اسٹیٹ بینک کے بارے میں/ ڈپٹی گورنرز 



جمیل احمد
ڈپٹی گورنر بینک دولت پاکستان


وفاقی حکومت نے جمیل احمد کو تین سال کی مدت کے لیے بینک دولت پاکستان کا ڈپٹی گورنر تعینات کر دیا ہے۔ ان کا تقرر 11 اپریل 2017ء سے کیا گیا ہے۔

ایک تجربہ کار مرکزی بینکار کی حیثیت سے جناب جمیل احمد کا شاندار کیریئر 26 برسوں پر محیط ہے اور وہ اسٹیٹ بینک اور سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی ) ایس اے ایم اے( میں سینئر عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1991ء سے اسٹیٹ بینک سے وابستہ ہیں۔ ڈپٹی گورنر کے منصب پر فائز ہونے سے قبل وہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر بینکاری نگرانی گروپ اور مالی استحکام کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ آپریشنز، بینکاری پالیسی و ضوابط، ترقیاتی مالیات اور مالی وسائل کے انتظام کے گروپ ہیڈ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں جولائی 2009ء میں سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی )سعودی عرب کے مرکزی بینک( میں بطور مشیر مقرر کیا گیا تھا اور اپریل 2015ء تک یہ عہدہ ان کے پاس رہا۔

جناب جمیل احمد اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کے رکن ہیں۔وہ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر بینکاری نگرانی گروپ اس کمیٹی کے رکن تھے اور اب بطور ڈپٹی گورنر بھی رکن رہیں گے۔ وہ بعض انتظامی کمیٹیوں میں بھی شامل ہیں جن میں بینکاری پالیسی کمیٹی، نظامِ ادائیگی پالیسی کمیٹی، انٹرپرائز رسک مینجمنٹ کمیٹی اور کارپوریٹ مینجمنٹ ٹیم شامل ہیں۔ وہ دو بین الاقوامی کمیٹیوں میں بھی اسٹیٹ بینک کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں مالی استحکام بورڈ )ایف ایس بی( کا کرسپانڈنٹ بینکاری اشتراک گروپ اور بازل کمیٹی برائے بینکاری نگرانی )بی سی بی ایس( کی ٹاسک فورس برائے اثاثوں کا دانشمندانہ انتظام شامل ہیں۔ وہ آئی ایف ایس بی کی تکنیکی کمیٹی اور خطرے کے انتظام، نگرانی جائزہ طریقِ کار، کفایت سرمایہ اور الفا فیکٹر کے تعین کے ورکنگ گروپس کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔

سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی (ایس اے ایم اے) کے ساتھ وابستگی کے دوران جناب جمیل احمد نے بی سی بی ایس کے کئی ورکنگ گروپس/ ٹاسک فورسز میں ایس اے ایم اے کی نمائندگی کی جن میں اس کا بھاری اکتشافات (ایکسپوژرز) گروپ، ریاستی اکتشافات پر اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس، ٹاسک فورس برائے اثاثوں کا دانشمندانہ انتظام اور نگرانی و نفاذ گروپ شامل ہیں۔ وہ ایف ایس بی کے کمپن سیشن مانیٹرنگ گروپ، فنانشل سیفٹی نیٹس پر جی 20 کی ٹاسک فورس، کفایت سرمایہ پر آئی ایف ایس بی کے ورکنگ گروپ اور آئی ایف ایس بی کی پی ایس آئی ایف آئی پر ٹاسک فورس میں سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

وہ انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن، کارپوریٹ اینڈ انڈسٹریل ری اسٹرکچرنگ کارپوریشن (سی آئی آر سی) آرڈیننس آف پاکستان کے تحت تشکیل کردہ توثیقی کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کرنسی نوٹوں اور حکومتی بلوں کی جعلسازی سے نمٹنے کی ٹاسک فورس کے رکن/سیکریٹری کی حیثیت میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ کئی ملکی و بین الاقوامی کمیٹیوں/فورموں پر بھی اسٹیٹ بینک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

جناب جمیل احمد نے 1988ء میں لاہور میں پنجاب یونی ورسٹی سے ایم بی اے کیا اور وہ 1994ء سے انسٹی ٹیوٹ آف کوسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ایف سی ایم اے) کے فیلو رکن ، 1993ء سے انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان (ڈی اے آئی بی پی) کے ایسوسی ایٹ رکن اور 1992ء سے انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکریٹریز آف پاکستان )ایف سی آئی ایس(کے فیلو رکن بھی ہیں۔ علمی/پیشہ ورانہ اسٹڈیز کے دوران نمایاں کامیابیوں پر وہ دو گولڈ میڈل اور میرٹ کے دو سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ 1998ء تا 1999ء کے دوران عالمی بینک کے ایک پروجیکٹ کے تحت وہ بینکاری نگرانی پر جامع آن جاب تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں جس میں امریکہ کے بعض ضوابطی اداروں کے ساتھ مختصر اٹیچ منٹس بھی شامل تھیں۔ انہوں نے جن دیگر تربیتی کورسوں میں شرکت کی ان میں بینکاری نگرانی میں ٹورنٹو سینٹر فار لیڈرشپ، بینک آف انگلینڈ کا سینٹر برائے سینٹرل بینکنگ اسٹڈیز، آئی ایم ایف ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، ایس ای اے سی ای این سینٹر، آفس آف دی سپرنٹنڈنٹ آف فنانشیل انسٹی ٹیوشنز کینیڈا اور بی آئی ایس مالی استحکام انسٹی ٹیوٹ، سوئٹزر لینڈ شامل ہیں۔