوعات کا سیکشن: وفاقی حکومت کی مختلف ایجنسیوں کی جاری کردہ ، میعادی یا اتفاقی، رپورٹس کو گراؤنڈ فلور پر الگ سیکشن میں رکھا گیا ہے جسے حکومتی مطبوعات کا نام دیا گیا ہے۔ ان وسائل میں ملک کے مختلف سماجی و معاشی پہلوؤں پر بنیادی و سرکاری ڈیٹا دستیاب ہے جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے محققین، ماہرین شماریات اور ایگزیکٹوز کے ساتھ ساتھ بینکار، یونی ورسٹی طلبہ، صحافی اور فری لانسرزاپنے ریفرنس و تحقیقی کام کے ضمن میں ان سے جامع انداز میں استفادہ کرتے ہیں۔ لائبریری میں ذیل میں دی گئی معروف حکومتی مطبوعات کی مکمل آرکائیو موجود ہے جو منصوبہ بندی کمیشن، وزارت خزانہ، پاکستان دفتر شماریات، وزارت خوراک و زراعت و گلہ بانی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت صنعت وغیرہ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
ایکٹس اینڈ آرڈیننسز (1948 ء تا 1984ء)
پاکستان کی زرعی شماریات (-521951ء تا -122011ء)
سالانہ ترقیاتی پروگرام (1961ء تا 1977ء)
سالانہ اسٹیبلشمنٹ انکوائری (-741973ء تا -901989ء)
سالانہ منصوبہ جات (-661965ء تا -122011ء)
سرکاری شعبے کی صنعتوں پر سالانہ رپورٹ (-851984ء تا 2001-2002ء)
زراعت، زرعی مشینری اور گلہ بانی شماری (1960ء، 1972، 1980ء، 1990ء، 1994ء، 2000ء اور 2006ء)۔
سینسس آف اسٹیبلش منٹس پاکستان 1988ء
سینسس آف مینوفیکچرنگ انڈسٹریز (1954ء تا -062005ء)
سینسس آف مائننگ انڈسٹریز (1969ء تا-052004ء)
انکوائری آن لیبر ویلفیئر (1971ء تا 1990ء)
ایف بی آر ایئربک (سابقہ سی بی آر ایئربک) 1986-87ء تا 2009-10ء فرٹیلائزر ریویو (-901989ء تا -122011ء)
پانچ سالہ پلان بشمول ان کے جائزے او رایولیوایشن رپورٹس (1955-60ء،
1960-65ء، 1965-70ء، 1970-75ء،
1978-83ء، 1983-88ء، 1988-93ء،
1993-98ء اور 1998-2000ء، 2010-2015ء)
گورنمنٹ اسپانسرڈ کارپوریشنز (1958ء تا 1990ء)
لیبر فورس سرویز (1970-71ء تا -112010ء)
نیشنل اکاؤنٹس آف پاکستان (1969ء تا -062005ء)
پاکستان بیسک فیکٹس (1949ء تا 1985ء)
پاکستان ٹیرف کسٹم (1985ء تا 2011-2012ء)
پاکستان ڈیموگرافک سروے (1984ء تا 2007ء)
پاکستان اکنامک سروے (1948ء تا -132012ء)
پاکستان انرجی ایئربک (1983ء تا 2012ء)
پاکستان انشورنس ایئربک (1948ء تا -082007ء)
پاکستان رورل کریڈٹ سروے 1985ء پاکستان اسٹیٹسٹکل ایئر بک (1947ء تا 2012ء)
پرفارمنس ایوالیوایشن آف پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (1999-2003ء)
پاپولیشن اینڈ ہاؤسنگ سینس رپورٹس (1951ء، 1961ء، 1971ء، 1981ء اور 1998ء)
پاپولیشن گروتھ سرویز (1968ء تا 1979ء)
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز (1970-71ء تا 2013-2014ء)
چند سماجی و معاشی رجحانات (1980ء تا 1986ء)
اسٹےٹکس ریلیٹنگ ٹو شیئر کیپٹل آف جوائنٹ اسٹاک کمپنیز رجسٹرڈ ان پاکستان (1956ء تا 1968ء)
دی پاکستان کوڈ۔ 19جلدیں (پرانے اور نظرثانی شدہ دونوں ایڈیشنز)
اسٹودیری رولز، آرڈرز میڈ انڈر سینٹرل انیکٹ منٹ (2 جلدیں)
ان ری پیلڈ سینٹرل ایکٹس (11 جلدیں)

تمام حکومتی دستایزات کو عام طور پر صرف حوالہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، چیف لائبریرین شعبہ تحقیق و شماریات سے تعلق رکھنے والے عملے کو ان کے دفتری معاملات میں استعمال کی خاطر محدود مدت کے لیے جاری کر سکتے ہیں۔

3 ۔بینک دولت پاکستان مطبوعاتی سیکشن: اسٹیٹ بینک کی مطبوعات کے لیے گراؤنڈ فلور پر ایک الگ سیکشن بنایا گیا ہے جہاں 1948ء سے لے کر اب تک بینک دولت پاکستان کی جاری کردہ تمام مطبوعات رکھی گئی ہیں۔

4۔ نادر کتب کا سیکشن: اس سیکشن میں 900 سے زائد کتب رکھی گئی ہیں جسے نادر (ریئر) کا نام ان کی بمشکل دستیابی اور پرانی آرکائیو قدر کے باعث دیا گیا ہے۔اس سیکشن کی سب سے پرانی کتاب’’A history of military transactions of the British nation in Indostan from the year MDCCXLV (2 Vols.), published in 1773 ‘‘ہے۔
5۔ آئی ایم ایف مطبوعاتی سیکشن: یہ سیکشن گراؤنڈ فلور پر واقع ہے اورا س میں آئی ایم ایف کی مطبوعات رکھی گئی ہیں۔ بعض باقاعدگی سے جاری ہونے والی مطبوعاتی سیریز کو ذیل میں دیا گیا ہے:

بیلنس آف پے منٹس اسٹیٹکس( 1947ء تا 2008ء)
ڈائریکشن آف ٹریڈ ا اسٹیٹکس(1981ء تا 2008ء)
گلوبل فنانشیل اسٹے بلٹی رپورٹ (2002ء تا 2013ء)
گورنمنٹ فنانس اسٹیٹکس (1977ء تا 2008ء)
انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹس (1986ء تا 1998ء)
انٹرنیشنل فنانشیل اسٹیٹکس (1979ء تا 2008ء)
ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (1980ء تا 2013ء)

6۔ عالمی بینک مطبوعاتی سیکشن : عالمی بینک کی مطبوعات بھی گراؤنڈ فلور پر ایک الگ سیکشن میں رکھی گئی ہیں۔ عالمی بینک کے بعض معروف یک موضوعی رسائل کی سیریز کو ذیل میں دیا گیا ہے:

ڈوئنگ بزنس (2004ء تا 2014ء) فنانشیل پرفارمنس اینڈ ساؤنڈ نیس انڈیکیٹرز آف ساؤتھ ایشیا (-052004ء) گلوبل اکنامک پراسپیکٹس (1991ء تا 2010ء)
گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ (2005ء تا 2012ء) انٹرنیشل ڈیبٹ اسٹیٹکس (سابقہ گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس/ورلڈ ڈیبٹ ٹیبلز) 1975ء تا 2013ء
انٹرنیشنل فنانشیل رپورٹنگ
اسٹینڈرڈز (2005ء تا 2012ء)
ورلڈ ڈویلپمنٹ انڈیکیٹرز (1997ء تا 2013ء)
ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ (1978ء تا 2014ء)

7۔ یواین پبلی کیشنز سیکشن: یو این پبلی کیشنز سیکشن میں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور اس کے دیگر ادارے جن میں یواین سی ٹی اے ڈی، ڈبلیو ٹی او، ای ایس سی اے پی، ایف اے او، ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ کی تحقیقی رپورٹس رکھی گئی ہیں۔ اس سیکشن میں جن رپورٹس سے زیادہ استفادہ کیا جاتا ہے، انہیں ذیل میں دیا گیا ہے:

ڈیموگرافک ایئربک (1948ء تا 2003ء) اکنامک اینڈ سوشل سروے آف ایشیا اینڈ دی پیسفک (1976ء تا 2011ء) اکنامک سروے آف یورپ (1948ء تا 1995ء)
فارن ٹریڈ اسٹیٹکس آف ایشیا اینڈ دی پیسفک (1971ء تا 1994-1998ء) گلوبل کمپی ٹیٹو نیس رپورٹ (1999ء تا -082007ء)
گلوبل انفارمیشن ٹیکنالوجی رپورٹ (-042003ء تا -092008ء) گلوبل اسٹاک مارکیٹس فیکٹ بک (2003ء
تا 2012ء) سابقہ ایمرجنگ اسٹاک مارکیٹس فیکٹ بک (1991ء تا 2002ء) ہینڈ بک آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹیٹکس (1976ء تا 1996/97ء)
ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (1992ء تا 2013ء)
انٹرنیشنل ٹریڈ (1953ء تا 1993ء)
انٹرنیشنل ٹریڈ اسٹیٹکس (2002-2009ء)
انٹرنیشنل ٹریڈ اسٹیٹکس ایئربک
(1950ء تا 2008ء)
نیشنل اکاؤنٹس اسٹیٹکس (1957ء تا 2011ء)
اسمال انڈسٹری بلیٹن فار ایشیا اینڈ دی پیسفک (1977ء تا 1993ء)
انٹرنیشنل ٹریڈ اسٹیٹکس ایئر بک فار ایشیا اینڈ دی پیسفک (1974ء تا 2009ء)
ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ (1981ء تا 2011ء)
یواین اسٹیٹکس ایئر بک (2002-2010ء) یو این سی ٹی اے ڈی کموڈیٹی ایئربک (1990ء تا 1995ء)
یو این سی ٹی اے ڈی ہینڈ بک آف اسٹیٹکس (2000ء تا 2013ء)
ورلڈ اکنامک اینڈ سوشل سرویز (1994ء تا 2010ء)
ورلڈ اکنامک دی سچویشن اینڈ
پراسپیکٹس (2002-2003ء)
ورلڈ انویسٹمنٹ رپورٹ (1991-2008ء)
ورلڈ ٹریڈ رپورٹ (2004ء تا 2009ء)
ایئربک آف یونائیٹڈ نیشنز (1947ء تا 1995ء)

8۔ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) پبلی کیشنز سیکشن : ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈپازٹری لائبریری کے طور پر اسٹیٹ بینک کی لائبریری کو کتابوں، منتخب ممالک اور اقتصادی جائزے، تکنیکی پیپرز، سالانہ رپورٹس،شماریاتی مطبوعات، قرضوں اور تکنیکی امداد کے منصوبے، ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور عوامی معلوماتی مواد پر مشتمل ایشیائی ترقیاتی بینک کی سرکاری مطبوعات موصول ہوتی ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی مطبوعات کے لیے لائبریری کے گراؤنڈ فلور پر ایک الگ سیکشن قائم کیا گیا ہے۔ بعض اہمشماریاتی مطبوعات کے علاوہ اے ڈی بی کے یک موضوعی دستیاب رسائل کو ذیل میں دیا گیا ہے:

ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک (1989ء تا 2013ء)
اہم اظہاریے (1990ء تا 2013ء)

9۔ پی آئی ڈی ای (پائڈ)کی مطبوعات کا سیکشن: پی آئی ڈی ای کا شمار پاکستان کے اہم تحقیقی و تربیتی اداروں میں ہوتا ہے جس میں ترقیاتی معاشیات پر بالعموم اور پاکستان سے متعلق اقتصادی مسائل پر بالخصوص نظریاتی و تجرباتی تحقیق کی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک لائبریری میں پی آئی ڈی ای کی مطبوعات کے لیے ایک الگ سیکشن دیا گیا ہے جس میں پی آئی ڈی ای کی تمام کتابیں، تحقیقی رپورٹس، پالیسی نوٹس اور ورکنگ پیپرز رکھے گئے ہیں۔

10۔ بجٹ سیکشن: اس سیکشن میں ذیل میں دی گئی بجٹ دستاویزات کی آرکائیو رکھی گئی ہیں:

آزاد جموں و کشمیر (2008-09ء تا موجودہ)
صوبہ بلوچستان (1970-71ء تا موجودہ)
وفاقی حکومت (1947-48ء تا موجودہ)
کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن
(75ء-1974ء تا 2001-2002ء)
این ڈبلیو ایف پی (-711970ء تا موجودہ)
صوبہ پنجاب (-711970ء تا موجودہ)
صوبہ سندھ (-711970ء تا موجودہ)


11۔ گزٹس سیکشن: اس سیکشن میں ذیل میں دیے گئے گزٹ دستاویزات کی آرکائیو رکھی گئی ہیں:

ڈھاکا گزٹ (1949ء تا 1970ء)
حکومت بلوچستان (1971ء تا 1983ء)
گورنمنٹ آف انڈیا (1938ء تا 1965ء)
حکومتِ این ڈبلیو ایف پی (1950ء تا 1983ء)
حکومتِ پاکستان (1970ء تا موجودہ)
حکومتِ پنجاب (1950ء تا 1998ء)
حکومتِ سندھ (1950ء تا 1992ء)
ویسٹ پاکستان گزٹ (1954ء تا 1969ء)


12۔ عمومی سیکشن: کتابیں جو مذکورہ بالا فہرستی سیکشن میں نہیں آتیں انہیں عمومی سیکشن میں ذیل میں دیے گئے زمروں میں رکھا گیا ہے:


عربی زبان کا ذخیرہ
انگریزی/مغربی زبانوں کا ذخیرہ
علاقائی زبانوں کا ذخیرہ
اردو کا ذخیرہ


ب: میعادی جرائد: میعادی جرائد کی زمرہ بندی ذیل میں کی گئی ہے:

1۔ بیرونی رسالے/جرائد
2۔ مقامی رسالے/جرائد
3 ۔ مرکزی بینکوں کی سالانہ رپورٹس
4۔ کمرشل بینکوں کی سالانہ رپورٹس
5۔ کمپنیوں کی سالانہ رپورٹس
6۔ اخبارات

ج) برقی وسائل:

1۔ ای بک ڈیٹا بیسز
اے سی ایم ڈجیٹل لائبریری
ایبسکو ہوسٹ بزنس کور ای بکس ای بریری اکیڈمک کمپلیٹ
آئی ایم ایف ای لائبریری
نیو پیل گریو ڈکشنری آف اکنامکس آن لائن

آکسفرڈ ڈکشنری آن لائن ورلڈ بینک ای لائبریری

2۔ ای جرنلز ڈیٹا بیسز بزنس سورس کمپلیٹ
ایکون لٹ، پورے متن کے ساتھ ایمرلڈ مینجمنٹ ای جرنلز ڈیٹا بیس
آئی ای ٹی ڈجیٹل لائبریری جرنلز
جے ایس ٹی او آر
پروجیکٹ میوز
رسک جرنلز
سائنس ڈائریکٹ (اقتصادیات، اکانومیٹرکس او ر مالیات کا ذخیرہ) اسپرنگر لنک
ٹیلر اینڈ فرانسس جرنلز
ولی بلیک ویل جرنلز


3 ۔ شماریاتی ڈیٹا بیسز
ایریئر آن لائن
بیلنس آف پے منٹس شماریات
ڈائریکشن آف ٹریڈ شماریات
حکومت کی مالی شماریات
انٹرنیشنل فنانشیل شماریات
4۔ سی ڈی روم ڈیٹا بیسز
ایکون لٹ (1969ء تا 2008ء)
انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (ڈیلکس ایڈیشن)
ٹریڈ کین 2005ء
پاپولیشن سینسس ڈیٹا 1998ء
ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹس 1978ء تا 2006ء

5۔ دیگر وسائل
بی آئی ایس انٹرنیشل ڈائریکٹری آف
سینٹرل بینکس
ای آئی ایف آر ایس
اسلامک فنانس نیوز
نیویارک ٹائمز
ایس ایچ آر ایم نالج سینٹر

وسائل کا انتظام مختلف اقسام کے تحریری مواد کے مؤثر انتظام کے لیے درجہ بندی کی مختلف اسکیموں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ کتابوں کے ذخیرے کی درجہ بندی حوالہ جاتی، نادر(RARE)، حکومتی دستاویزات، یونائیٹڈ نیشنز، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور عربی، اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں کے لیے عمومی سیکشنز کے طور پر کی گئی ہے۔ ہر سیکشن میں کتابوں کی درجہ بندی ڈیوی اعشاری درجہ بندی اسکیم کے مطابق کی گئی ہے۔ میعادی رسائل کے لیے ایک الگ سیکشن برقرار رکھا گیا ہے جہاں پر تمام جرائد کو ترتیب دیا گیا ہے، بنیادی طور پر حروف تہجی کے لحاظ سے (عنوان وار) اور پھر ہر عنوان میں معاملات کو زمانی ترتیب (تاریخ وار) کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ بجٹ اور گزٹ دستاویزات کو صوبہ وار رکھا گیا ہے اور مزید زمانی ترتیب کے لحاظ سے رکھا گیا ہے۔ اخبارات کی آرکائیوز ایک الگ کمرے میں رکھی ہیں اور انہیں زمانی ترتیب میں عنوان وار رکھا گیا ہے۔

لائبریری کی تحویل میں تمام کتابیاتی ریکارڈ کو ان ہاؤس تیار کردہ سافٹ ویئر(ایل آئی ایم ایس) استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے اور یہ پورے بینک میں لائبریری آن لائن پبلک ایکس کیٹالوگ کے ذریعے بینک کے مقامی انٹرانیٹ پر سرچ کیا جا سکتا ہے۔ لائبریری نے آزادانہ براؤزنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے اوپن شیلف سسٹم اختیار کر رکھا ہے۔

خدمات
فی الوقت لائبریری کی جانب سے استعمال کنندگان کو ذیل میں دی گئی خدمات کی پیشکش کی جا رہی ہے:

(الف) کتابوں کا اجرا، تجدید اور مخصوص کرنے کی سہولت: تمام رجسٹرڈ ارکان لائبریری کی کتاب عاریتاً پر دینے کی پالیسی کے حق کے مطابق کتب حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی ایک رکن کو جاری کی گئی کتب کو دیگر ارکان اسٹیٹ بینک انٹرانیٹ پر لائبریری پورٹل کے ذریعے مخصوص کرا سکتے ہیں یا وہ اس مقصد میں اعانت کے لیے لائبریری کی ترسیلی ڈیسک سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کتب دیگر ارکان کی جانب سے مخصوص نہیں کی گئیں تو ارکان انہیں، مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل، دوبارہ جاری کرا سکتے ہیں۔

(ب) عکسی نقول سازی (reprographic service): جملہ حقوق قانون سازی کی حدود میں رہتے ہوئے فوٹوکاپی کی خدمات لائبریری میں انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں۔ تاہم، فی الوقت لائبریری میں اسکیننگ اور پرنٹنگ کی سہولت موجود نہیں ہے۔

(ج) موجودہ آگاہی خدمت: ارکان کو نئی کتب کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے نئی مطبوعات کی ماہانہ آمد اور عنوانات الرٹس اسٹیٹ بینک کے تمام ملازمین کو ای میل کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں۔ عام لوگوں کے لیے لائبریری ویب سائٹ پر ان الرٹس پوسٹ کیا جاتا ہے۔

(د)حوالہ توثیق/ تلاش میں اعانت/ حوالہ کی عمومی خدمات: ریڈر سروسز یونٹ کا عملہ بالخصوص اور لائبریری کے دیگر عملے سے بالعموم لٹریچر کی تلاش، حوالہ کی توثیق یا کسی اور دیگر قسم کے عام ریفرنس کے متعلق کسی اور قسم کی توثیق کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

(ہ)دیگر لائبریریوں کو کتاب عاریتاً دینا: اگرچہ اسٹیٹ بینک اور ملک کی دیگر لائبریریوں کے مابین کتاب ادھار پر دینے کے لیے کوئی رسمی معاہدےموجود نہیں تاہم اے ای آر سی، پی آئی ڈی ای، ایل یو ایمز وغیرہ جیسی شراکت دار لائبریریوں سے باہمی بنیادوں پر ضروری مواد کا بندوبست کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

رکنیت
لائبریری ذیل میں دیے گئے معیار کے مطابق رکنیت کی پیشکش کرتی ہے: (الف) اسٹیٹ بینک کے حاضر سروس ملازمین: اسٹیٹ بینک کے تمام حاضر سروس ملازمین کی رکنیت کی درخواستیں ان کی بھرتی کے وقت شعبہ انسانی وسائل کے ذریعے مجوزہ فارمز پر لائبریری کو ارسال کی جاتی ہیں۔ ملازمین اپنی ضرورت کے مطابق کتابیں عاریتاً اجرا کرواسکتے ہیں، ان میں ہرایک کی مدت30 روز ہے جس میں مخصوص نہ کیے جانے کی صورت میں توسیع ہو سکتی ہے۔

(ب) اسٹیٹ بینک کے ریٹائرڈ ملازمین: ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ مجوزہ فارمز پر رکنیت کی درخواست دیتے وقت اسٹیٹ بینک میں کم از کم دس سال کی سروس رکھنے والے حاضر سروس ملازم کی ضمانت فراہم کریں۔ انہیں 30 دن کے لیے بیک وقت 3 کتابیں ادھار لینے کی سہولت دی گئی ہے جن کی مدت میں وہ مختص نہ کیے جانے کی صورت میں توسیع کرا سکتے ہیں۔

ج) لائبریری کے دوست (غیر ملازمین): بشمول طلبہ اور مختلف بزنس اسکولز، بینکار اور کاروباری پروفیشنلز وغیرہ۔ رکنیت بالکل مفت ہے لیکن درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کے کسی حاضر سروس ملازم کی ضمانت جمع کرائیں۔ دوستوں کی رکنیت کے لیے درخواستیں مجوزہ فارمز پر دو رنگین تصاویر اور شناختی کارڈ کی نقل کے ہمراہ لائبریری میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ دوست اراکین بھی بیک وقت تین کتب جاری کرا سکتے ہیں، اور اراکین کی جانب سے مخصوص نہ کرائے جانے کی صورت میں ان کی مدت میں مزید 30 دن تک توسیع ہو سکتی ہے۔

رابطہ:
مزید تفصیلات/معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں

بشیر احمد ضیاء
چیف لائبریرین
فون: 021- 99212460 اور 021- 32453069
فیکس: 021- 99211009
ای میل: [email protected]


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
PUBLICATIONS