مالی بازار 

  •  
    SBP Policy Rate
    13.25% p.a.
     
    SBP Overnight
    Reverse
    Repo (Ceiling) Rate
    13.75% p.a.
     
    SBP Overnight
    Repo (Floor) Rate
    11.75% p.a.
  •  
    Overnight Weighted Average Repo Rate
    As on 12-Dec-19
    13.25% p.a.
     
    KIBOR
    As on 13-Dec-19
    Tenor BID OFFER
    3-M 13.25 13.50
    6-M 13.24 13.49
    12-M 12.83 13.33
         
     

  • MTBs
    Tenor Rates
    3-M 13.5391%
    6-M 13.2899%
    12-M 13.1400%
    (as on Dec 04, 2019)

    PIBs (Fixed Rate)

    Tenor Rates
    3-Y 11.7500%
    5-Y 11.1939%
    10-Y 10.9968
    20-Y Bids rejected
    (as on Dec 11, 2019)

    PIBs (Floating Rate)

    Tenor Cut-off Price*
    10-Y 101.7689

    (as on Dec 11, 2019)

    *Over benchmark rate.

    rate of latest 6-M W.A

    MTB Rate
    (as on Oct 30, 2019)


  • MTB Auction
    31-December-19

    PIB Auction
    08-January-19
    As on 06-Dec-19
    SBP’s Reserves
    9,233.6
    Bank’s Reserves
    6,814.5
    Total Reserves
    16,048.1

  •  
    USD/PKR Rates
    As on 13-Dec-19
     
    M2M
    Revaluation Rate
    154.9613
     
    Weighted
    Average Rate
    Bid: 154.7483
    Offer: 155.1228
       
     
مالی بازاروں میں اسٹیٹ بینک کا کردار  

1- اسٹیٹ بینک بنیادی طور پر اپنی زری پالیسی کا نفاذ بازار ہائے زر اور مبادلہ کے ذریعے کرتا ہے۔ اپنی زری پالیسی پرعملدرآمد کے لیے اسٹیٹ بینک عملی طور پر قلیل المدت بین البینک شرح سود (شبینہ بازارِ زر ریپو شرح) پر قابو پانے پر توجہ دیتا ہے اور اس کے لیے زری پالیسی کے مختلف آلات او ایم اوز، شرح سود کوریڈور، زر بنیاد ، زرمبادلہ کا تبدل وغیرہ بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ قلیل المدت شرحیں دیگر طویل المدت بازار کی شرح سود کی ترجمانی کرتی ہیں، جیسے کائبور، جو کاروباری اور گھریلو قرضوں کے لیے نشانیے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ترسیلی میکانیت کے اندر مختلف غیر یقینی کیفیات میں کمی لاکر اور قلیل المدت شرح سود کی طویل المدت قرضوں کی نرخ کاری میں منتقلی میں بہتری لاکر، موثر مالی بازار زری پالیسی کی ترسیل کو زیادہ موثر بناتے ہیں۔


زری پالیسی کے طریقہ ہائے کار
1- بازار زر کے سودے بازار زر کے سودے ایک ایسا طریقہ کار ہے جسے کوئی مرکزی بینک سیالیت کے تقاضوں کے پیش نظربینکاری نظام سے اہل تمسکات کی خریداری یا فروخت کے ذریعے رقوم کے ادخال اور اخراج کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عملی طور پر بازار زر کے سودوں (ادخالات) کے ضمن میں اسٹیٹ بینک نظام میں سیالیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے بینکوں یا پی ڈیز کو اہل ضمانتوں کے عوض فنڈز بطور قرض دیتا ہے۔ بازار زر کے سودوں (اخراج) میں اسٹیٹ بینک نظام سے اضافی سیالیت کو نکالنے کے لیے بینکوں کو فنڈز کے عوض ایم ٹی بیز فروخت کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نظام کی سیالیت کا انتظام سنبھالنے کے لیے چار اقسام کے بازار زر کے سودے کرتا ہے۔

ادخال-  معکوس ریپو (بازار میں شارٹ پوزیشن سے نمٹنے کے لیے)
اخراج-  ریپو (بازار میں لانگ پوزیشن سے نمٹنے کے لیے)
یکمشت خرید یا فروخت  (طویل المدت انتظام سیالیت کے لیے)
بیع موجل  (اسلامی طریقہ برائے موخر ادائیگی)

اہل ضمانت:
بازار زر کے سودوں (ادخالات) کے لیے قابل خریدوفروخت حکومتی تمسکات (ایم ٹی بیز اور پی آئی بیز) اہل تمسکات ہیں۔ بازار زرے کے سودوں (اخراج) کے زمرے میں اسٹیٹ بینک نظام سے اضافی سیالیت نکالنے کے لیے بینکوں کو( ریپو یا یکمشت بنیادوں پر) ایم ٹی بیز فروخت کرتا ہے۔ اسلامی بینکاری نظام میں انتظام سیالیت کے لیے بیع موجل شریعت سے ہم آہنگ طریقہ ہے، حکومت پاکستان اجارہ صکوک اہل تمسکات ہیں۔ اہل کاؤنٹرپارٹیز: بازار زر کے سودوں کے لیے بینک اور پی ڈیز اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں۔ بیع موجل لین دین کے زمرے میں اسلامی بینک اور روایتی بینکوں کے خصوصی شعبہ جاتِ اسلامی بینکاری اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں۔
مدت:
روایتی بازار زر کے سودوں کی مدت کے حوالے سے اسٹیٹ بینک پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم عام طور پر اسٹیٹ بینک کم مدت (مثلاً 7 سے 14 یوم) کے بازار زر کے سودے کرتا ہے۔

بازار زر کے سودوں کے عمل کا خاکہ
•  ڈی ایم ایم ڈی(اسٹیٹ بینک)رائٹرز، بلومبرگ اور ایس بی پی ویب کے ذریعے بازار زر کے سودوں کا اعلان کرتا ہے۔
•  بینک رائٹرز سے ڈیل کرنے والے ٹرمنل یا فیکس کے ذریعے اپنی بولیاں دیتے ہیں۔
•  ڈی ایم ایم ڈی زری پالیسی کے اہداف کے تحت سیالیت اور شرح سود کی ضروریات کی بنیاد پر قطع شرح سود کا فیصلہ کرتا ہے۔
•  وہ بینک جن کی بولیاں قبول کرلی جاتی ہیں، وہ ڈٰی ایم ایم ڈی سے ضمانت یا تمسک اور ان کے نرخوں کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں۔ کراچی آفس ڈی ایم ایم ڈی کو ان تمسکات کے بارے میں مطلع کرتا ہے، جوشٹ پیریڈ میں ہوں اور بازار زر کے سودوں کے لیے بطور ضمانت پیش اور قبول نہیں کی جاسکتیں۔ ضمانت اور نرخوں کی حتمی منظوری کے بعد بینک تصدیق کے لیے معاہدے ڈی ایم ایم ڈی کو ارسال کرتے ہیں۔
•  ڈی ایم ایم ڈی معاہدوں کی جانچ پڑتال کے بعد اپنی بولی کا اندراج گلوبس میں کرتا ہے۔
•  یہ معاہدے اسی روز لین دین کے تصفیے کے لیے اسٹیٹ بینک کے بینکنگ سروسز کارپوریشن (سیکورٹیز ڈویژن) کراچی آفس کو ارسال کیے جاتے ہیں جہاں بینکوں کے بولی؍معاہدے اور ڈیبٹ/ کریڈٹس نقد/ ایس جی ایل اے کھاتوں کا گلوبس نظام کے تحت جائزہ لیا جاتا ہے۔

اسلامی او ایم اوز- بیع موجل

پس منظر
اسٹیٹ بینک نے اکتوبر 2014ء میں اسلامی بینکاری اداروں کے لیے بازار زر کے سودے متعارف کرائے۔ ان بازار زر کے سودوں کے تحت اسٹیٹ بینک موخر نظامِ ادائیگی (بیع موجل) کی بنیاد پر حکومت پاکستان اجارہ صکوک (جی آئی ایس) ایک سال کی مدت کے لیے خرید سکتا ہے اور مسابقتی نیلامی کے عمل کے ذریعے فوری ادائیگی کی بنیاد پر فروخت کرسکتا ہے۔ یہ طریقے اسٹیٹ بینک کو اسلامی بینکاری اداروں میں موجود اضافی سیالیت کو قابو کرنے کے ذرائع فراہم کرتے ہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے معمول کے مطابق جاری کردہ صکوک کی عدم موجودگی میں زری پالیسی کی ترسیل کی تاثیر کو بہتر بناتے ہیں۔

بیع موجل لین دین کی میکانیت:

بیع موجل لین دین کے تحت اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری اداروں سے حکومت پاکستان اجارہ صکوک کی اسٹیٹ بینک کو موخر ادائیگی کی بنیاد پر فروخت کے لیے پیشکشیں طلب کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک قطع نرخ بنیاد پر شرکا کی پیشکشوں کا جائزہ لے کر انہیں قبول کرتا ہے۔

کامیاب بولی دینے والے سودے کے روز ہی (جو عام طور پر نیلامی کے روز ہوتا ہے) اپنی جی آئی ایس ہولڈنگ اسٹیٹ بینک کو منتقل کردیتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک اس مرحلے پر کامیاب بولی دینے والے کو کوئی نقد ادائیگی نہیں کرتا، بلکہ صرف تصفیے کی تاریخ پر(یعنی ایک سال بعد) اسلامی بینکاری اداروں کو موخر نرخ ادا کرتا ہے۔

بیع موجل کے لین دین کے عمل کا تصویری خاکہ

فلو چارٹ
شرح سود کوریڈور  -3
ایس بی پی ٹارگٹ پالیسی ریٹ: ایس بی پی ٹارگٹ پالیسی ریٹ وہ واحد پالیسی ریٹ ہے جو نرخوں میں استحکام کے ساتھ معیشت کلاں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے زری پالیسی کی بابت اسٹیٹ بینک کے موقف کا غیر مبہم اشارہ دیتا ہے۔ ایس بی پی پالیسی ریٹ اسٹیٹ بینک کی حاضر سہولتوں یعنی شرح سود کوریڈور کی زیریں اور بالائی حدود کے درمیان مقرر کیا جاتا ہے۔ انتظام سیالیت کے ذرائع، یعنی زیادہ تر بازار زر کے سودوں اور حکومتی تمسکات کی یکمشت خریدوفروخت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسٹیٹ بینک کا ہدف ہوتا ہے کہ بازارِ زر کے اوسط بہ وزن شبینہ ریپوریٹ کو ایس بی پی ٹارگٹ پالیسی ریٹ کے قریب رکھا جائے۔

حاضر سہولتوں کا مقصد شبینہ سیالیت کا انجذاب اور فراہمی، عمومی زری پالیسی موقف کا اشارہ دینا اور بازار کی شبینہ شرح سود کو قابل قبول سطح تک محدود رکھنا ہے۔ اہل کاؤنٹر پارٹیز کو دو حاضر سہولتیں دستیاب ہیں۔ ان میں اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو(بالائی حد) سہولت اور اسٹیٹ بینک کی رپیو(زیریں حد) سہولت شامل ہیں۔ فی الوقت شرح سود کوریڈور کی وسعت 200 بی پی ایس ہے، جو بالائی اور زیریں ریٹ کے درمیان فرق ہے۔

اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو( بالائی حد) شرح: سیالیت کی کمی کے وقت جدولی بینک، پی ڈیز اور ڈی ایف آئیز اپنی سیالیت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو سہولت استعمال کرتے ہوئے شبینہ بنیادوں پر اسٹیٹ بینک سے فنڈز بطور قرض (اہل ضمانت کے عوض) لے سکتے ہیں۔ فی الوقت شرح سود کی بالائی حد ایس بی پی ٹارگٹ پالیسی ریٹ یعنی کلیدی زری پالیسی شرح سے 50 بی پی ایس زیادہ ہے۔

اسٹیٹ بینک ریپو(زیریں حد) ریٹ: اضافی سیالیت کے وقت جدولی بینک اور پی ڈٰیز اسٹیٹ بینک ریپو سہولت بروئے لاتے ہوئے شبینہ بنیاد پر اپنے اضافی فنڈز(اہل ضمانت کے عوض)اسٹیٹ بینک کے پاس رکھواسکتے ہیں۔ فی الوقت زیریں شرح اسٹیٹ بینک ٹارگٹ پالیسی ریٹ یعنی کلیدی زری پالیسی شرح سے 150 بی پی ایس کم ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگست 2009ء میں "شرح سود کوریڈر" (انٹرسٹ ریٹ کوریڈور، آئی آر سی) قائم کیا، جس میں اسٹیٹ بینک معکوس ریپو ریٹ کو بالائی حد اوراسٹیٹ بینک ریپو ریٹ کو زیریں حد مقرر کیا گیا۔

اہل ضمانت: اسٹیٹ بینک کی معکوس ریپو(بالائی حد) سہولت کے لیے قابل خریدوفروخت حکومتی تمسکات (جوکہ ایم ٹی بیز اور پی آئی بیز ہیں) اہل ضمانت ہیں۔ اسٹیٹ بینک ریپو(زیریں حد) سہولت کے تحت اسٹیٹ بینک اضافی سیالیت کو اپنے پاس اکٹھا کرنے کے لیے ایم ٹی بیز(ریپو فروخت کے تحت) بینکوں کو فروخت کرتا ہے۔

اہل کاؤنٹر پارٹیز: اسٹیٹ بینک معکوس ریپو (بالائی حد) سہولت کے لیے جدولی بینک، پی ڈیز، ڈی ایف آئیز اہل کاؤنٹر پارٹیز ہیں، تاہم اسٹیٹ بینک ریپو(زیریں حد) سہولت سے صرف جدولی بینک ہی استفادہ سکتے ہیں۔

حاضر سہولتوں کا خاک
1- بینک شرح سود راہداری کی بالائی ؍زیریں حد تک رسائی کے لیے ڈی ایم ایم ڈی سے رابطہ کرتے ہیں۔
2- بینک مطلوبہ رقم سے مطلع کرتے ہیں اور ڈی ایم ایم ڈی کو ضمانت ؍سیکورٹی کی تفصیلات اور نرخوں کی توثیق کرتے ہیں۔ضمانت اور نرخوں کی توثیق کے بعد بینک ڈی ایم ایم ڈی کو معاہدے بھیجتے ہیں تاکہ تصدیق کی جاسکے۔
3- ڈی ایم ایم ڈی معاہدوں کی تصدیق کرتا ہے اور بولیوں کا اندراج گلوبس میں کرتا ہے۔
4- یہ معاہدے اسی روز لین دین کے تصفیے کے لیے ایس بی پی بی ایس سی کراچی آفس (سیکورٹیز ڈویژن) کو ارسال کیے جاتے ہیں ۔ کراچی آفس بینکوں کی بولیوں؍معاہدوں اور ڈیبٹ؍کریڈٹ نقد؍ایس جی ایل اے کھاتوں کا گلوبس نظام کے تحت جائزہ لیتا ہے۔

شرح سود کوریڈور کا تاریخی جائزہ:
اسٹیٹ بینک نے اگست 2009ء میں ایک شرح سود کوریڈور متعارف کرایا جس کا مقصد قلیل المدت شرح سود میں تغیرپذیری کو کم کرنا تھاتاکہ نرخوں میں استحکام لایا جاسکے۔
شرح سود کوریڈور (آئی آر سی) کا طریق اختیار کرنے کے بعد سے شبینہ بازارِ زر ریپو شرح میں تغیرپذیری کم ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے شرح سود کوریڈور کے ڈھانچے پر مئی 2015ء میں نظرثانی کی گئی تاکہ:تا

زری پالیسی کی ترسیل کو بہتر بنایا جاسکے o
اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی آپریشنل فریم ورک کو بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق بنایا جاسکے o
اسٹیٹ بینک نے کوریڈور کے ایس بی پی معکوس ریپو (بالائی حد) اور ایس بی پی ریپو (زیریں حد) کے علاوہ ایک نیا پالیسی ریٹ شبینہ بازارِ زر ریپو کے لیے متعارف کرایا جسے ’’ایس بی پی ٹارگٹ ریٹ‘‘ کا نام دیا گیا ۔ شبینہ ریپو ریٹ ٹارگٹ وہ واحد پالیسی ریٹ ہے جو اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی موقف کا غیر مبہم طور پر اشارہ دیتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ایس بی پی ٹارگٹ پالیسی ریٹ اختیار کر کے آپریشنل ہدف یعنی بازارِ زر کے شبینہ ریپو ریٹ کو مجوزہ پالیسی ریٹ (جو کہ ایس بی پی ٹارگٹ ریٹ ہے)سے منسلک کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا مقصد یہ ہے کہ بازارِ زر کا بہ وزن اوسط شبینہ ریپو ریٹ ایس بی پی ٹارگٹ ریٹ سے قریب رہے تاکہ اپنے زری پالیسی موقف کو غیر مبہم طور پر زیرِ ہدف رکھا جائے۔

4۔ مطلوبہ محفوظ نقد و سیّال
- مطلوبہ نقدِ محفوظ :
- مطلوبہ نقدِ محفوظ بینکوں کے کُل واجبات یا ان کے ذیلی حصے کا کچھ فیصد ہوتا ہے، جو انہیں مرکزی بینک کے پاس بطور محفوظ رکھوانا پڑتا ہے۔
- موجودہ ضوابط (1956ء کے ایس بی پی ایکٹ کی دفعہ 36) کے تحت تمام جدولی کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں، اسلامی بینکوں اور کمرشل بینکوں کی اسلامی بینکاری ذیلی شاخوں پر یہ شرط عائد ہےکہ وہ اپنے واجبات کا کچھ حصہ نقدی کی صورت میں اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوائیں۔
- تمام بینک(بشمول اسلامی بینک/ شاخیں) اس بات کے پابند ہیں کہ نقدِ محفوظ برقرار رکھنے کے عرصے کے دوران مجموعی طلبی واجبات کا 5 فیصد (بشمول ایک سال سے کم مدت کی میعادی امانتیں) مطلوبہ نقدِ محفوظ کے طور پر رکھوائیں تاہم یومیہ کم از کم شرط 3 فیصد ہے۔ میعادی واجبات(بشمول ایک سال یا اس سے زائد مدت کی میعادی امانتیں) مطلوبہ نقدِ محفوظ نقد سے مستثنیٰ ہیں۔
- ڈی ایف آئیز پر عائد 15 روزہ اوسط مطلوبہ نقدِ محفوظ میعادی و طلبی واجبات کا ایک فیصد ۔
- اسی طرح بینک 5 فیصد بطور مطلوبہ نقدِ محفوظ اور غیرملکی کرنسی میں امانتوں کے معاملے میں 15 فیصد بطور خصوصی مطلوبہ نقدِ محفوظ جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔
- مطلوبہ نقدِ محفوظ پر قابل اطلاق ڈی ٹی ایل کے تعین کے لیے، جمعے کے روز (جو نقدِ محفوظ کی برقراری کی مدت کا پہلا دن ہے) کاروبار کے اختتام پر موجود میعادی و طلبی واجبات کو پیمانہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر جمعے کو تعطیل ہو تو اس سے قبل کے یومِ کار کے اختتام کو پیمانہ مانا جاتا ہے۔
- واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک مطلوبہ یا اضافی نقدِ محفوظ کی ادائیگی نہیں کرتا۔