-
 |
| |
| SBP Policy Rate |
| 5.75% p.a. |
| |
SBP Overnight
Reverse
Repo (Ceiling) Rate |
| 6.25% p.a. |
| |
SBP Overnight
Repo (Floor) Rate |
| 4.25% p.a. |
|
-
 |
| |
| Overnight Weighted Average Repo Rate |
As on 12-May-17
5.82 % p.a. |
| |
KIBOR
As on 15-May-17 |
| Tenor |
BID |
OFFER |
| 3-M |
5.88 |
6.13 |
| 6-M |
5.89 |
6.14 |
| 12-M |
5.94 |
6.44 |
|
|
-
 |
| |
| MTBs |
| Tenor |
Rates |
| 3-M |
5.9910% |
| 6-M |
6.0109% |
| 12-M |
6.0273% |
|
| PIBs |
| Tenor |
Rates |
| 3-Y |
Bids Rejected |
| 5-Y |
Bids Rejected |
| 10-Y |
Bids Rejected |
| 20-Y |
No Bids Received |
|
GIS
Cut-off Margin over Benchmark*:
-50 bps
* Latest 6-M W.A MTB Rate
|
|
-
 |
MTB Auction
24-May-17 |
| |
| PIB Auction 17-May-17 |
|
 |
| |
| As on 05-May-17 |
SBP’s Reserves |
15,912.5 |
Bank’s Reserves |
4,878.0 |
Total Reserves |
20,790.5 |
|
|
-
 |
| |
| USD/PKR Rates |
| As on 15-May-17 |
| |
M2M
Revaluation Rate |
| 104.8387 |
| |
Weighted
Average Rate |
| Bid: |
104.7352 |
| Offer: |
104.9206 |
|
|
-
|
| اسٹیٹ بینک کا مالی بازاروں میں کردار:
|
1- اسٹیٹ بینک بنیادی طور پر اپنی زری پالیسی کا نفاذ بازار ہائے زر اور مبادلہ کے ذریعے کرتا ہے۔ اپنی زری پالیسی پرعملدرآمد کے لیے اسٹیٹ بینک عملی طور پر قلیل المدت بین البینک شرح سود (شبینہ بازارِ زر ریپو شرح) پر قابو پانے پر توجہ دیتا ہے اور اس کے لیے زری پالیسی کے مختلف آلات او ایم اوز، شرح سود کوریڈور، مطلوبہ محفوظ رقم کی شرائط، زرمبادلہ کا تبدل وغیرہ بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ قلیل المدت شرحیں دیگر طویل المدت بازار کی شرح سود کی ترجمانی کرتی ہیں، جیسے کائبور، جو کاروباری اور گھریلو قرضوں کے لیے نشانیے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ منتقلی کے طریقہ کار کے زمرے میں مختلف غیر یقینی کیفیات میں کمی لاکر اور قلیل المدت شرح سود کو طویل المدت قرضوں کی نرخ کاری سےتبدل کرنے میں بہتری لاکر، موثر مالی بازار نے زری پالیسی کی ترسیل کو زیادہ موثر بنابے اور اس کی استعداد میں اضافہ بنادیا۔
زری پالیسی کے آلات
1- بازار زر کے سودے (OMOs): بازار زر کے سودے مرکزی بینک کا ایک ایسا آلہ ہے جسے بینکاری نظام سے اہل تمسکات کی خریداری یا فروخت کے ذریعے سیالیت کے تقاضوں کے پیش نظر رقوم کے ادخال اور اخراج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نظام کی سیالیت کو قابو میں لانے کے لیے چار اقسام کے بازار زر کے سودے کرتا ہے۔
ادخال- معکوس ریپو(بازار میں پست سیالیت کے حالات پر قابو پانے کے لیے)
اخراج- ریپو(بازار میں بلند سیالیت کے حالات پر قابو پانے کے لیے) یکمشت خرید یا فروخت (طویل المدت سیالیت پر قابو پانے کے لیے)
بیع موجل (اسلامی طریقہ برآئے موخر ادائیگی)
ہل ضمانت: بازار زر کے سودے (ادخالات) قابل تشہیر حکومتی تمسکات (جوکہ ایم ٹی بیز اور پی آئی بیز ہیں) اہل تمسکات ہیں۔ بازار زرے کے سودے (اخراج) کے زمرے میں اسٹیٹ بینک نظام سے اضافی سیالیت نکالنے کے لیے بینکوں کو( ریپو یا یکمشت بنیادوں پر) ایم ٹی بیز فروخت کرتی ہے۔ اسلامی بینکاری نظام میں سیالیت کو قابو کرنے کے لیے بیع موجل شریعت سے ہم آہنگ آلہ ہے، جی او پی اجارہ صکوک اہل تمسکات ہیں۔
اہل کاؤنٹرپارٹیز: بازار زر کے سودوں میں بینک اور پی ڈیز اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں۔ بیع موجل لین دین کے زمرے میں اسلامی بینک اور روایتی بینکوں کے خصوصی شعبہ جاتِ اسلامی بینکاری اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں۔
مدت: روایتی بازار زر کے سودوں کی مدت کے حوالے سے اسٹیٹ بینک پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم عام طور پر اسٹیٹ بینک کم مدت کے (مثلاً 7 سے 14 یوم) بازار زر کے سودے کرتا ہے۔
بازار زر کے سودوں کے عمل کا خاکہ
1) ڈی ایم ایم ڈی(اسٹیٹ بینک) رائٹرز، بلومبرگ اور اسٹیٹ بینک ویب سائٹ کے ذریعے بازار زر کے سودوں کا اعلان کرتا ہے۔
2) بینک رائٹرز سے ڈیل کرنے والے ٹرمنل یا فیکس کے ذریعے اپنی بولیاں دیتے ہیں۔
3)
ڈی ایم ایم ڈی زری پالیسی کے اہداف کے تحت سیالیت اور شرح سود کی ضروریات کی بنیاد پر قطع شرح سود کا فیصلہ کرتا ہے۔
4- وہ بینک جن کی بولیاں قبول کرلی جاتی ہیں، وہ ڈٰی ایم ایم ڈی سے ضمانت یا تمسک اور ان کے نرخوں کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں۔ کراچی کا دفتر ڈی ایم ایم ڈی کو تمسکات کی عرصیت کے خاتمے کے بارے میں مطلع کرتا ہے، جو بازار زر کے سودوں کے لیے بطور تمسک پیش اور نہ ہی تسلیم کیے جاسکتے ہیں۔ تحفظ اور نرخوں کی حتمی منظوری کے بعد بینک تصدیق کے لیے معاہدے ڈی ایم ایم ڈی کو ارسال کرتے ہیں۔
(5 ڈی ایم ایم ڈی معاہدوں کی جانچ پڑتال کے بعد اپنی بولی کا اندراج گلوبس کرتی ہے۔
6) یہ معاہدے اسی روز لین دین کے تصفیے کے لیے اسٹیٹ بینک کے بینکنگ سروسز کارپوریشن (سیکورٹیز ڈویژن) کراچی کے دفتر کو ارسال کیے جاتے ہیں جہاں بینکوں کے بولی/ معاہدے اور ڈیبٹ/ کریڈٹس نقد/ ایس جی ایل اے کھاتوں کا گلوبس نظام کے تحت جائزہ لیا جاتا ہے۔
اسلامی او ایم اوز- بیع موجل
پس منظر:
اسٹیٹ بینک نے اکتوبر 2014ء میں آئی بی آئیز کے لیے بازار زر کے سودے متعارف کرائے۔ ان بازار زر کے سودوں کے تحت اسٹیٹ بینک موخر نظامِ ادائیگی (بیع موجل) کی بنیاد پر جی او پی اجارہ صکوک (جی آئی ایس) ایک سال کی مدت کے لیے خرید سکتا ہے اور مسابقتی نیلامی کے عمل کے ذریعے فوری ادائیگی کی بنیاد پر فروخت کرسکتا ہے۔ یہ طریقے اسٹیٹ بینک کو آئی بی آئیز میں موجود اضافی سیالیت کو قابو کرنے کے ذرائع فراہم کرتے ہیں اور جی او پی کی جانب سے معمول کے مطابق جاری کردہ صکوک کی عدم موجودگی میں زری پالیسی کی ترسیل کی تاثیر کو بہتر بناتے ہیں۔
بیع موجل لین دین کی میکانیت: اسٹیٹ بینک آئی بی آئیز(اسلامی بینکاری ادارے) سے بیع موجل لین دین کے تحت جی او پی اجارہ صکوک کی اسٹیٹ بینک کو فروخت کے لیے موخر نظامِ ادائیگی کی بنیاد پر پیشکشیں طلب کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک قطع نرخ بنیاد پر شرکا کی پیشکشوں کا جائزہ لے کر انہیں قبول کرتا ہے۔
کامیاب بولی دینے والے سودے کے روز ہی (جو عام طور پر نیلامی کے روز جتنی ہی ہوتی ہے) اپنی جی آئی ایس ہولڈنگ اسٹیٹ بینک کو منتقل کردیتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک اس مرحلے پر کامیاب بولی دینے والے کو کوئی نقد ادائیگی نہیں کرتا، بلکہ صرف تصفیے کی تاریخ پر(جو ایک سال ہے) اسٹیٹ بینک آئی بی آئیز کو موخر نرخ ادا کرتا ہے۔
۔
 3- شرح سود کوریڈور
اسٹیٹ بینک کا ٹارگٹ پالیسی ریٹ: اسٹیٹ بینک کا ٹارگٹ پالیسی ریٹ وہ واحد پالیسی ریٹ ہے جو نرخوں میں استحکام کے ساتھ معیشت کلاں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے زری پالیسی کی بابت اسٹیٹ بینک کے موقف کا غیر مبہم اشارہ دیتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ اس کی معینہ سہولتوں یعنی شرح سود کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ حد کے درمیان مقرر کیا جاتا ہے۔ سیالی انتظام کاری کے ذرائع، بنیادی طور پر بازار زر کے سودوں اور حکومتی تمسکات کی یکمشت خریدوفروخت کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسٹیٹ بینک کا ہدف ہوتا ہے کہ بازارِ زر کی اوسط بہ وزن شبینہ ریپوریٹ کو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ٹارگٹ پالیسی ریٹ کے قریب رکھا جائے۔
معینہ سہولتوں کا مقصد شبینہ سیالیت کا انجذاب اور فراہمی، عمومی زری پالیسی موقف کا اشارہ دینا اور بازار کی شبینہ شرح سود کو قابل قبول سطح تک محدود رکھنا ہے۔ اہل کاؤنٹر پارٹیز کو اپنے اقدام کی وساطت سے دومعینہ سہولتیں دستیاب ہیں۔ ان میں اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو(زیادہ سے زیادہ حد) سہولت اور اسٹیٹ بینک کی رپیو(کم از کم حد) سہولت شامل ہیں۔ فی الوقت شرح سود کوریڈور کی وسعت 200 بی پی ایس ہے، جو زیادہ سے زیادہ اور کم از کم شرح کے درمیان فرق ہے۔
اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو( زیادہ سے زیادہ حد) شرح: سیالیت کی کمی کے ادوار میں جدولی بینک، پی ڈیز اور ڈی ایف آئیز اپنی سیالیت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو سہولت استعمال کرتے ہوئے شبینہ بنیادوں پر اسٹیٹ بینک سے فنڈز بطور قرض (اہل ضمانت کے عوض) لے سکتے ہیں۔ فی الوقت شرح سود کی زیادہ سے زیادہ حد اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ کے ہدف سے 50 بی پی ایس زیادہ ہے، جو کلیدی زری پالیسی ریٹ ہے۔ اسٹیٹ بینک ریپو(کم ازکم حد) ریٹ: اضافی سیالیت کے ادوار میں جدولی بینک اور پی ڈٰیز اسٹیٹ بینک ریپو بروئے لاتے ہوئے شبینہ بنیاد پر اپنے اضافی فنڈز(اہل ضمانت کے عوض) اسٹیٹ بینک کے پاس رکھواسکتے ہیں۔ فی الوقت کم ازکم ریٹ 150 بی پی ایس ہے جو اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کے ہدف سے کم ہے، یہ کلیدی زری پالیسی ریٹ ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگست 2009ء میں "شرح سود کوریڈر" (آئی آر سی) قائم کیا، جس میں اسٹیٹ بینک معکوس ریپو ریٹ کو زیادہ سے زیادہ پالیسی ریٹ اوراسٹیٹ بینک ریپو ریٹ کو کم ازکم ریٹ مقرر کے طور پر مقرر کیا گیا۔ اہل ضمانت: اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو(زیادہ سے زیادہ حد) سہولت کے لیے قابل تشہیر حکومتی تمسکات (جوکہ ایم ٹی بیز اور پی آئی بیز ہیں) اہل ضمانت ہے۔ اسٹیٹ بینک ریپو(کم سے کم حد) سہولت کے تحت اسٹیٹ بینک اضافی سیالیت کو اپنے پاس اکٹھا کرنے کے لیے ایم ٹی بیز(ریپو فروخت کے تحت) بینکوں کو فروخت کرتا ہے۔ اہل کاؤنٹر پارٹیز: اسٹیٹ بینک معکوس ریپو (زیادہ سے زیادہ حد) سہولت کے لیے جدولی بینک، پی ڈیز، ڈٰی ایف آئیز اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں، تاہم صرف شیڈول بینک ہی اسٹیٹ بینک ریپو(کم از کم حد) سہولت سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔
معینہ سہولتوں کا خاکہ
1- بینک شرح سود راہداری کی زیادہ سے زیادہ اور کم از کم حد تک رسائی کے لیے ڈی ایم ایم ڈٰی سے رابطہ کرتے ہیں۔
2- بینک مطلوبہ رقم کے حوالےسے مطلع کرنے کے ساتھ ڈی ایم ایم ڈی کو ضمانت یا رہن کی تفصیلات اور ان کے نرخوں کی توثیق کرتا ہے۔
3- ڈی ایم ایم ڈی معاہدوں کی تصدیق کرتا ہے اور اپنی بولیوں کا اندراج گلوبس میں کرتا ہے۔
4- یہ معاہدے اسی روز لین دین کے تصفیے کے لیے اسٹیٹ بینک کے بینکنگ سروسز کارپوریشن (سیکورٹیز ڈویژن) کراچی کے دفتر کو ارسال کیے جاتے ہیں جہاں بینکوں کے بولی/ معاہدے اور ڈیبٹ/ کریڈٹس نقد/ ایس جی ایل اے کھاتوں کا گلوبس نظام کے تحت جائزہ لیا جاتا ہے۔
شرح سود کوریڈور کا تاریخی جائزہ: اسٹیٹ بینک نے اگست 2009ء میں ایک شرح سود کوریڈور متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد قلیل المدت شرح سود میں تغیرپذیری کو کم کرنا تھا،تاکہ نرخوں میں استحکام لایا جاسکے۔ شرح سود کوریڈور (آئی آر سی) کا طریق اختیار کرنے سے شبینہ بازارِ زر ریپو شرح میں تغیرپذیری کم ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کے شرح سود کوریڈور کے ڈھانچے پر مئی 2015ء میں نظرثانی کی گئی۔ زری پالیسی کی ترسیل میں استحکام
اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کے آپریشنل طریقہ کار کو بین الاقوامی روایات سے ہم آہنگ کرنا
اسٹیٹ بینک نے راہداری میں اسٹیٹ بینک معکوس ریپو شرح (زیادہ سے زیادہ حد) اور اسٹیٹ بینک ریپو شرح (کم از کم حد) کے ساتھ شبینہ بازارِ زر ریپو شرح کے لیے بطور "اسٹیٹ بینک ٹارگٹ ریٹ" ایک نیا پالیسی ریٹ متعارف کرایا۔ او / این ریپو ریٹ شرح ہدف وہ واحد پالیسی ریٹ ہے جو اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی موقف کا غیر مبہم طور پر اشارہ کرتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ ہدف اختیار کیے جانے سے شبینہ بازارِ زر ریپو شرح کا آپریشنل ہدف مجوزہ پالیسی ریٹ سے منسلک ہوگیا (جوکہ اسٹیٹ بینک کا ٹارگٹ ریٹ ہے)۔ اسٹیٹ بینک غیر مبہم طور پر زری پالیسی کے موقف کے حصول کے لیے بازارِ زر اوسط بہ وزن شبینہ ریپو شرح کو اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ ریٹ سے قریب رکھنے کا ہدف مقرر کرتا ہے۔
4۔ مطلوبہ محفوظ رقم کی شرائط - مطلوبہ محفوظ نقد کی شرط - مطلوبہ محفوظ نقد بینکوں کے کُل واجبات یا اس کا کچھ ذیلی مجموعے کا چند فیصد ہوتا ہے، جسے مرکزی بینک کی جانب سے بطور محفوظ رکھے جانے کی شرط عائد ہوتی ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت (1956 کے اسٹیٹ بینک کے ایکٹ کی دفعہ 36)، تمام جدولی کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں، اسلامی بینکوں اور کمرشل بینکوں کی اسلامی بینکاری کی ذیلی شاخوں پر یہ شرط عائد ہےکہ وہ اپنے واجبات کا کچھ حصہ نقدی کی صورت میں اسٹیٹ بینک میں رکھوائیں۔ - تمام بینکوں پر(بشمول اسلامی بینک یا شاخوں) مطلوبہ محفوظ نقد کے عرصے کے دوران 5 فیصد واجبات (بشمول ایک سال سے کم مدت کی وقتی امانتیں) بطور مطلوبہ محفوظ نقد رکھنے کے پابند ہیں، تاہم روزانہ کی کم از کم شرط 3 فیصد ہے۔ وقتی واجبات(بشمول ایک سال یا اس سے زائد کی وقتی امانتیں) کو محفوظ نقد سے مستثنیٰ ہیں۔ ڈی ایف آئیز کے لیے 1 فیصد ڈی ٹی ایل پر 15 روزہ اوسط مطلوبہ محفوظ نقد بینک اسی طرح 5 فیصد نقدی بطور محفوظ نقد جمع کرانے اور غیرملکی کرنسی میں امانتوں کے عوض 15 فیصد مطلوبہ محفوظ خصوصی نقد جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔ - مطلوبہ محفوظ نقد کے زمرے میں قابل اطلاق ڈی ٹی ایل کے تعین کے لیے، جمعے کے روز کاروبار کے اختتام پر مطلوبہ محفوظ نقد کے تعین کے لیے زمانی اور طلبی واجبات (ٹی ڈی ایل) کو پیمانہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر جمعے کو تعطیل ہو تو پھر اس سے قبل کاروباری روز کے اختتام کو ٹی ڈٰی ایل گردانا جاتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک مطلوبہ یا اضافی محفوظ نقد کی ادائیگی نہیں کرتا۔
|
|




 

|